ایریا 51

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہومے ہوائی اڈا
Homey Airport
Wfm area 51 landsat geocover 2000.jpg
ایریا 51 2000, خشک گروم جھیل
خلاصہ
ہوائی اڈے کی قسم فوجی
مالک وفاقی حکومت، ریاستہائے متحدہ امریکہ
عامل امریکی فضائیہ
محل وقوع جنوبی نیواڈا, ریاستہائے متحدہ امریکہ
بلندی سطح سمندر سے 4,462 ft / 1,360 m
متناسقات 37°14′06″N 115°48′40″W / 37.23500°N 115.81111°W / 37.23500; -115.81111متناسقات: 37°14′06″N 115°48′40″W / 37.23500°N 115.81111°W / 37.23500; -115.81111
نقشہ
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 427 سطر پر: Unable to find the specified location map definition. Neither "Module:Location map/data/Nevada" nor "Template:Location map Nevada" exists۔ہومے ہوائی اڈا

امریکی فضائیہ کی ایڈورڈز ایئر فورس بیس کا نیواڈا ٹیسٹ اور ٹریننگ رینج میں ایک جدا علاقہ ہے جسے ایریا 51 (Area 51) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سی آئی اے کے مطابق علاقے کا نام ہومے ہوائی اڈا (Homey Airport) اور گروم جھیل (Groom Lake) ہے، [1][2] تاہم ویت نام جنگ کے دور سے سی آئی اے کی دستاویز میں ایریا 51 ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ [3] اسکے دیگر نام ڈریم لینڈ [4] پیراڈائز رینچ [5] ہوم بیس اور واٹر ٹاؤن ہیں۔ [6] علاقے کے گرد خصوصی استعمال فضائی حدود (Special use airspace) کو ممنوعہ علاقہ 4808 شمال (Restricted Area 4808 North) کہا جاتا ہے۔ [7]

بیس کا موجودہ بنیادی مقصد عوامی سطح پر نامعلوم ہے؛ تاہم، تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ تجرباتی طیاروں اور ہتھیاروں کے نظام کی ترقی اور جانچ اسکا مقصد تسلیم کیا جاتا ہے۔ [8] بیس کے ارد گرد انتہائی رازداری کی وجہ سے یہ کئی نظریات کا موضوع بنا رہا، اور نامعلوم پروازی اشیاء (UFO) حکایات کا مرکز رہا۔ [9][10] جولائی 2013ء میں سی آئی اے نے پہلی بار عوامی سطح پر بیس کے وجود کو تسلیم کیا، اور ایریا 51 کی تاریخ اور مقصد کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لائی گئیں۔ [11] دستاویز کے مطابق ایریا 51 کا انتخاب سی آئی اے اور امریکی فضائیہ کے عملے کی جانب سے 1955ء میں فضائی جائزوں کے بعد کیا گیا اور اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور نے ذاتی طور پر اس کی منظوری دی تھی۔

ایریا 51 نامی یہ علاقہ صحرا کے دوردراز حصے میں گروم جھیل کے گرد واقع ہے اور اس کے ساتھ جوہری تجربات کرنے کی جگہ ہے۔ دفاعی امور کے صحافی اور مصنف کرس پوکوک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یو ٹو یقیناً انتہائی خفیہ پروگرام تھا اور انہیں اس سے متعلق ہر چیز خفیہ رکھنی تھی۔" یو ٹو طیارے جو سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے تیار کیے گئے تھے آج بھی امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔ اسکے علاوہ ایریا 51 کو آ ج بھی دنیا خلائی مخلوق کیساتھ رابطے کا ذریعہ خیال کرتی ہے، حال ہی میں امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ برسر اقتدار آ کر خلائی مخلوق کے بارہ معلوما ت کو لوگوں تک رسائی دیں گی۔

تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Intelligence Officers Bookshelf — Central Intelligence Agency"۔ Cia.gov۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2013۔ 
  2. "Overhead: Groom Lake - Area 51"۔ Federation of American Scientists۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2013۔ 
  3. Richard Helms (15 May 1967)۔ ""OXCART reconnaissance of North Vietnam", Memo to the Deputy Secretary of Defense from the office of CIA Director Richard Helms, 15 May 1967"۔ CIA۔ اصل سے جمع شدہ |archiveurl= درکار لـ |archivedate= (معاونت) کو۔  (the full declassified document is mirrored at ویکیمیڈیا العام)
  4. Hall, George; Skinner, Michael (1993). Red Flag. Motorbooks International. ISBN 978-0-87938-759-4.
  5. Rich, Ben R; Janos, Leo (1994)۔ Skunk Works: A personal memoir of my years at Lockheed۔ Boston: Little, Brown۔ صفحہ۔56۔ "Kelly [Johnson, the U2's designer] had jokingly nicknamed this Godforsaken place Paradise Ranch, hoping to lure young and innocent flight crews." 
  6. Patton, p. 3, nicknames Paradise Ranch,Rich, Ben R; Janos, Leo (1994)۔ Skunk Works: A personal memoir of my years at Lockheed۔ Boston: Little, Brown۔ صفحہ۔56۔ "Kelly [Johnson, the U2's designer] had jokingly nicknamed this Godforsaken place Paradise Ranch, hoping to lure young and innocent flight crews." 
  7. "Flight Planning / Aeronautical Charts"۔ SkyVector۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 June 2013۔ 
  8. Rich, Ben R; Janos, Leo (1994)۔ Skunk Works: A personal memoir of my years at Lockheed۔ Boston: Little, Brown۔ صفحہ۔57۔ "... a sprawling facility, bigger than some municipal airports, a test range for sensitive aviation projects." 
  9. Jacobsen, Annie (2012). Area 51: An Uncensored History of America's Top Secret Military Base. Back Bay Books. ISBN 0-316-20230-4.
  10. Lacitis, Erik (27 March 2010). "Area 51 vets break silence: Sorry, but no space aliens or UFOs". Seattle Times Newspaper. Retrieved 10 June 2013. ^ Jump up to: a b "Area 51 'declassified' in U-2 spy plane history". BBC News (BBC). 16 August 2013. Retrieved 25 September 2014.
  11. "Area 51 'declassified' in U-2 spy plane history". BBC News (BBC). 16 August 2013. http://www.bbc.co.uk/news/world-us-canada-23731759۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 September 2014.