اسے ساگاوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسے ساگاوا
(جاپانی میں: 佐川一政 ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 26 اپریل 1949 (72 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوبے  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش توکیو  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Japan.svg جاپان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکار،  مترجم،  ناول نگار،  ٹی وی شخصیت،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جاپانی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


اِسّے ساگاوا (پیدائش 26 اپریل 1949) ایک جاپانی آدمی ہے جس نے 1981 کو پیرس میں، رینے ہارٹویلٹ نامی ولندیزی نوجوان عورت کو قتل کر کہ اس کو کھا لیا۔ اس کی رہائی کے بعد، وہ جاپان میں تھوڑا بہت مشہور بن گیا اور عوام کی اُس کے جرم میں دلچسپی کے سبب اُسے روزگار حاصل ہوا۔

زندگی کے اوائل[ترمیم]

ساگاوا جاپان کے ہیوگو پریفیکچر کے کوبے شہر میں دولت مند والدین کو پیدا ہوا۔ وہ قبل از وقت پیدا ہوا اور مبینہ طور پر اتنا چھوٹا تھا کہ وہ اپنے والد کی ہتھیلی میں سمایا جا سکتا تھا۔

1977 کو 28 کی عمر پر، ساگاوا پیرس کی سوربون اکادمی سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے کے لیے فرانس گیا۔

جرم[ترمیم]

11 جون 1981 کو 32 کی عمر کا ساگاوا نے رینے ہارٹویلٹ کو اپنے اپارٹمنٹ آنے کی دعوت دی، اس بہانے کے تحت کہ اسے اپنی ایک کلاس کے لیے کچھ جرمن شاعری کا ترجمہ کروانا تھا۔ ہارٹویلٹ کے آمد کے بعد، ساگاوا نے اس سے شاعری پڑھنے کی گزارش کی اور جس دوران وہ ساگاوا کی طرف پست کر کہ بیٹھی ہوئی تھی، ساگاوا نے رائفل سے اُس کے سر کے پیچھے گولی مار کر اُس کو قتل کر دیا۔ ساگاوا نے کہا ہے کہ اُس نے ہارٹویلٹ کو اس کی صحت اور حسن کے سبب اپنا شکار بنانے کے لیے منتخب کیا، جو خاصیتیں وہ اپنی شخصیت سے مفقود سمجھتا ہے۔ ساگاوا نے اپنے آپ کو ایک 'کمزور، بدصورت اور ناکافی' آدمی قرار دیا ہے اور دعوا کیا ہے کہ اس نے اس غرض سے ہارٹویلٹ کو کھایا تھا کہ وہ اس کی ماہیت کو منجذب کرنا چاہتا تھا۔

ساگاوا نے کہا ہے کہ گولی چلانے کے بعد اُس کو بہت صدمہ ہوا، جس کے سبب وہ بے ہوش ہو گیا۔ مگر بیدار ہونے پر اُس کو احساس ہوا کہ اپنے منصوبے کو آخری درجے تک پورا کرنا اب لازمی تھا۔ چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا - لاش کے ساتھ جنسی فعل کرنے کے بعد وہ اسےکھانے لگا۔

دو دن بھر، ساگاوا اُس کا گوشت کھاتا گیا۔ پھر اُس نے لاش کو ایک دور دراز جھیل میں پھینکنے کی کوشش کی، مگر اس عمل میں کسی نے اسے دیکھ لیا اور بعد میں وہ فرانسیسی پولیس کے ہاتھ گرفتار ہوا، جنھوں نے اس کی رہائش گاہ کی تلاشی کے دوران، مقتولہ کے کچھ انگ ساگاوا کے فرج میں بھی دریافت کیے۔

ساگاوا دو سال بھر مقدمے کے بغیر مقید رہا، جس کے بعد اس کو قانوناً پاگل قرار دیا گیا۔ لہٰذا وہ مقدمے کے لیے نا اہل تھا اور منصف نے حکم دیا کہ اس کو غیر مقررہ مدت تک پاگل خانے میں داخل کیا جائے۔ اس کی نظر بندی کے دوران اِنُوہِیکو یوموتو نامی جاپانی مصنف اس سے ملنے آیا اور اس کے نتیجے میں، ساگاوا کے جرم کی تفصیلات جاپان میں شائع کیا گیا۔ گمان غالب ہے کہ اِس کے نتیجے میں ساگاوا کو حاصل ہونے والی مشہوری کی وجہ سے ہی فرانسیسی حکومت اُس کو ملک بدر کر کہ جاپان سپرد کرنے پر مجبور ہوئی۔ جاپان میں آمد پر ساگاوا کو ہسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں سارے ڈاکٹروں نے اُس کو صحیح الدماغ قرار دیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جنسی کج روی قتل کا واحد سبب تھا۔ جاپانی اہلکاروں کو اُس کو مقید رکھنا قانوناً ناممکن ثابت ہوا، کیونکہ فرانسیسی حکومت نے متعلقہ دستاویزات انہیں سپرد کرنے سے انکار کیا، یہ دعوا جتاتے ہوئے کہ فرانس میں مقدمہ بند ہو چکا تھا۔ اِس کے نتیجے میں 12 اگست 1986 کو سگاوا نے پاگل خانے سے اپنی روانگی اندراج کی اور تب سے وہ آزاد رہا ہے۔

اپنی رہائی کے بعد، ساگاوا نے اپنے جرم کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں اور مہمانی خطیب اور تبصرہ کار کی حیثیت بھی ادا کی ہے۔ اس نے چند فلموں میں بھی اداکاری کی ہے، جن میں سے ایک آدمخوری کے بارے میں تھی اور بعض فحش تھیں۔ اِس کے علاوہ ساگاوا لکھاری ہے اور باقاعدگی سے ناول، مضمون اور دیگر کتابیں اور تحریریں لکھتا ہے۔ وائس میگزین (VICE) کے ساتھ انٹرویو کے دوران ساگاوا نے قتل کرنے پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے۔