جہیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

جہیز (dowry) بیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا سامان مطالبہ پر ہو یا بلا مطالبہ کےجہیز کہلاتا ہے۔ مثلاً: اوڑھنا، بچھونا، برتن، کرسی و دیگر ساز و سامان وغیرہ۔

جہیز کی تعریف[ترمیم]

جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب یا سامان ؛ یہ اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو نکاح میں اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ جہیز دینے کی رسم پرانے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر زیورات ، کپڑوں ، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت کی شکل اختیار کر لی ۔

اثرات[ترمیم]

کتنی ہی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں ۔ کم جہیز کی وجہ سے بہت سی عورتوں کی زندگی عذاب ہو جاتی ہے؛ مار پیٹ کے علاوہ بعض دفعہ ان کو جلا دیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ۔ دوسری طرف آج کل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ لعنت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام سادگی کا دین ہے اور اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔ جہیز سے ملتا لفظ تلک بھی استعمال ہوتا ۔

تلک[ترمیم]

وہ روپیہ جو شادی سے پہلے دلہن کا باپ داماد کے گھر بھیجتا یہ دراصل ترکی میں ترلیک کا مخفف ہے [1]

تلک کی تعریف[ترمیم]

وہ مقررہ روپیہ ہے جو لڑکی والے شادی کی تعین کے وقت لڑکے والے کو ساز و سامان کے علاوہ ادا کرتے ہیں،جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب شادی کی بات چیت شروع ہوتی ہے تو لڑکے والے لڑکی کے والدین سے ساز و سامان (جہیز)کے علاوہ کچھ نقد روپیہ کی فرمائش کرتے ہیں اور اس میں لڑکے کی حیثیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ لڑکا جس معیار کا حامل ہوتا ہے ، اس کی قیمت کا تعین بھی اسی اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ جیسے بھیڑ، بکری وغیرہ کی خرید و فروخت میں پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے۔

تلک اور جہیز میں فرق[ترمیم]

مذکورہ بالا تعریف کی روشنی میں اگر ہم غور کریں تو جہیز اور تلک کے مابین کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے۔ ہاں کتب تاریخ سے اتنا ضرور واضح ہوتا ہے کہ تلک کا رواج سماج میں جہیز سے بہت بعد میں ہوا ہے، جس کو معاشرہ کے دولت مند افراد کے ذریعہ فروغ ملا ہے۔ لہٰذا ہم اسے جہیز ہی کی ایک دوسری شکل کہہ سکتے ہیں [2]۔

جہیز اور تلک[ترمیم]

اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک معاہدہ کی ہے جس میں مرد و عورت قریب قریب مساویانہ حیثیت کے مالک ہیں یعنی نکاح کی وجہ سے شوہر بیوی کا یا بیوی شوہر کی مالک نہیں ہوتی اور عورت اپنے خاندان سے مربوط رہتی ہے۔ والدین کے متروکہ میں تو اسکو لازمًا حصہ میراث ملتا ہے۔ بعض اوقات وہ بھائی بہنوں سے بھی حصہ پاتی ہے۔ ہندو مذہب میں نکاح کے بعد عورت کا رابطہ اپنے خاندان سے ختم ہوجاتا ہے۔ شاستر قانون کی رو سے وہ اپنے خاندان سے میراث کی حقدار نہیں رہتی۔ اسی لئے جب لڑکی کو گھر سے رخصت کیا جاتا تھا تو اسے کچھ دان دیکر رخصت کیا جاتا تھا۔ بد قسمتی سے مسلمانوں نے بھی بتدریج اس ہندووانہ رسم کو اپنا لیا اب مسلمانوں میں بھی جہیز کے لین دین اور پھر لین دین سے بڑھ کر جہیز کا مطالبہ اور اس سے بھی آگے گذر کر جہیز کے علاوہ تلک سرانی اور جوڑے کے نام سے لڑکوں کی طرف سے رقم کا مزید مطالبات کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے بالکل ہی برعکس ہے۔ اسلام نے تو اسکے برخلاف مہر اور دعوت ولیمہ کی ذمہداری شوہر پر رکھی یھی اور عورت کو نکاح میں ہر طرح کی مالی ذمہ داری سے دور رکھا تھا۔ فقہاء کے یہاں اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ مرد بھی عورت سے روپئے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اسلئے اس مسئلہ کا عام طور پر کتب فقہ میں تذکرہ نہیں ملتا۔ البتہ اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ لڑکی کا ولی اگر مہر کے علاوہ داماد سے مزید رقم کا طلبگار ہو تو یہ رشوت ہے اور یہ مطالبہ جائز نہیں۔ تاہم بعض فقہاء کے یہاں لڑکے اور اسکے اولیاء کی طرف سے مطالبہ کی صورت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلئے تلک اور جہیز کا مطالبہ رشوت ہے اسکا لینا تو حرام ہے ہی۔ شدید ضرورت کے بغیر دینا بھی جائز نہیں اور لے چکا ہو تو واپس کرنا واجب ہے۔ [3]




  1. ^ فیروز اللغات، فرہنگ آصفیہ
  2. ^ اسلام، جہیز اور سماج ۔۔۔ صابر رہبر مصباحی
  3. ^ (جدید فقہی مسائل/مولانا خالد سیف اللہ رحمانی/ص:450)