کششِ ثقل

وکیپیڈیا سے

Jump to: navigation, search

کششِ ثقل وہ قوت ہے جس سے تمام کمیت (Mass) رکھنے والے اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس سلسلے میں بے شمار نظریات ملتے ہیں جن میں سے نیوٹن کا نظریہ کائناتی کششِ ثقل اور البرٹ آئنسٹائن کا نظریۂ اضافیت زیادہ مشہور ہیں۔ عام زندگی میں اس قوت کا احساس ہمیں کسی چیز کے وزن کی صورت میں ہوتا ہے۔ اصل میں زمین پر گرنے والے اجسام زمین کی کشش کی وجہ سے گرتے ہیں۔ زمین کی کمیت اس پر گرنے والی اشیاء کی نسبت بہت زیادہ ہے اس لیے اشیاء کو زمین اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس قوت کو ہم وزن کی شکل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے ہم زمین کے مرکز سے دور ہوں تو وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ زمین پر وزن رکھنے والی اشیاء بھی زمین کو اپنی طرف کھینچتی ہیں مگر زمین کے مقابلے میں یہ قوت اس قدر کم ہوتی ہے کہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔ کشش کی یہی قوت ہے جس کی وجہ سے زمین اور دیگر سیارے سورج کے ارد گرد گھومتے ہیں اور نظامِ شمسی اور دیگر نظام قائم ہیں۔ کائنات میں ہر طرف یہ قوت کار فرما ہے۔ زمین پر اجسام کا قائم رہنا، مدوجزر، مادہ کے اجزاء کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہ کر بڑے بڑے اجسام بنانا سب کششِ ثقل کی وجہ سے ہے۔