دین الٰہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

دینَ الٰہی : (فارسی : دین الهی) "Divine Faith]")[1][2], مغل بادشاہ، اکبر نے اپنے دور میں، ایک نئے مذہب کی شروعات کی، جس کا نام دین الٰہی رکھا۔ اس مذہب کا مقصد، تمام مذاہب والوں کو یکجا کرنا اور، ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اکبر کے مطابق، دین اسلام، ہندو مت، عیسائیت، سکھ مذہب، اور زرتشت مذاہب کے، عمدہ اور خالص اُصولوں کو اکھٹا کرکے ایک نیا دینی تصور قائم کرنا، جس سے رعایا میں نا اتفاقیاں دور ہوں اور، بھائی چارگی قائم ہو۔ [2]

اکبر دیگر مذاہب کے ساتھ خوش برتاؤ کرنے اور، دیگر مذاہب کی قدر کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس مذہب کے فروغ کیلیے اکبر نے فتح پور سکری شہر میں ایک عمارت کی تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا۔ اس عبادت خانے میں تمام مذہب کے لوگ جمع ہوتے اور، مذہبی فلسفہ پر بحث و مباحثہ کرتے۔

ان بحث و مباحثہ کے نتائج میں اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ، حق، کسی ایک مذہب کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب میں حق اور سچائی پائی جاتی ہی۔

دین الٰہی، اپنی مخلوط تصورات کو، اور دین کے تحت اپنے فکر و فلسفہ کو عملی صورت میں، دین الٰہی پیش کیا۔ اس نئی فکر کے مطابق، اللہ کا وجود نہیں ہے اور نبیوں کا وجود بھی نہیں ہے۔ تصوف، فلسفہ اور فطرت کی عبادت ہی عین مقصد ہے۔ اس نئے مذہب کو اپنانے والوں میں سے دم آخر تک بیربل رہا۔ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک راجا مان سنگ جو سپاہ سالار بھی تھا، دین الٰہی کی دعوت ملنے پر کہا کہ؛ میں مذاہب کی حیثیت سے ہندو مت اور اسلام ہی کی نشاندہی کرتا ہوں، کسی اور مذہب کو نہیں۔ مباد شاہ کی تصنیف شدہ کتاب دبستان مذاہب کے مطابق، اس دین الٰہی مذہب کے پیرو کار صرف 19 رہے۔ اور رفتہ رفتہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی۔[3]

دین الٰہی ایک فطری رواجوں پر مبنی مذہب تھا، اس میں، شہوت، غرور و مکر ممنوع تھا، محبت شفقت اور رحیمیت کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ یوں کہا جائے کہ یہ ایک روحانی فلسفہ تھا۔ اس میں روح کو زیادہ اہمیت دی گیی۔ جانوروں کو غذا کے طور پر کھانا منع تھا۔ .[2] . نہ اسکی کوئی مقدس کتاب تھی، اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما اور نہ اس کے کوئی وارث۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Din-i Ilahi - Britannica Online Encyclopedia
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 Roy Choudhury, Makhan Lal (1941), The Din-i-Ilahi, or, The religion of Akbar (3rd ed.), New Delhi: Oriental Reprint (published 1985, 1997), ISBN 8121507774 (Reprint: 1997) 
  3. ^ Din-i Ilahi - Britannica Online Encyclopedia
  4. ^ [1]