یہودیت میں محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہودیت میں محمد (انگریزی: Judaism's views on Muhammad) کا تذکرہ خال خال ہی ملتا ہے۔ اور جہاں ان کے بارے میں لکھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف سے وحی آنے کے دعوی کا انکار ہوتا ہے اور ان کو جھوٹا نبی شمار کیا جاتا ہے۔

پس منظر[ترمیم]

یہودیت میں نبی کو سب سے زیادہ مقدس، سب سے بڑا عالم اور خدا کا سب سے مقرب مانا جاتا ہے۔ اور انسانیت میں سب سے مکمل شخصیت اور تمام انسانیت کے لیے نمونہ تصور کیا جاتا ہے۔ تلمود میں مذکور ہے کہ دنیا میں ایک ملین سے زیادہ نبی تشریف لائے۔ مگر زیادہ تر نبی اپنے زمانے کے لیے خاص تھے اور اپنے زمانے والوں کو خدا کا پیغام پہونچانے کے لیے آئے تھے۔ لہذا مذہبی متون میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ تمود میں روایت ہے کہ غیر یہود میں بہت سارے انبیا مبعوث ہوئے ہیں، ان میں بلعم بن باعوراء ضاص طور پر قابل ذکر ہیں، جن کی کہانی کتاب گنتی 22 میں مذکور ہے۔ ایسے ایوب بھی ایک غیر یہود نبی تھے۔ پیغمبر یونس نینوا شہر کے غیر یہودیوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔

محمد بن عبد اللہ[ترمیم]

قرون وسطی میں یہودی مؤرخین کا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اصطلاح پاگل پن استعمال کرنا عام بات تھی۔ یہ ایک قابل نفرت اصطلاح بائبل میں ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جو خود کے نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔[1][2][3]

معاصرین[ترمیم]

7 ویں صدی میں پیغمبر محمد کی حیات میں ہی بہت سارے یہودہوں نے پیغمبر اور ان کے متبعین اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں ایک فصیح شاعر اور عمر دراز یہودی ابو عفک بھی تھا۔ اس کا تعلق قبیلہ عبیدہ سے تھا۔ اس نے پیغمبر محمد اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ایک قصیدہ لکھا جو اس کے قتل کا سبب ہوا۔

موسی بن میمون[ترمیم]

موسی بن میمون نے محمد بن عبد اللہ کو ایک جھوٹا نبی مانا اور ان پر پاگل پن کا الزام تک لگایا۔ اس نے اپنے ایک خط ایک خط یمن کی جانب میں لکھا کہ “ عیسی کے بعد ایک پاگل نمودار ہوا جس نے اپنے پیشرو(عیسی) کی تقلید کی کیونہ اسی نے اس کے لیے راستہ ہموار کیا تھا۔ لیکن اس نے حکومت کے لالچ میں کچھ اور اضافہ کیا اور اسلام کی شکل میں ایک نیا مذہب ایجاد کر ڈالا“۔[4]

اس نے اپنی تصنیف کردہ کتاب مشناہ تورات 11: 10-12 میں لکھا ہے کہ بالیقین محمد خدا کے اس منصوبہ کا حصہ ہے جس کے تحت خدا عیسی مسیح کے دنیا میں آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ الناصرہ اور الاسماعیلی میں موجود عیسی کے تمام الفاظ (محمد) جو عیسی کے بعد آئے ہیں وہ صرف مسیحی بادشاہ کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اور تمام دنیا کو ایک ساتھ ایک خدا کی عبادت کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ: ‘تب میں تمام لوگوں کی بات ایک کر دوں گا تاکہ سب کے سب خدا کو پکاریں اور ایک معاہدہ کے تحت اس کی عبادت کریں۔‘ (صفنیاہ 3:9)۔[5]

ناتانئیل الفیومی[ترمیم]

ناتانئیل الفیومی جو 12 ویں صدی کا اہم یمنی ربی اور ماہر مذہبیات ہے۔ اس وقت کے یہودی اسماعیلیت کا بانی بھی ہے۔ اس نے اپنی مشہور زمانہ کتاب حدیقۃ العقول میں لکھا ہے کہ خدا ہر قوم میں شریعت کے نفاذ کے لیے نبیوں کو مبعوث کرتا ہے اور ضروری نہیں ہے کہ تورات کی تعلیم اس سے ملتی جلتی ہو۔ ناتانئیل صراحتا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتا ہے۔ لیکن اس کا ماننا ہے کہ محمد جنت سے عربوں کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ ان کا پیغام صرف عربوں کے لیے خاص تھا۔ یہود پر ان کی شریعت نافذ نہیں ہوتی ہے۔[6][7] حلانکہ الفیومی کی محمد کی نبوت کی تصدیق ایک بہت ہی غیر معمولی معاملہ ہے اور زمانہ حال تک اس کا یہ خیال اس کے وطن یمن کے باہر غیر معلوم تھا۔[8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Norman A. Stillman۔ The Jews of Arab lands: a history and source book۔ Jewish Publication Society۔ صفحہ 236۔ آئی ایس بی این 978-0-8276-0198-7۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 دسمبر 2011۔
  2. Defending the West: A Critique of Edward Said's Orientalism By Ibn Warraq Page 255
  3. The Legacy of Islamic Antisemitism: From Sacred Texts to Solemn History page 21
  4. Norman Roth. Jews, Visigoths, and Muslims in Medieval Spain: Cooperation and Conflict، BRILL، 1994, p. 218.
  5. A. James Rudin. Christians & Jews Faith to Faith: Tragic History, Promising Present, Fragile Future، Jewish Lights Publishing, 2010, pp. 128–129.
  6. The Bustan al-Ukul, by Nathanael ibn al-Fayyumi, edited and translated by David Levine, Columbia University Oriental Studies Vol. VI, p. 105
  7. Gan ha-Sekhalim، ed. Kafih (Jerusalem, 1984)، ch. 6.
  8. Abraham's children: Jews, Christians, and Muslims in conversation, by Norman Solomon, Richard Harries, Tim Winter, T&T Clark Int'l, 2006, ISBN 0-567-08161-3، p. 137 Netanel's work was virtually unknown beyond his native Yemen until modern times, so had little influence on later Jewish thought.