ریمنڈ ڈیوس (امریکی اہلکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ریمنڈ ڈیوس (انگریزی: Raymond Davis) ایک امریکی شہری ہے جو لاہور میں تعینات امریکی ذیلی سفارتخانے کا ملازم تھا جس نے 27 جنوری 2011ء کو مزنگ لاہور کی سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے دو آلیچرخہ سوار نوجوانوں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ مقتولین کے نام فہیم اور فیضان ہیں۔ ریمنڈ کا بیان ہے کہ ان میں سے ایک نوجوان نے اس پر پستول لہرایا تھا۔ قتل کے وقوع سے اس نے امریکی سفارت سے بذریعہ ہاتف مدد طلب کی جس کے نتیجہ میں ایک امریکی تیز رفتار سفارت گاڑی غلط سمت سے یکطرفی سڑک پر دوڑتی آتے ہوئے ایک راہگیر آلیچرخہ سوار کو کچل کر ہلاک کر دیا۔ اس ہلاککندہ کا نام عبادالحق ہے۔ بعد میں پولیس نے ریمنڈ کو گرفتار کر لیا۔ امریکی سفارت خانہ نے دعوی کیا کہ ریمنڈ سفارت کار ہے اور اس لیے اسے گرفتار یا سزا نہیں دی جا سکتی۔ مبصرین کے مطابق ریمنڈ امریکی نجی ادارے کا ملازم ہے، تجارتی ویزا پر پاکستان میں داخل ہوا، اور پاکستان میں سی آؤ اے کی طرف سے جاسوسی میں ملوث تھا۔[1] [2] [3] [4] اس لیے اس پر دوہرے قتل کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔[5] لاہور کی عدالت نے ریمنڈ کو ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی لگاتے ہوئے جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔ اطلاعات کے مطابق آلیچرخہ سوار کو کچلنے والی گاڑی کا سائق فرار ہو کر امریکہ پہنچ گیا۔[6]

ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے ایک نوجوان کی بیوہ نے انصاف نہ فراہم ہونے کے خدشہ پر 6 فروری کو احتجاجاً خود کشی کر لی ہے اور مقتول کے دیگر لواحقین نے بھی انصاف نہ ملنے کی صورت میں خود کشی کی دھمکی دی ہے۔ [7] سابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطرفی کے بعد اعتراف کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتکار کا درجہ حاصل نہیں۔ [8] ریمنڈ کی اصلیت ایک تجربہ کار جاسوس ہونے کے ناطے سے صوبہ پنجاب کی انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ریمنڈ کو امریکی دوران حراست قتل نہ کر دیں۔[9] 25 فروری 2011ء ریمنڈ کے امریکی "خاندان کے افراد" لاہور پہنچے۔[10]

دو ملین ڈالر دیت[ترمیم]

16 مارچ 2011ء کو مقتولین کے ورثاء کی طرف سے معافی بعوض 2 ملین ڈالر دیت کے وعدہ پر عدالت نے ریمنڈ ڈیوس کو بری کر دیا۔ پنجاب کی حکومت کے وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں کیونکہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے معافی کے بعد وہ قانوناً کچھ نہیں کر سکتے۔ تاہم واضح رہے کہ ملکی قانون کے تحت پنجاب حکومت (یا پولیس) یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مقدمہ شرعی قانون کے تحت قائم کیا جائے (جس میں خون بہا کی اجازت) ہے یا روایتی قانون کے تحت (جس میں قصاص کے عوض ورثا معاف نہیں کر سکتے)۔ مقتولین کے ایک وکیل نے دعوی کیا کہ ورثا سے زبردستی معافی نامہ پر دستخط کرائے گئے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے قصاص کے تحت مقدمہ ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور قصاص کی رقم بھی خادم الحرمين الشريفين ہی نے ادا کی۔ [11] مبصرین نے اس مقدمہ کے اچانک فیصلہ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں، امریکہ اور عدالت کے منصف کے درمیان پہلے سے طے شدہ ڈرامہ قرار دیا ہے جس کا ریاستی اور شرعی قانون سے کوئی تعلق نہیں۔[12]

