احمد رشدی

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
احمد رُشدی

پس منظر معلومات
پیدائشی نام سید احمد رُشدی
دیگر نام آواز کا جادوگر
اسٹیج کا استاد
رُشدی صاحب
پیدائش 24 اپریل 1934(1934-04-24)
حیدرآباد دکن ، برطانوی ہند
وفات 11 اپریل 1983 (عمر 48 سال)
کراچی ، پاکستان
اصناف کلاسیکی موسیقی ، پاپ موسیقی ، غزل ، ڈسکو ، ہپ ہاپ ، راک اینڈ رول
پیشہ اردو اور علاقائی زبانوں کی گائیکی
آلات صداکار
سالہائے فعالیت 1951–1983

احمد رُشدی (24 اپریل 1934 - 11 اپریل 1983) پاکستان کی فلمی صنعت کے ایک مایہ ناز گلوکار تھے۔ بر صغیر پاک وہند میں رُشدی کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں. آواز کے اس جادوگر نے ریڈیو پر نغموں سے اپنے سفر کی ابتدا کی. نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انہوں نے اردو، گجراتی، بنگالی، بھوجپوری کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ احمد رُشدی کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیئے گاتے، اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔ آج کے دور میں فلموں کے کئی مشہور گلوکار رُشدی کو ہی اپنا استاد مانتے ہیں. انہوں نے تقریباً 583 فلموں کے لیے 5000 گانے گائے.

فہرست

[ترمیم] رُشدی کا فن

احمد رُشدی نے موسیقی کی تربیت باقائدہ کسی استاد سے حاصل نہیں کی تھی بلکہ ان کی یہ صلاحیت خداداد تھی۔ موسیقی اور گائکی ان کی رگ رگ میں رچی ہوئی تھی. رُشدی ہندوستان کے مشہور فلمی گلوکار کشور کمار کے بھی آئڈل تھے اور کشور نے انگلستان میں رُشدی مرحوم کے گانوں پر پرفارم کیا۔ انہوں نے غزل کی گائکی میں بھی اپنی ایک منفرد طرز ایجاد کی. چاکلیٹ ہیرو اداکار وحید مراد کے ساتھ رُشدی کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ اس جوڑی کے سارے نغمے ہٹ ہوئے. ان کے انتقال کو برسوں گزرنے کے بعد اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ احمد رُشدی جیسا گلوکار پاکستان کی فلمی صنعت کو نہیں مل سکتا۔

[ترمیم] انعامات او ر اعزازات

احمد رُشدی کو بے شمار ایوارڈز ملے. پاکستان کے صد‏‏ر پرویز مشرف کی حکومت نے رُشدی کو "ستاره ا متيا ز" کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ انکا نام پاکستان میں سب سے زیادہ گیت گانے والے گلوکار کے طور پر آیا۔ 5000 سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں.

انہوں نے ﮐﮁﮭ فلموں میں بھی کام کیا. رُشدی نے بہت خوبصورت تلفظ کے ساﮅﮭ نہ صرف اردو بلکہ بنگالی، اوڑیا‘ کننڈا، پنجابی، تامل، تلگو او ر مراٹھی میں بھی اپنی آواز پیش کی۔ کئی مرتبہ انہوں نے بغیر پیسہے لئے موسیقاروں کے لیئے گیت گائے۔ وہ بہت سیدھے انسان تھے. احمد رُشدی نے کئی نسلوں کو اپنی آواز سے متاثر کیا ہے.

[ترمیم] وفات

روک اینڈ رول کے بادشاہ اور آواز کے جادوگر احمد رُشدی 11 اپریل 1983 کو کراچی میں 48 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے. آپ کو کراچی میں ھی دفن کیا گیا. ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو کہ مرنے کے بعد بھی دنیا میں بہت زیادہ مقبول ہیں۔

[ترمیم] بیرونی روابط

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں