بیبرس دوئم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

رکن الدین بیبرس ایک مملوک غلام تھا جے سلطان المظفر الجاشنکیر اور موجودہ تاریخ میں بعض مورخین بیبرس دوئم بھی کہتے ہیں- یہ غلامی سے ترقی کرتا ہوا سلطان سیف الدین قلاوون کے دربار تک پہنچا۔ سلطان قلاوون خود بھی مملوک تھا اور بیبرس میں فوجی صلاحتیں بھی موجود تھیں لہزا اسے فوج میں ایک منصب داری دے دی گئی۔ سلطان قلاوون کے بعد اس کا بیٹا الاشرف صلاح الدین خلیل‎‎ سلطان بنا اس نے دربار میں اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے بیبرس کو ترقی دے کر امیر مقرر کیا۔

امیری اور نائب سلطانی[ترمیم]

بیبرس دوئم کی خدمات سے سلطان الاشرف صلاح الدین خلیل نے بہت فائدہ اٹھایا اور صلیبیوں کو جن جنگوں میں پے در پے شکستیں دیں۔ ان میں جنگ عقبہ 1291ء بہت اہم ہے۔ عقبہ جو بیت المقدس کی شکست کے بعد صلیبیوں کا عرض مقدس میں سب سے مضبوط ٹھکانہ تھا شکست کے بعد ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ جس کے بعد انھیں پے درپے شکستیں اٹھانا پڑی۔ مشہور ہے کہ جب عقبہ کو فتح کرنے کے بعد سلطان نے ایک چھوٹا سا دستہ امیر سنجر کی قیادت میں قریبی قلعے صور بھیجا تو صلیبی جو اس پر قبضہ کئے بیٹھے تھے اتنے گھبرائے کہ مقابلہ کئے بغیر فرار ہوگئے۔ سلطان الاشرف خليل کی سازشی موت کے بعد اس کے چھوٹے بھائی الناصر ناصر الدین محمد کو سلطان بنایا گیا جو اس وقت صرف آٹھ برس کا تھا۔

سلطان الناصر ناصر الدین محمد کے دوسرے دور حکومت میں بیبرس کو مزید ترقی کا موقع ملا اور وہ سلطان کا نائب مقرر کیا گیا۔ اس دوران ایل خانی مغلوں نے ایک بار پھر شام پر حملہ کرنے کے لئے بڑھے۔ بیبرس جوکہ اس وقت دمشق میں سلطان کی نیابت کررہا تھا سلطان کو منگول سرگرمیوں کی خبر کردی جس پر وہ ایک بڑی فوج کے ساتھ دمشق کی حفاظت کے لئے پہنچا۔ منگول جو سپہ سالار قتلغ شاہ کی قیادت دمشق کی سرحد پر پہنچ چکے تھے کو جنگ مرج السفر 1303ء میں شکست سے دوچار کیا۔ اس جنگ میں اس نے کھل کر اپنی جنگی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور نتیجتاً نوجوان سلطان اس سے دبنے لگا۔ بیبرس نے تیزی سے امراء اور فوج کے درمیان اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ سلطان الناصر ناصر الدین محمد کو مصر سے الکرک فرار ہونا پڑا۔ بیبرس تو یہی چاہتا تھا مصر کا تخت خالی ہوتے ہی اس پر قبضہ کرلیا اور 1308ء میں اپنے سلطان ہونے کا اعلان کردیا۔

سلطان مصر اور انتقال[ترمیم]

سلطان بنتے ہی اس نے الملك المظفر ركن الدين بيبرس الجاشنكير المنصوری کا لقب اختیار کیا۔ وہ بارواں مملوک سلطان بنا۔ اس کا مختصراً دور تقریباً 11 ماہ زیادہ تر معاشی اور جنگی افراتفری کا شکار رہا- ملک میں غربت بڑھی بدآمنی میں اضافہ ہوا اور عوام چند ماہ میں ہی اس سے نفرت کرنے لگے۔ اس نے ان مسائل کا کوئی تدراک نہیں کیا بلکہ عوام پر سختی شروع کی جس کا نتیجہ مزید خراب نکلا اس کے دور میں امراء اور فوجی بھی راشی بن گئے تھے بیبرس نے ان پر بھی سختی کی مگر سوائے اپنی اہمیت کم کروانے کے اور کچھ نہیں کرسکا۔ وہ ایک بے صلاحیت حکمران تھا اور اسی کو دیکتھے ہوئے صلیبی مصر پر حملہ آور ہونے کے لئے ایک بار پھر پر تولنے لگے۔ دوسری طرف اسے منگول دانت دکھانے لگے۔شبیبرس کو آخر کچھ نہ سوجھی اور ایک شب قاہرہ سے فرار ہونے کی کوشش میں پکڑا گیا۔ اس وقت عوام اس کی صورت سے بھی بے زار ہوچکے تھے معزول سلطان الناصر محمود کا نام اب دوبارہ ہر شہری کی زبان پر سنائی دینے لگا۔ سلطان الناصر ناصر الدین محمد نے بڑی شان سے آکر تیسری مرتبہ تخت سنبھالا۔ بیبرس کو اس کے سامنے پیش کیا گیا اس نے رحم کی درخواست کی مگر سلطان نے اسے موت کی سزا دی۔

مزيد ديکھئے[ترمیم]