اوزون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اوزون
Ozone-1,3-dipole.png
Ozone-3D-vdW.png
Ozone-elpot-3D-vdW.png
اسم نظامی

Trioxygen

شناختساز
کاس عدد

[10028-15-6]

خـواص
سالماتی_صیغہ

O3

مولرکمیت

47.998 g·mol−1

صورت bluish colored gas
کثافت

2.144 g·L−1 (0 °C), gas

نقطۂ_پگھلاؤ

80.7 K, −192.5 °C

نقطۂ ابال

161.3 K, −111.9 °C

حل پذیری

پانی میں

0.105 g·100mL−1 (0 °C)

حر کیمیاء
تشکیل کی
معیاری سخانہ تبدیلی
ΔfHo298

+142.3 kJ·mol−1

معیاری مولر
اعتلاج
So298

237.7 J·K−1.mol−1

خـطرات
یورپی_اتحاد جماعت_بندی

not listed

ماسواۓ کسی خصوصی بیان کے، تمام مادی معطیات
معیاری درجہ حرات و دباؤ یعنی 25°C, 100 kPa
پر دیۓ گۓ ہیں۔
لاتعلقیتِ معلوماتی خانہ و حوالہ جات

اوزون (انگریزی: Ozone . یونانی سے ماخوذ) ایک سہ ایٹمی سالمہ ہے جو آکسیجن کے تین جوہروں (O3) پر مشتمل ہے.

یہ آکسیجن کا ایک بہروپ ہے جو کہ دو ایٹمی آکسیجن (O2) کے بہ نسبت بہت کم مستحکم ہے. زمین کے سطح کے قریب اوزون ایک فضائی نجاس ہے جو کہ انسانوں اور جانوروں کے نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے. بالائی فضاء میں اوزون ایک چھَلنی کے طور پر کام کرتی ہے جو نقصاندہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے روکتی ہے.
زمین کی سطح سے تقریباً 19 کلو میٹر اوپر اور 48 کلو میٹر کی بلندی تک موجود اوزون کی اس تہہ میں سورج سے آتی ہوئی بالائے بنفشی شعاعیں آکسیجن کے ساتھ نورکیمیائی عمل (photochemical reaction) کر کے اوزون بناتی ہیں۔ اگر یہ بالائے بنفشی شعاعیں اس طرح یہاں خرچ نہ ہو جائیں تو یہ نیچے زمین پر پہنچ کر جانداروں میں سرطان اور نباتات کی تباہی کا باعث بنیں گی۔ اگر نباتات کو قابل قدر نقصان پہنچ جائے تو ہوا میں کاربن دو اکسید کی مقدار بڑھنے لگے گی اور اثر گرین ہاؤس کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا۔


بلندی کے لحاظ سے ہوا کی اوزون ozone میں جذب ہونے والی بالائے بنفشی شعاعوں کا گراف.

اوزون کی تہہ بننے کا عمل کروڑوں سال سے جاری ہے مگر ہوا میں موجود نطرساز (nitrogen) کے کچھ مرکبات اوزون کی مقدار ایک خاص حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتے۔ 1970 کی دھائ میں یہ انکشاف ہوا کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کچھ مرکبات اوزون کی اس تہہ کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ کیمیائیات (chemicals) کلوروفلوروکاربن (chloro floro carbon) کہلاتے ہیں جو کہ سردخانہ (refrigerator) اور ایروسول اسپرے میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ فضا میں جا کر سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں کی وجہ سے اپنے اجزاء میں تحلیل ہو کر chlorine بناتے ہیں جو اوزون کی تہہ کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی طرح بعض مصنوعی کھاد میں استعمال ہونے والے مرکبات مثلاً نائٹرس آکسائیڈ بھی اوزون کے لئے تباہ کن ہیں
اگر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے تو گوری چمڑی والے انسانوں کو زیادہ خطرہ ہو گا بہ نسبت کالی چمڑی والوں کے۔
اوزون انسانی پھیپھڑوں کے لئے سخت نقصان دہ ہوتی ہے لیکن انسان اس کی زد میں اس لئے نہیں آتا کیونکہ بلند ترین پہاڑ کوہ ہمالیہ کی اونچائی بھی نو کلو میٹر سے کم ہے جبکہ اوزون کی تہہ 19 کلو میٹر اوپر جا کر شروع ہوتی ہے۔ سطح زمین پر اوزون شرارے کے نتیجے میں بنتی ہے مثلاً آسمانی بجلی کا کڑاکا، یا کاربن برش والی بجلی کی موٹر وغیرہ۔

اوزون کی وجہ سے قدرتی ربر سے بنی ٹیوب میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔

گندھک کے تیزاب کو پوٹاشیم پر مینگنیٹ سے ملانے پر اوزون گیس خارج ہوتی ہے لیکن اس عمل کے لیئے سخت احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ دھماکہ ہو سکتا ہے۔

6KMnO4(aq) + 9 H2SO4(aq) → 6 MnSO4(aq) + 3 K2SO4(aq) + 9 H2O(l) + 5 O3(g)