یونس احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد یونس احمد ٹیسٹ کیپ نمبر 62
Younas Ahmed.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیبائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیبائیں ہاتھ کا گیند باز
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس لسٹ اے
میچ 4 2 460 326
رنز بنائے 177 84 26073 8297
بیٹنگ اوسط 29.50 42.00 40.48 29.52
100s/50s -/1 -/1 46/144 7/46
ٹاپ اسکور 62 58 221* 115
گیندیں کرائیں 6 - 4330 1419
وکٹ - - 49 32
بالنگ اوسط - - 42.87 31.87
اننگز میں 5 وکٹ - - - -
میچ میں 10 وکٹ - n/a - n/a
بہترین بولنگ - - 4/10 4/37
کیچ/سٹمپ -/- 1/- 244/- 74/-
ماخذ: [1]، 21 اگست 2012

محمد یونس احمد انگریزی:Mohammad Younis Ahmed(پیدائش:20اکتوبر،1947ءجالندھر (اب جالندھر)، پنجاب، ہندوستان) سابق کرکٹر ہیں[1] جنہوں نے1969ء اور 1987ء کے درمیان 4 ٹیسٹ میچ اور 2 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے وہ بنیادی طور پر ایک مڈل آرڈر بلے باز تھے جس نے پاکستان ایجوکیشن بورڈ، کراچی، لاہور، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، سرے جو 1971ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتنے والی ٹیم تھی کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ، وورسٹر شائر، گلیمورگن اور جنوبی آسٹریلیا کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی باوجود اس کے کہ وہ ایک ایسے کھلاڑی تھے جس نے اپنے پورے کیرئیر میں مسلسل کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن ٹیسٹ میچوں میں اس کا وقفہ، 17 سال اور 111 دن (104 ٹیسٹ، تاریخ کا چوتھا طویل ترین تھا اور اس کے بعد جزوی طور پر 1973ء کے آخر میں DH Robins' XI کے ساتھ جنوبی افریقہ کے دورے میں ان کی شرکت ممکن ہوئی تھی۔ 1958ء سے 1973ء کے درمیان پاکستان کے لیے کھیلنے والے سعید احمد کے چھوٹے بھائی، یونس نے مارچ 1962ہ میں ساؤتھ زون کے خلاف پاکستان ایجوکیشن بورڈ کے لیے 14 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا صرف تین سال بعد وہ اپریل 1965ء میں سرے کاونئی کے لیے کرکٹ شروع کرنے کے لیے انگلینڈ پہنچے۔ انہوں نے اس کاؤنٹی کے لیے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ دو ماہ بعد جنوبی افریقہ کی ٹورنگ پارٹی کے خلاف کھیلا اور 1967ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ کا آغاز کیا۔ وہ 1978ء تک سرے کے ساتھ رہے اور 1971ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ جیتنے والی ٹیم کا کلیدی حصہ بن گئے۔ تاہم کلب کی جانب سے اپنے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کے بعد انہوں نے سخت حالات میں سرے کاونٹی کو چھوڑنے کا سخت فیصلہ کیا تھا جسے آج بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اوول چھوڑنے کے بعد یونس کو ووسٹر شائر نے سائن کیا اور وہ 1979ء اور 1983ء کے درمیان چار سال تک وہاں کھیلے۔ تاہم اس کاؤنٹی نے بھی ان کا معاہدہ منسوخ کر دیا جب یہ الزامات سامنے آئے کہ یونس احمد نے اپنی کاؤنٹی کے ہارنے کے لیے شرطیں لگائی تھیں مگر ان الزامات کو یونس نے یکسر انداز میں مسترد کیا تھا۔ یونس احمد نے اپنے انگلش کھیل کے کیریئر کا اختتام گلیمورگن کاونٹئی سے کیا جہاں وہ اپنے ہم وطن جاوید میانداد کے ساتھ کھیلے۔ یونس احمد 1972/73ء کے سیزن میں جنوبی آسٹریلیا کے لیے بھی کھیلت، انہوں نے ڈونالڈ بریڈمین کی سفارش پر غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر کام کیا۔ بدقسمتی سے، وہ اپنے ساتھیوں میں مقبول نہیں تھے، انہوں نے 1969ء میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے کھیلتے ہوئے قائد اعظم ٹرافی جیتی، یقیننا وہ ایسے میچز تھے جنہیں یونس احمد نے اپنے بین الاقوامی ڈیبیو سے قبل کنڈیشنز کی عادت ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی[ترمیم]

1969ء سے 1987ء کے عرصہ میں یونس احمد نے پاکستان کی طرف سے 4 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا۔یونس احمد نے 1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچ کھیلے۔ان کو 1969ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 220 رنز سکور کئے تھے۔ سعادت محمد 69 رنز کے ساتھ نمایاں سکورر تھے۔ یونس احمد نے تیسرے نمبر پر کھیلتے ہوئے صرف 8 رنز سکور کئے۔ 25 منٹ تک کریز کے دوران قیام کیا لیکن جیف ہاروتھ کی ایک گیند پر ڈولنگ کو ایک آسان سا کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔ دوسری اننگز میں یونس احمد سنبھل کر کھیلے اور انہوں نے 8 وکٹوں پر 283 رنز ڈکلیئر کرنے سے پہلے 62 رنز بنا لئے تھے۔ 11 چوکوں کی مدد سے 180 منٹ میں انہوں نے سنبھل کر بیٹنگ کی۔ تاہم یہ ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف اگلے ٹیسٹ میں وہ ایک اننگ میں صرف 19 رنز ہی بنا سکے تاہم، پاکستان کرکٹ بورڈ نے 1973ء کے آخر میں DH Robins' XI کے نسل پرست جنوبی افریقہ کے دورے میں شرکت کرنے پر ان پر کسی بھی قسم کی کرکٹ میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم بعدازاں ان پر یہ پابندی 1979ء میں واپس لے لی گئی، لیکن یونس احمد 1987ء تک بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ میں واپس نہیں آئے۔یونس احمد کو 1987ء میں 18 سال کے طویل عرصہ کے بعد ایک مرتبہ پھر ٹیم میں جگہ دی گئی جب ان پر لگی ہوئی پابندی کو ہٹا لیا گیا تھا۔ یہ بھارت کے خلاف 2 ٹیسٹ میچ تھے جو پاکستان نے 1987ء میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ جے پور کے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 14 رنز بنائے جبکہ احمد آباد کے آخری ٹیسٹ میں پہلی اننگ میں 40 اور دوسری اننگ میں 34 ناٹ آئوٹ رنز بنا کر انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام کیا۔

اعداد و شمار[ترمیم]

یونس احمد نے 4 ٹیسٹ میچوں کی 7 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آئوٹ رہتے ہوئے 177 رنز بنائے۔ ان کا سب سے زیادہ سکور 62 تھا جبکہ انہیں فی اننگ اوسط 29.50 حاصل ہوئی جبکہ 2 ایک روزہ میچوں میں انہوں نے دو اننگز میں بغیر آئوٹ ہوئے 84 رنز بنائے جس میں 58 ان کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ 42.00 کی اوسط کیلئے انہوں نے 6 چوکے بھی لگائے۔ یونس احمد کے فرسٹ کلاس کیریئر کا جائزہ لیں تو انہوں نے 460 میچوں کی 762 اننگز میں 118 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 26073 رنز سکور کئے۔ 40.48 کی اوسط کے ساتھ بننے والے اس سکور میں 221 ناقابل شکست ان کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ انفرادی سکور تھا۔ 46 سنچریوں اور 144 نصف سنچریاں اس سکور کے بنانے میں معاون ثابت ہوئی تھیں جبکہ 244 کیچز بھی ان کی عمدہ کارکردگی کے عکاس تھے۔ انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 2101 رنز دے کر 49 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی تھیں۔ 4/10 ان کی بہترین بولنگ پرفارمنس تھی جس کی مدد سے انہیں 42.87 رنز فی وکٹ اوسط حاصل ہوئے[2]

حوالہ جات[ترمیم]