آدم خوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
1557 میں برازیل میں آدم خوری کی منظر کشی

آدم خوری یا مردم خوری {{دیگر نام|انگریزی= Cannibalism[1] اور anthropophagy) اُس عمل کو کہتے ہیں کہ جس میں ایک انسان دوسرے انسان کا گوشت کھائے۔ کہا جاتا ہے کہ آج سے تقریباً پانچ لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ سال (500،000 سے 350،000) پہلے کے انسانوں نے اس روایت کا آغاز کیا۔[2][3] دورِ جدید کے انسانوں میں بھی کئی گروہ ایسے نکلے جنہوں نے یہ قبیہ فعل دہرایا،[4] ماضی میں قبل از تاریخ یورپ میں،[5][6] افریقا،[7] جنوبی امریکا، [8] نیوزی لینڈ،[9] شمالی امریکا، [10] آسٹریلیا،[11] جزائر سولومن،[12] نیو کیلیڈونیا،[13] پاپوا نیو گنی،[14] بھارت،[15] سماٹرا،[16] اور فجی[17] کے عام طور پر ایسے جنگی قبائل سے ربط ملتے ہیں۔ بلکہ فجی کو تو آدم خوری کی وجہ سے کسی زمانے میں “آدم خوروں کا جزیرہ“ بھی کہا جاتا تھا۔ شاکو ثقافتی قومی تاریخی باغ میں پائی جانیوالے [[قدیم اسپین کے باشندوں]] کی ثقافتی باقیات سے آدم خوری کے شواہد ملے ہیں۔ .[18]
آدم خوری کی درج ذیل درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں :

آدم خوری بنیادی طور پر دو طریقوں کی ہوتی ہے، اندرونی آدم خوری (ایک ہی گروہ یا قبیل کے لوگوں کا ایک دوسرے کو کھانا) اور بیرونی آدم خوری (کسی دوسرے گروہ یا قبیل کے لوگوں کو کھانا)۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]