راس ہورن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جنوب سے راس ہارن کا ایک منظر

راس ہورن (انگریزی: Cape Horn، ولندیزی: Kaap Hoorn، ہسپانوی: Cabo de Hornos) جنوبی چلی کے مجموعہ الجزائر ٹیرا ڈیل فیوگو کا آخری سرا ہے جو نیدر لینڈز کے شہر ہورن سے موسوم ہے۔ یہ براعظم جنوبی امریکہ کا سب سے جنوبی علاقہ ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین راسوں میں سب سے جنوبی میں واقع ہے۔ اس راس کے گرد سمندر کی لہریں بہت خطرناک ہیں اور سرد و تند و تیز ہواؤں، تیز لہروں اور سمندر میں تیرتے برفانی تودوں کے باعث یہ علاقہ بحری جہازوں کا قبرستان سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ ایک اہم تجارتی گذرگاہ رہی ہے جس کی اہمیت 1914ء میں پاناما نہر کے قیام سے بہت کم ہوگئی۔ لیکن اب بھی اس راس کے گرد چکر کاٹنا کشتی رانی کے کھیل میں سب سے خطرناک مہم سمجھی جاتی ہے۔ اور کشتی رانی میں وہی حیثیت حاصل ہے جو کوہ پیمائی میں ماؤنٹ ایورسٹ کو حاصل ہے۔ [1][2][3] راس ہورن جنوبی امریکہ سے منسلک سب سے جنوبی علاقہ ہے جو ہرمائٹ جزائر کے جزیرہ ہورنوس (ہسپانوی: Isla Hornos) پر واقع ہے اور ٹیرا ڈیل فیوگو کے مجموعہ الجزائر کا آخری کونا ہے۔ یہ آبنائے ڈریک کا شمالی حصہ ہے جو جنوبی امریکہ اور انٹارکٹیکا کے براعظموں کو جدا کرتی ہے۔ راس پر چلی کی بحریہ کی ایک چھاؤنی بھی قائم ہے جس میں رہائشی و دفتری عمارات کے علاوہ گرجا اور روشن مینار بھی شامل ہیں۔ اس علاقے کا موسم سرد ہے۔ راس ہورن یا ملحقہ جزائر پر کوئی موسمیاتی مرکز قائم نہیں تاہم 1882-1883ء میں کیے گئے ایک تجزیے کے مطابق سالانہ 1357 ملی میٹر (53.42 انچ) بارش ہوتی ہے جبکہ سال کا اوسط درجہ حرارت 5.2 ڈگری سینٹی گریڈ (41.4 ڈگری فارن ہائٹ) رہتا ہے۔ ہوا کی رفتار اوسطاً 30 کلو میٹر فی گھنٹہ (19 میل فی گھنٹہ) ہے۔ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (62 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے آنے والے طوفان معمول کا حصہ ہیں۔ .[4] راس کا سب سے قریبی قصبہ پورٹو ٹورو ہے جو پورٹو ولیمز سے چند میل جنوب میں واقع ہے۔ یہ دنیا کا سب سے جنوب میں واقع رہائشی علاقہ ہے۔ ہورن اصل میں جنوری 1616ء میں علاقے کی بحری مہم میں شریک ایک بحری جہاز تھا جو پیٹاگونیا کے قریب تباہ ہو گیا اور جب اس مہم میں شریک دوسرا جہاز اینڈریچ راس ہورن کے مقام پر پہنچا تو اس نے اس راس کو "ہورن" سے موسوم کر دیا۔ پاناما نہر کی تعمیر کے باعث بحری سفر کے لیے خطرناک یہ علاقہ ویران ہو گیا اور تجارتی سامان سے لدا آخری بحری جہاز یہاں سے 1949ء میں گذرا جس کا نام پامیر تھا۔ یہ بحری جہاز آسٹریلیا سے فن لینڈ جا رہا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Rob Duncan's Quest for Cape Horn, by Rob Duncan. Retrieved 5 فروری, 2006.
  2. ^ The Modern Cape Horner, from Victory Expeditions. Retrieved 5 فروری, 2006.
  3. ^ Cape Horn to Starboard, from Lin and Larry Pardey. Retrieved 5 فروری, 2006.
  4. ^ Opiliones from the Cape Horn Archipelago, James C. Cokendolpher and Dolly Lanfranco L.; from Texas Tech University, 1985. Retrieved 5 فروری, 2006.