بعید نُما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Sony KDL-S19A10.jpg
سونی ادارے کا بنایا ہوا ایک جدید مسطح (flat) بعید نما یا ٹیلیوژن جس میں LCD کی طرزیات سے استفادہ کیا گیا ہے۔
چند اہم الفاظ

بعید
نما
بعید نما

tele
vision
television

بعید نما (television) دراصل ایک ایسی برقیاتی اختراع (electronic device) کو کہا جاتا ہے کہ جو متحرک (یا ساکت) تصاویر (جنکو عام طور پر منظرہ (video) بھی کہ دیا جاتا ہے) کو بشمول سماعیہ (audio) کے وصول کر کہ اپنے تظاہرہ (screen) پر قابلِ بصری و سماعتی مشاہدے کی خوبیوں کے ساتھ پیش کرسکتی ہے۔ اگر دقیق النظری کے تحت بعید نما کی تعریف کی جاۓ تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اصل میں برقناطیسی اشعاع (electromagnetic radiation) کی مدد سے متحرک تصاویر کو آواز کے ساتھ نشر اور وصول کر نے کا ایک مکمل نظام ہوتا ہے جسکو بعید نما نظام کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بھی ذکر آیا کہ اس بعید نما یا ٹیلیوژن نظام کی یہ تصاویر و آواز ، ارسال و صول کرنے کیلیۓ برقیاتی اشارے (electronic signals) استعمال کیے جاتے ہیں ، یہ برقیاتی اشارے عام طور پر کسی ایک منتخب مقام سے نشر کیے جاتے ہیں جسکو مرکزِ بعید نما یا television center اور یا بعید نما مستقر (television station) بھی کہا جاتا ہے۔

آسان وضاحت[ترمیم]

بعید نما پر جو تصویر (متحرک یا ساکن) نظر آتی ہے وہ اصل میں انسانی دماغ کی چند فعلیاتی (physiological) خصوصیات سے استفادہ کر کہ پیش کی جاتی ہے۔ انسان کا دماغ بنیادی طور پر کسی بھی نظر آنے والی شۓ سے کوئی نا کوئی خاکہ اخذ کرنے کی جانب مائل ہوتا ہے اور یہی بعید نما پر تصویر کے دکھائی دینے کا ایک اہم پہلو ہے۔ جب دماغ کے سامنے کوئی ایسی تصویر یا خاکہ آۓ کہ جو بہت سے چھوٹے چھوٹے ذرات یا نکات سے بنایا گیا ہو تو دماغ اس کی جزیات میں جانے سے قبل ان ذرات کی ترتیب سے ایک عمومی خاکہ اخذ کرتا ہے، بس اسی اصول کے تحت بعید نما پر مختلف چھوٹے چھوٹے ذرات یا دانوں کو ملا کر ایک تصویر بنائی جاتی ہے اور بعید نما کے پردے (screen) پر بناۓ گئے یہ چھوٹے چھوٹے نکات سائنس کی زبان میں عکصر (pixel) کہلاۓ جاتے ہیں۔ دراصل یہ عکصر یا دانے آپس میں اس قدر قریب قریب ہوتے ہیں کہ دماغ کچھ فاصلے سے دیکھنے پر انکو الگ الگ نکتے کے طور پر نہیں لیتا بلکہ ان سے ابھرنے والے عمومی تاثر یا خاکے کو محسوس کرتا ہے، جبکہ اگر انہی نکات یا عکاصر (pixels) کو اس قدر بڑا کردیا جاۓ کہ انکے درمیان فاصلہ پیدا ہوجاۓ اور یا پھر آنکھ کو پردے کے بالکل نزدیک کر کے دیکھا جاۓ تو دماغ ایک ایک عکصر کو الگ الگ تجزیہ کرے گا اور یوں کوئی تصویر نظر نہیں آۓ گی۔

انسانی دماغ (brain) کی ایک اور فعلیاتی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ انتہائی تیز رفتاری سے نگاہوں کے سامنے سے گذرنے والے ساکت اور جدا جدا (مگر نسبتاً مماثلت رکھنے والے اور ایک ہی واقعے کے) مناظر کا جدا جدا احساس اجاگر کرنے کے بجاۓ ان مماثل مگر جدا مناظر کو ایک تسلسل کی صورت میں انسانی ادراک (cognition) تک پہنچاتا ہے اور یوں ساکت اور جدا جدا مناظر سے ایک مسلسل اور متحرک منظر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی خصوصیت سے فائدہ اٹھا کر کسی ایوان عکس اور بعید نما پر کسی بھی واقعے کر مختلف عکس تیز رفتاری سے یکے بعد دیگرے گذار کر ایک متحرک تصویر یا منظر کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔

طرزیاتِ بعید نما[ترمیم]