اسحاق اخرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسحاق اخرس
(عربی میں: إسحاق الأخرس ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
مقام پیدائش المغرب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات عمان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،  کیمیا گر،  مذہبی رہنما،  ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اہل اسلام کے مطابق اسحاق اخرس جھوٹے انبیا میں سے ایک تھا۔ وہ ملک مغرب کا رہنے والا تھا۔ اس وقت ممالک اسلامیہ پر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کی حکومت تھی۔ روایت کے مطابق پہلے اس نے صحفِ آسمانی قرآن، تورات، انجیل اور زبور کی تعلیم حاصل کی۔ پھر جمیع علوم رسمیہ کی تکمیل کی۔ نہ صرف مذہبی معلومات بلکہ اسے کئی زبانیں بھی آتی تھیں، اس کے علاوہ دیگر علوم و فنون میں بھی کمال حاصل تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ کمال کا کیمیا گر بھی تھا۔ اسحاق 135ھ میں اصفہان میں آیا۔

گونگا پن اور معجزہ[ترمیم]

اصفہان پہنچ کر ایک عربی مدرسے میں قیام پزیر ہوا اور یہیں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مکمل دس سالوں تک ٹھہرا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہیں اس نے اپنی زبان پر ایسی مہر سکوت لگائے رکھی کہ ہر عام و خاص شخص اسے گونگا سمجھتا رہا۔ دس سالوں تک بے زبان کا ناٹک کرنے کی وجہ سے وہ ”اخرس“ کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ وہ ہمیشہ اشاروں سے مدعا کیا کرتا اور ہر شخص سے اس کا رابطۂ مؤدت و شناسائی قائم تھا۔ ہر شخص کے دل میں اسحاق کے لیے ترس اور محبت تھی۔ گونگے بنے رہنے کے دس سالوں بعد آخر وہ وقت آ گیا کہ چُپی توڑ دی۔ اس نے نہایت رازداری کے ساتھ کیمیائی مادوں کو ملا کر ایک مائع تیار کیا۔ ایک رات جب تمام لوگ خواب خرگوش میں مصروف تھے، اس نے مائع کو اپنے بدن پر ملا جس کے بعد اس کے جسم سے نورانی کرنیں پھوٹیں اور وہ جگنو کی طرح چمکنے لگا اور شمعیں جلا کر سامنے رکھ دیں۔ اس کے بعد انس نے ہولناک چیخ نکالی جس کی وجہ سے مدرسے کے تمام مکین جاگ اٹھے۔ جب لوگ ارگرد جمع ہوئے تو اس نے اٹھ کر نماز ادا کی اور ایسی خوش آوازی اور تجوید کے ساتھ بہ آواز قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی دنگ رہ گئے۔

اہل شہر کی بد حواسی[ترمیم]

جب مدرسے معلمین اور طلبہ نے دیکھا کہ پیدائشی گونگا باتیں کر رہا ہے اورقوت گویائی کیسی ہے کہ اسحاق کو اعلیٰ درجے کی فصاحت اور فنِ قرأت تجوید کا کمال بھی بخشا گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا چہرہ ایسا درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہر سکتی تو لوگ سخت حیرت زدہ ہوئے۔ خصوصاً صدر مدرس تو بالکل قوت عقلیہ کھو بیٹھے۔ صدر مدرس بڑی خوش اعتقادی سے فرمانے لگے ”کیا اچھا ہو اگر عمائد شہر بھی خدا کے اس کرشمۂ قدرت کا مشاہدہ کر سکیں۔“ اب اہل مدرسہ نے صدر مدرس کی قیادت میں شہر کا رخ کیا کہ اعیانِ شہر کو بھی خدائے واحد کی قدرت قاہرہ کا یہ جلوہ دکھائیں۔ جب شہر پناہ کے دروازے پر آئے تو اسے مقفل پایا۔ جب چابی حاصل کرنے میں ناکامیاب رہے تو گرم جوشی و خوش اعتقادی کی حالت میں کسی نہ کسی تدبیر سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اب سب پہلے قاضئ شہر کے گھر پر پہنچے۔ قاضی شور و پکار سن کر گھر سے فوراً باہر نکلے اور ماجرا دریافت کیا۔ کہانی سننے کے بعد قاضی مجمع کے ہمراہ وزیرِ اعظم کے در پر جا پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو وزیر باہر آئے اور لمبی کہانی سن کر کہا کہ ابھی رات کا وقت ہے صبح فیصلہ کیا جائے گا کہ ایسی بزرگ ہستی کی عظمت شان کے مطابق کیا کارروائی مناسب ہوگی۔ قاضئ شہر نے چند رؤسائے شہر کو ساتھ لے کر بزرگ ہستی کو دیکھنے کے لیے مدرسے میں آئے مگر دروازے کو مقفل پایا۔ اسحاق اندر ہی براجمان تھا۔ قاضی نے نیچے سے پکار کر کہا ”جنابِ والا! آپ کو اسی خدائے ذو الجلال کی قسم! جس نے آپ کو اس کرامت اور منصبِ جلیل سے نوازا۔ دروازہ کھولیے اور مشتاقانِ جمال کو شرف دیدار سے مشرف فرمائیے“ یہ سن کر اسحاق بولا ”اے قفل کھل جا“ اور ساتھ ہی کسی حکمت عملی سے کنجی کے بغیر قفل کھول دیا۔ قفل کے گرنے کی آواز سن کر لوگوں کی خوش اعتقادی اور بھی دو آتشہ ہو گئی۔ لوگ بزرگ بابا کے رعب سے ترساں و لرزاں تھے۔ دروازہ کھلنے پر سب لوگ اسحاق کے روبرو نہایت مؤدب ہو کر جا بیٹھے۔ قاضی شہر نے نیاز مندانہ لہجے میں التماس کی کہ ”حضور اقدس، سارا شہر اس قدرت خداوندی پر حواس باختہ ہے اگر حقیقت حال کا چہرہ کسی قدر بے نقاب کیا جائے تو بڑی نوازش ہوگی۔