فرار[ترمیم]

رہائی کے فوراً بعد امریکی ریمنڈ ڈیوس کو بذریعہ ہوائی جہاز افغانستان لے گئے۔ ریمنڈ ڈیوس کے مقدمہ کی سماعت کرنے اور عجلت میں فیصلہ دینے والا منصف اگلے دن چھٹی پر روانہ ہو گیا۔[13]

اکتوبر 2011ء میں امریکہ میں غنڈہ گردی کے الزام میں ضمانت ہوئی۔[14]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Malik should be tried for lying in Davis case: PTI". the nation. 5 Febraury 2011. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Regional/Islamabad/05-Feb-2011/Malik-should-be-tried-for-lying-in-Davis-case-PTI۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 February 2011. 
  2. ^ Ali Ismail (10 February 2011). "US bullying Pakistan to release “diplomat” who killed two in Lahore market". wsws. http://wsws.org/articles/2011/feb2011/paki-f10.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 February 2011. 
  3. ^ ڈیلکن والش (20 فروری 2011ء). "American who sparked diplomatic crisis over Lahore shooting was CIA spy". دی گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2011/feb/20/us-raymond-davis-lahore-cia۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 February 2011. 
  4. ^ ایون میک آسکل اور ڈیلکن والش (21 فروری 2011ء). "US gives fresh details of CIA agent who killed two men in Pakistan shootout". دی گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2011/feb/21/raymond-davis-pakistan-cia-blackwater۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 February 2011. 
  5. ^ Sikander Shaheen (6 Febraury 2011). "Davis detention ‘lawful’". the nation. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Politics/06-Feb-2011/Davis-detention-lawful۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 February 2011. 
  6. ^ "Hit-and-run killer reaches US". دی نیشن. 20 فروری 2011ء. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Politics/20-Feb-2011/Hitandrun-killer-reaches-US۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 February 2011. 
  7. ^ "Wife of man killed by Davis commits suicide". dawn. 6 Febraury 2011. http://www.dawn.com/2011/02/07/wife-of-man-killed-by-davis-commits-suicide.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 February 2011. 
  8. ^ "Davis no diplomat". the nation. 13 Febraury 2011. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/Politics/13-Feb-2011/Davis-no-diplomat۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 February 2011. 
  9. ^ انصار عباسی (19 Febraury 2011). "Punjab fears Davis may be killed — even by CIA". the news. http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=4073&Cat=13&dt=2/19/2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 February 2011. 
  10. ^ "Davis’s family arrives in Pakistan". ڈان. http://www.dawn.com/2011/02/26/car-carrying-daviss-family-had-fake-number-plates-sources.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 February 2011. 
  11. ^ "ورثاء کی معافی، ڈیوس رہا، ’معاوضہ ہم نے نہیں دیا‘". بی بی سی اردو موقع. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/03/110316_raymond_release_zz.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 March 2011. 
  12. ^ اداریہ (ا8 مارچ 2011ء). "ریمنڈ ڈیوس کی رہائی اور عوامی ردعمل". روزنامہ جنگ. http://jang.net/urdu/details.asp?nid=513985۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 March 2011. 
  13. ^ ڈیوس کیس کی سماعت کرنیوالے جج یوسف اوجلہ رخصت پر چلے گئے (روزنامہ جنگ). http://jang.net/urdu/update_details.asp?nid=113493۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 March 2011. 
  14. ^ "CIA contractor at heart of US-Pakistan row arrested after car park brawl". ٹیلیگراف. 2 اکتوبر 2011ء. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/asia/pakistan/8802277/CIA-contractor-at-heart-of-US-Pakistan-row-arrested-after-car-park-brawl.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 September 2011. 


بیرونی روابط[ترمیم]