باقی صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
باقی صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش 20 ستمبر 1905  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
راولپنڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 جنوری 1972 (67 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
راولپنڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  وپنجابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

باقی صدیقی (20ستمبر1905ء – 8 جنوری 1972ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر اور ادیب تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

باقی صدیقی 20 دسمبر، 1908ء کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں سہام میں پیدا ہوئے۔ ان کااصل نام محمد افضل تھا[1]۔ میٹرک پاس کرکے گاؤں کے مدرسہ میں مدرس ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد راولپنڈی آ گئے۔ سترہ برس ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور بے شمار پوٹھوہاری گیت لکھے۔ اردو کلام کے چار مجموعے۔ جام جم، دارورسن، زخم بہار اور بارِ سفر شائع ہوچکے ہیں۔ کچے گھڑے پوٹھوہاری گیتوں کا مجموعہ ہے۔

وفات[ترمیم]

8 جنوری 1972ء کو باقی صدیقی راولپنڈی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور راولپنڈی کے قبرستان قریشیاں سہام میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی لوحِ مزار پرانہی کے یہ دو اشعارکندہ ہیں [1]:

دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیاکانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
باقی، ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھصحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ص 346، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء