تمباکو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تمباکو کی فصل کا ایک کھیت

تمباکو ایک زرعی پیداوار ہے جو کہ تمباکو کے پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ راست طریقہ سے سگریٹ، نسوار یا پان میں استعمال ہونے کے علاوہ کیڑے مارنے کے لیے اور بعض ادویات میں نکوٹین کی جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔[1] یہ عام طور پر ہلکی نشہ آور خصوصیات رکھنے والی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور کئی ممالک میں زرعی پیداوار میں فوری منافع بخش فصل کے طور پر بھی اگایا جاتا ہے، تمباکو دنیا میں سب سے زیادہ کیوبا، چین اور امریکہ میں پیدا ہوتا ہے جبکہ پاکستان کا شمار دنیا کا اعلٰی معیار کا تمباکو پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ [حوالہ درکار]
تمباکو کا سب سے عام استعمال سگریٹ میں ہوتا ہے، اس کے علاوہ چبانے کے لیے، نسوار اور اس کے عرق کو بھی ہلکے نشہ آور مادے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ عرصہ دراز تک سب سے عام اور سستا ترین ہلکا نشہ آور زریعہ رہا ہے جو کہ ادویات میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن یورپ کے باسیوں کی شمالی امریکہ میں آمد کے بعد، تمباکو کی پیداوار اور برآمد کو مرکزی صنعت کی حیثیت مل گئی اور اس پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تحقیق کے بعد بے شمار ادویات میں اس کا استعمال کیا جانے لگا۔ یورپی اقوام نے ہی اسے امریکہ سے باہر باقی دنیا میں متعارف کروایا۔ ایک خیال یہ ہے کہ تمباکو پر تحقیق اور اس کے وسیع پیمانے پر صنعت کی شکل اختیار کرنے کی وجہ سے اوائل ادوار میں امریکہ کی معیشت کو سہارا ملا۔ بعد ازاں زرعی پیداوار کی مناسبت سے امریکی معیشت میں کپاس کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی۔ امریکی خانہ جنگی کے بعد عام عوام میں اس کی ضرورت میں اضافہ ہوا اور آسان تر شرائط پر میسر مزدوروں کی وجہ سے سگریٹ کی صنعت نے خوب ترقی کی۔ چونکہ سگریٹ ایک جدید اور تمباکو کا سہل ترین زریعہ تھا، اور اس کی مقبولیت میں اضافے کے سبب تمباکو کمپنیاں وجود میں آئیں اور اس صنعت نے امریکہ میں معیشت کو سہارا دیا اور ساتھ ہی چند ہی دہائیوں میں پوری دنیا کی معیشت پر حاوی ہو گئیں۔ لیکن بعد ازاں بیسویں صدی میں جب سائنسی تحقیق سے تمباکو کے انسانی صحت پر مضر اثرات کا انکشاف ہوا تو تمباکو کی صنعت کا دنیا کی معیشت پر اثر کم ہونا شروع ہو گیا اور دوسری زرعی اجناس جیسے کپاس، گندم اور مکئی وغیرہ نے تمباکو کی جگہ لے لی۔
تمباکو کی کئی اقسام ہیں، جو کہ درجہ بندی میں “نکوٹینا“ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انگریزی کا لفظ Nicotina یا Nicotine جین نکوٹ کے اعزاز میں رکھا گیا تھا جو کہ پرتگال میں فرانسیسی سفیر کے عہدے پر تعینات تھے۔ انہوں نے ہی پہلی بار 1559ء میں تمباکو کو عدالت کے روبرو ایک دوا کے طور پر متعارف کروایا تھا۔[2]
چونکہ نکوٹین کی زیادہ تر خصوصیات نشہ آور ہیں، اسی وجہ سے تمباکو کے استعمال کنندہ شخص میں جسمانی برداشت اور کیمیائی انحصار متاثر ہو سکتا ہے۔ نکوٹین کی نشہ آور خصوصیات پر کسی شخص کے انحصار کو تمباکو کے استعمال، دورانیے، مقدار، جذب ہونے کی رفتار اور تمباکو کی قسم میں نکوٹین کی مقدار کے حساب سے ناپا جاتا ہے۔ اسی حساب سے کسی شخص میں نکوٹین کی مقدار، اس کے نکوٹین پر انحصار اور عادت کو بھی ماپا جا سکتا ہے۔[3][4] ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب دس کروڑ افراد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہویں اور بالغ انسانوں کی آبادی کا 1/3 حصہ اس عادت میں مبتلا ہے۔[5] اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی تیزی سے دنیا میں انسانی اموات کی وجہ بنتی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال دنیا میں تقریبا چون لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ اس کا تدارک ممکن ہے۔ [6] عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ تمباکو نوشی اس وقت دنیا کی واحد وجہ ہلاکت ہے جس کا باآسانی تدارک کیا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ہی مطاق ترقی یافتہ ممالک میں تمباکو نوشی کی شرح میں پچھلی چند دہائیوں سے کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن وہیں ترقی پزیر ممالک میں تمباکو نوشی کی شرح میں بے پناہ اضافہ بھی ہوا ہے۔
تمباکو دوسری زرعی اجناس کی طرح ہی پیدا کیا جاتا ہے۔ بیج کو گہرا اور بطور نرسری بویا جاتا ہے تاکہ اس پر موسمی اثرات اور کیڑے اثرانداز نہ ہو سکیں اور اس کے بعد تمباکو کے پودوں کو کھیتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ تمباکو ایک سالانہ فصل ہے جو کہ میکانکی طریقہ یا ہاتھوں کے زریعے بویا جاتا ہے۔ تمباکو کی فصل تیار ہونے کے بعد اس کے پودوں کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے دوران اس میں کئی کیمیائی عمل وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ سوکھنے کے بعد تمباکو کے پودوں کو بھٹی میں پکایا جاتا ہے اور اس کی درجہ بندی کر کے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور اسے سگریٹ، نسوار، پان، وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بطور دوا تمباکو کے ہرے یا سوکھے دونوں پتے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر اثرات وہ لوگ جو حالات سے آگہی رکھتے ہیں، اُن میں روز بروز تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے کہ تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔ یہی وجہ ہےکہ امریکہ میں روزبروز اِس بارے میں پابندیاں بڑھ رہی ہیں کہ ایسی جگہوں پر لوگ سگریٹ نہ پئیں جہاں پر دوسرے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔امریکہ کے وفاقی قانون لوگوں کو سرکاری عمارتوں میں تمباکو نوشی سے روکتے ہیں اور خود ’وائس آف امریکہ‘ کے آفس سمیت سگریٹ پینے والوں کو عمارت سے باہر ایک خاص فاصلے تک سگریٹ پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بہت سی ریاستیں ایک عشرہ پہلے تک تمباکو نوشی کے خلاف منظور ہونے والے اِسی وفاقی قانون پر نہ صرف یہ کہ عمل کر رہی ہیں بلکہ کچھ ریاستوں نے اور بھی زیادہ سخت ضوابط نافذ کیے ہیں۔ایسے اسپتالوں اور کمپنیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو تمباکو نوشی کرنے والوں کو ملازم نہیں رکھتیں۔ ریاست ٹینسی کے میموریل اسپتال میں اب ملازمت کے خواہش مند افراد کا باقاعدہ لیبیاریٹری ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر اِس ٹیسٹ میں نکوٹین کی نشاندہی ہوجائے تو اُس کا مطلب ہے کہ ملازمت سے انکار کردیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین ایک طویل عرصے سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکہ کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتائیے اورا ِس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چھپے چوری سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

