چو این لائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Chou En Lai

چو این لائی

پیدائش: 1898ء

انتقال: 1976ء

چین کے کمیونسٹ رہنما۔ بورژوا خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ٹین سین کے ایک مشنری سکول میں پائی۔ 1917ء میں گریجوایشن کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے جاپان گئے۔ یہیں ایک پروفیسر نے انھیں مارکسزم کی طرف راغب کیا۔ 1919ء میں چین واپس آئے۔ اس وقت چین سیاسی افراتفری کا شکار تھا۔ چو این لائی نے دوستوں کی مدد سے ایک سٹڈی گروپ قائم کیا اور انقلابی تحریکوں میں سرگرم حصہ لینے لگے۔ جس پر انھیں چند ماہ قید و بند میں کاٹنا پڑے۔

رہائی کے بعد چار سال 1920ء سے 1924ء تک پیرس میں رہے اور جزوقتی کام کرکے تعلیم جاری رکھی۔ یہاں ان کی ملاقات عظیم ویت نامی انقلابی ہوچی منھ اور دوسرے ایشیائی اشتراکی لیڈروں سے ہوئی۔ بعد ازاں کچھ دن جرمنی میں گزارے۔ 1924ء کے اواخر میں چین ، واپس آگئے ۔ اس دوران میں روس کی کوششوں سے سین یات سن کو کومن تانگ پارٹی اور کیمونسٹوں کے درمیان اتحاد ہوگیا۔ چوو ہامپوآ ملٹری اکیڈیمی میں پولیٹکل ڈائریکٹر مقرر ہوگئے۔ جس کا سربراہ چیانگ کائی شیک تھا۔ یہیں سے انھیں سیاسی عروج حاصل ہوا۔ اور 1927ء میں وہ کیمونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کے رکن منتخب ہوئے۔

جب کمیونسٹوں اور چیانگ کائی شیک کے مابین ان بن ہوئی اور چیانگ نے کمیونسٹوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا تو چو فرار ہو کر پہلے ہانگ کانگ اور پھر روس پہنچے ۔ کچھ عرصے بعد شنگھائی واپس آئے اور یہاں دو سال رہنے کے بعد جنوبی صوبہ کیانگسی چلے گئے ، جو ان دونوں کیمونسٹ پارٹی کا دیہاتی مرکز تھا۔ اور اس کے سربراہ ماؤزے تنگ تھے۔ یہیں ان دونوں کی لازوال رفاقت کی داغ بیل پڑی۔ جب ماؤزے تنگ نے سرخ فوج کے ساتھ لانگ مارچ ’’لمبا سفر ، جو کیانگسی سے شروع ہو کر ہو کر شمال میں 6000 میل دور ایک نئے دیہی مرکز میں ختم ہوتا تھا‘‘ کیا تو چو این لائی نے باوجود علالت کے اس میں شرکت کی۔

1936ء کے اواخر میں جاپان نے چین پر حملہ کیا تو چیانگ کائی شیک نے کمیونسٹوں سے صلح کر لی۔ اس دوران میں چو این لائی نے چینی حکومت کے افسر رابطہ کی حیثیت سے کام کیا او راپنی بے پناہ ذہانت اور تدبر سے غیر ملکی سفارت کاروں کو گرویدہ بنا لیا۔ 1949ء میں ماؤزے تنگ کی زیر قیادت کمیونسٹوں نے چیانگ کائی شیک کی امریکا نواز حکومت کو شکست فاش دی ۔ چو این لائی نئی انقلابی حکومت میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ مقرر ہوئے۔ انھوں نے وزیر خارجہ کی حثیت سے کوریا میں جنگ بندی مذکرات میں حصہ لیا اور 1954ء میں فرانس ہند چینی جنگ کے خاتمے پر جینوا میں مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔ انھی کی مساعی سے 1955ء میں بنڈونگ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اور انھی کی رہنمائی میں پنج شیل کے اصول مرتب کیے گئے۔ تادم واپسیں وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