ظلی بروزی نبوت[ترمیم]

اسحاق نے کہا کہ ”چالیس روز پیشتر ہی فیضان کے کچھ آثار نظر آنے لگے تھے آخر دن بہ دن القائے ربانی کا سر چشمہ دل میں موجیں مارنے لگا حتیٰ کہ آج رات خدا تعالیٰ نے اپنے فضل مخصوص سے اس عاجز پر علم و عمل کی وہ راہیں کھول دیں کہ مجھے سے پہلے لاکھوں رہروانِ منزل اس کے خیال اور تصور سے بھی محروم رہے اور وہ اسرار و حقائق منکشف فرمائے کہ جن کا زبان پر لانا مذہب طریقت میں ممنوع ہے البتہ مختصراً اتنا کہنے کا مجاز ہوں کہ آج رات دو فرشتے حوض کوثر پانی لے کر میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور کہنے لگے السلام علیک یا نبی اللہ! مجھے جواب میں تامل ہوا اور گھبرایا کہ یا علیم یہ کیا ابتلا ہے؟ فرشتہ بزبان فصیح یوں گویا ہوا: اے اللہ کے نبی بسم اللہ کہ کر ذرا منہ تو کھولیے میں نے منہ کھول دیا اور دل میں بسم اللہ کا ورد کرتا رہا فرشتے نے نہایت لذیذ چیز منہ میں رکھ دی یہ تو معلوم نہیں کہ وہ چیز کیا تھی؟ البتہ اتنا جانتا ہوں کہ وہ شہد سے زیادہ شیریں، مشک سے زیادہ خوشبو اور برف سے زیادہ سرد تھی اس نعمت خداوندی کا حلق سے نیچے اترنا تھا کہ میری زبان گویا ہو گئی اور میر منہ سے یہ کلمہ نکلا : اَشہَدُ اَن لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَا رَّسُولُ اللّٰہِ یہ سن کر فرشتوں نے کہا محمد ﷺ کی طرح تم بھی رسول اللہ ہو میں نے کہا اے دوستو! تم یہ کیسی بات کہہ رہے ہو مجھے اس سے سخت حیرت ہے بلکہ میں تو عرق خجالت میں ڈوبا جاتا ہوں فرشتے کہنے لگے خدائے قدوس نے تمہیں اس قوم کے لیے نبی مبعوث فرمایا ہے میں نے کہا کہ خدا نے تو سیدنا محمد علیہ الصلوۃ والسلام روحی فداہ کو خاتم الانبیا قرار دیا اور آپ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا اب میری نبوت کیا معنی رکھتی ہے؟ کہنے لگے درست مگر محمد صلى اللہ عليہ وسلم کی نبوت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری ظلی و بروزی ہے۔“

خلافت عباسیہ سے معرکہ آرائیاں[ترمیم]

اسحاق کی تقریر سن کر عوام کا پائے ایمان ڈگمگا گیا اور ہزار ہا آدمی اس کے پیروکار بن بیٹھے اور جن لوگوں کا دل نور ایمان سے متجلی تھا وہ بیزار ہو کر چلے گئے حاملین شریعت نے بھولی عوام کو بہتیرا سمجھایا کہ اسحاق گونگا دجال کذاب اور رہزن دین و ایمان ہے۔ لیکن عقیدت مندوں کی خوش اعتقادی میں ذرا فرق نہ آیا بلکہ جوں جوں علما انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے ان کا جنون خوش اعتقادی اور زیادہ بڑھتا جاتا تھا۔ آخر اس شخص کی قوت اور جمعیت اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے خلافت پر حملہ کرکے خود خلیفہ بننے کا فیصلہ کیا چنانچہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کو مقہور و مغلوب کر کے بصرہ و عمان اور ان کے توابع پر قبضہ کر لیا۔ کئی معرکوں کے بعد خلافت عباسیہ کو فتح نصیب ہوئی اور اسحاق اخرس کو قتل کر دیا گیا۔ اس کے کچھ پیروکار اب بھی عمان میں ہیں، مگر خیال ہے کہ ان کی مجموعی تعداد سو بھی نہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رفیق دلاوری، ابو القاسم. جھوٹے نبی. لاہور: مرکز سراجیہ. صفحات 151 تا 155.