برمنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

برمنگ بیروٹ کلاں کا پرانا نام ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ دراصل بہر منگ ہے جس کے معنی کھیت کے بیرونی طرف سے سنگی دیوار کے اوپر کا وہ راستہ ہے جس سے گزرنے کے لیے پرانے لوگ کوہسار کے دوسرے علاقوں میں درخواست کیا کرتے تھے، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کھیت کی اس سنگی دیوار کے ساتھ گزرتے ہوئے اس مات کا اندیشہ رہتا تھا کہ دشمنی یا کسی اور وجہ سے پتھر مار کر گزرنے والے کا سر پھاڑ سکتا ہے، کوہسار کے مورخ اور انتھراپالوجسٹ قاضی محمد عبیداللہ علوی،[1] کا کہنا ہے کہ کوہسار میں بولی اور لکھی جانیوالے ڈھونڈی کرڑیالی زبان میں لفظ بہر کھیت کے بیرونی اور کلیہا (Claiha)اندرونی جگہ کو کہتے ہیں اور ان دونوں کو سنگی یا مٹی کی دیوار یعنی اٹ الگ کرتا ہے، منگ، منگ بجڑی، منگلا وغیرہ کے نام آزاد کشمیر میں بھی موجود ہیں اور شاید ڈھونڈ عباسیوں کی بہر منگ یا برمنگ میں آنے سے پہلے کسی قبیلے خصوصی طور پر کیٹھوالوں اور راجپوتوں نے اس علاقے کے لیے استعمال کیا ہو، تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ چودھویں صدی میں جب ڈھونڈ عباسی اس علاقے میں آئے تو انہوں نے شاید یہ نام تبدیل کر دیا ہو جس طرح [2] کا نام ایوبیہ[3] کنیر پُل کا نیلم پواءنٹ اور باسیاں [4] کا عباسیاں رکھ دیا گیا ہے اس طرح بہر منگ یا برمنگ کا مطلب اٹ یعنی سنگی دیوار کی اوپر والے راستے کی طلبی ہے۔

برمنگ کا نام کیوں تبدیل ہوا؟[ترمیم]

سینہ بہ سینہ آنے والی ایک روایت کے مطابق طوائف الملوکی (آپ راژی) کے دور میں اس علاقے سے ایک شہزادی گزری، چونکہ اس دور میں یہاں قحط کی وجہ سے لوگ زندگی کا پہیا چلانے کے لیے گدھے اور کتے بھی کھا گئے بلکہ تاریخ پونچھ کے مصنف سید محمود آزاد کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو بھی بھون کر کھا لیا تھا ایسے میں اس مذکورہ شہزادی کہو شرقی کے ایک مقام چوریاں میں بھوک سے نڈھال ہو گئی اور اس نے 20طلائی روٹیوں کے عوض ایک روٹی مقامی لوگوں سے طلب کی مگر وہ اس کے منہ میں نوالہ ڈالنے سے قاصر رہے یوں وہ بھوکی شہزادی یہاں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئی، اس شہزادی کی ان طلائی روٹیوں کی مناسبت سے اس یونین کونسل کا نام پہلے بی یعنی 20اور روٹیوں سے روٹ ہوا اور یوں اس کا نام بیروٹ پڑ گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]