انصار عباسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انصار عباسی
انصار عباسی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام انصار عباسی
پیدائش 12 جون 1965ء (عمر 54 سال)
مری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستانی
مذہب اسلام
خاندان دھند عباسی
عملی زندگی
تعليم صحافت و نشریات میں اعلٰی تعلیم
مادر علمی جامعہ بلوچستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں مدیر دی نیوز انٹرنیشنل

انصار عباسی (ولادت جون 12، 1965) پاکستانی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کے ایک تحقیقاتی مدیر ہیں۔ انہوں نے کئی خصوصی رپورٹوں کی اشاعت کی ہے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عباسی کی پیدائش مری، پاکستان میں اس علاقے کے دھند عباسی خاندان میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم ان کے آبائی گاؤں میں ہوئی۔ انہوں نے میٹرک سرسید اسکول، راولپنڈی سے مکمل کیا۔ بعد میں وہ گورنمنٹ کالج اصغر مال میں شامل ہوئے۔ وہاں سے انہوں نے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنی ماسٹر کی ڈگری بلوچستان یونیورسٹی، کویٹہ سے پوری کیے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اورماسٹر کی ڈگری گولڈسمتھس کالج، یونیورسٹی آف لنڈن سے حاصل کیے۔[2] ان کا تحقیقی مقالے کا عنوان کم سنوں کی مزدوری تھا۔[1]

آج انصار عباسی پاکستی صحافت کی ایک نامی شخصیت ہیں۔ وہ بالعموم انگریزی اخبارات کے لیے لکھتے ہیں۔ وہ محمد سجاول عباسی کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں جن کا انتقال 1981 میں ہوا۔ وہ خوبصورت مری پہاڑیوں کے چشم وچراغ ہیں۔[3]

عملی زندگی[ترمیم]

صحافت میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1991 میں انصار صحافی بننا چاہتے تھے۔ وہ ابتدا میں روزنامہ جنگ سے جڑنا چاہتے تھے۔ مگر جیساکہ خود وہ حسن اتفاق تصور کرتے ہیں، انہیں پہلا موقع انگریزی روزنامہ دی ڈیموکریٹ میں ملا۔[4]۔ اس کے بعد وہ دو مہینے پاکستان ٹائمز کے لیے کام کیے۔ بالآخر وہ دی نیوز انٹرنیشنل سے جُڑے جس کے وہ اب مدیر ہیں۔ توہ انگریزی صحافت کو اردو پر ترجیح دیتے ہیں اور ان کے مطابق اردو صحافت بیانات کی صحافت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔[4]

تحقیقاتی مضامین[ترمیم]

منصف اعظم چودھری

عباسی ان اولین لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے چیف جسٹس افتخار چودھری کے عہدے کے بے جا استعمال کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چودھری کا بیٹا ڈاکٹر ارسلان وفافی تحقیقی ادارے میں تمام اہلیتی معیاروں کو نظر انداز کرکے شامل کیا گیا۔[5] اسی الزام کی بنیاد پر حکومت نے اعلٰی عدالتی کونسل میں چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف تحریک پیش کی۔

پرویز مشرف

عباسی نے تحقیقی مضمون لکھا ہے جس کی رو سے پرویز مشرف نے چک شہزاد میں تمام سہولیات سے آراستہ مکان انتہائی کم قیمت پر بنوایا جبکہ اس کے پس پردہ حکومت کے اخراجات ان کی ادا شدہ رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔[6]

منطقی قلابازی کرتے ہوئے ے عباسی نے سابق جنرل کی تنقید کی کہ انہوں نے افتخار چودھری کو ہٹایا اور ان کے معاملے کو اعلٰی عدالتی کونسل سے رجوع کیا۔[7]

مولانا فضل الرحمان

2008 میں عباسی نے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی کہ کس طرح جمیعت علمائے اسلام کے رہنما فضل الرحمٰن اور ان کے اہل خانہ کو کروڑوں کی زمین پرویز مشرف حکومت کی جانب سے دی گئی تھی۔ عباسی کا دعوٰی ہے کہ اس وقت کے فوجی حکمران مولانا کو اپنے دو عہدوں پر فائز ہونے پر اعتراضات سے روکنے کے لیے، رشوت دی گئی تھی۔[8]

جسٹس ڈوگر

"ہماری مخصوص دختران" کے عنوان سے عباسی نے ڈیلی نیوز میں ایک رپورٹ چھاپی، جس سے پتہ چلا کہ جسٹس ڈوگر کی دختر فرح حمید ڈوگر کا ایف ایس سی کا امتحانی پرچہ عدالت علیا کے فیصلے کے برعکس دوبارا جانچا گیا۔[9] حالانکہ 201 امیدواروں کے امتحانی پرچوں پر نظرثانی کی گئی تھی، صرف اس ایک لڑکی کے امتحانی پرچے کونئے سرے سے جانچا گیا اور نمبرات کا اضافہ کیا گیا۔ باقی دوسو معاملوں میں صرف نشانات کے مجموعی نمبرات کی تصحیح کی گئی تھی۔[10] یہ معاملہ آگے چلکر پارلیمانی کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کیا گیا۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Ansar Abbasi Editor Investigations The News International"۔ Pakistani Leaders.com.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اگست 2014۔
  2. "Ansar Abbasi, Editor Investigations The News International"۔ Pakistanileaders.com.pk۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-03۔
  3. "Ansar Abbasi Biography"۔ http://www.pakistanileaders.com.pk/profile/Ansar_Abbasi۔ External link in |website= (معاونت)
  4. ^ ا ب "Career of Ansar Abbasi"۔ http://www.pakistanileaders.com.pk/profile/Ansar_Abbasi۔ External link in |website= (معاونت)
  5. "Law Minister Wasi Zafar Misbehaving on VOA : ALL THINGS PAKISTAN"۔ Pakistaniat.com۔ 2006-06-26۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-03۔
  6. "Today's Newspaper - The News International"۔ Thenews.com.pk۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-03۔
  7. "Capital Talk – 12 November 2008 | Pakistan Politics"۔ Pkpolitics.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-03۔
  8. [1][مردہ ربط]
  9. http://thenews.jang.com.pk/top_story_detail.asp?Id=18574
  10. "Today's Newspaper - The News International"۔ Thenews.com.pk۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-09-03۔
  11. http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/national/farah-dogar-case-fbise-employees-to-face-the-music-779