ایوان عکس[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "تمباکو" (انگریزی میں)، سٹوڈنٹ بریٹانیکا، http://student.britannica.com/comptons/article-208929/tobacco 
  2. ^ "1550ء سے 1575ء تمباکو - یورپ" (انگریزی میں)، کولونیا 13، http://www.tc.columbia.edu/centers/cifas/drugsandsociety/background/chronologydruguse.html 
  3. ^ "تمباکو کے حقائق - تمباکو نشہ آور کیوں ہے؟" (انگریزی میں)، ٹوبیکو فیکٹس ڈاٹ آرگ، http://www.tobaccofacts.org/tob_truth/soaddictive.html 
  4. ^ فلپ مارس (18 ستمبر 2009ء)، "[url=http://www.stanford.edu/group/SICD/PhilipMorris/pmorris.html فلپ مارس کی معلوماتی فہرست]" (انگریزی میں)، جامعہ سٹین فورڈ، url=http://www.stanford.edu/group/SICD/PhilipMorris/pmorris.html 
  5. ^ سینر ایل گل مین، ژو ژان، دھویں کا تعارف، ص: 26 
  6. ^ "عالمی ادارہ صحت کا تمباکونوشی بارے حقائق پر مبنی پرچہ" (انگریزی میں)، عالمی ادارہ صحت، 2008ء، http://www.who.int/tobacco/mpower/mpower_report_forward_summary_2008.pdf 

مزید دیکھیے[ترمیم]

صنعت تمباکو

بیرونی روابط[ترمیم]