تبادلۂ خیال:اہل حدیث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


Untitled[ترمیم]

اس مظمون کو دیکھ کر حیرت ہوئی کیونکہ یہ مضمون ویکیپیڈیا کے معیارات اور غیر جانبداری کے اصولوں پر بالکل بھی پورا نہیں اترتا اور جو تاریخ فراہم کی گئی ہے وہ من گھڑت اور اس انداز میں لکھی گئی ہے جیسے یہ اس فرقے کا تعارفی بروشر ہو۔یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ برصغیر کے تین نمایاں فرقے سنی، دیوبندی اور اہل حدیث اپنا تعلق شاہ ولی اللہ کی تعلیمات کے ساتھ جوڑتے ہیں اور ان سب کی پیدائش انیسویں صدی میں ہوئی۔ اس سے پہلے کی تاریخ پر کسی ایک کی اجارہ داری نہیں، اہل حدیث برصغیر میں پیدا ہونے والا ایک فرقہ ہے مگر اسکے سرخیلوں کے نام نہیں دیے گئے کہیں مثلا نواب بھوپالی اور ثنا اللہ امرتسری وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک کے ظہور کے بعد برصغیر پاک و ہند میں اس فرقے کا ظہور ہوا۔ یہ فرقہ کہیں بھی اہل سنت کے نام سے نہیں جانا جاتا اور فروعی معاملات میں انہتائی متشدد ہے۔اس صفحے پر دیوبندی اور اہل حریث کی مماثلتوں کا ذکر بھی ہونا چاہئے تھا اور اسکے علاوہ ان میں جو اختلافات ہیں ان کے بارے میں بھی لکھا جانا چاہئے تھا۔ ایک عام آدمی بھی جانتا ہے کہ اعتقادات کے لحاظ سے برصغیر کے دیوبندی اور اہل حدیثوں میں صرف تقلید کا فرق ہے اور چند فروعی اختلافات کے ماسوا یہ دونوں فرقے ایک ہی ہیں۔ اس مظمون میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان کی تعداد کتنی ہے اور ان کے اصل عقائید کیا ہیں۔ غیر جانبداری کا ایک تقاضہ یہ بھی تھا کہ ان پر ہونے والی تنقید کا ذکر بھی کیا جاتا۔ اس صفحے کو نئے سرے سے غیر جانبدارانہ اور معروضی انداز میں لکھے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ وکیپیڈیا کو ایک متنازعہ فرقہ کی اشاعت کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ ایک لنک پیش خدمت ہے جہاں پر حوالہ جات کے ساتھ اہل حدیث کی تاریخ اور دیوبند کے ساتھ ان کے تعلقات کی تاریخ کا غیر جزباتی انداز اور علمی انداز میں جائزا لیا گیا ہے۔مقالہ کا لنک

م--Alex642000 (تبادلۂ خیال) 10:29, 2 دسمبر 2012 (UTC)

--Alex642000 (تبادلۂ خیال) 21:10, 1 دسمبر 2012 (UTC)

سب جھوٹ ہے ایک کا بھی حوالہ نہیں ، خصوصی طور پر اس جہنمی فرقے کو بچایا جارہا ہے

کیا آپ کواس مضمون کی غیر جانبداری پر شک ہے ؟؟ میرے خیال میں ایک متنازعه موضوع پر یه مضمون ایک غیر جانبدار تحریر هے ـ آگر جانب داری کا مظاهره کیا جائے تو میرے خیال میں اس مضموں میں قران کے علاوه جتنی کتابوں کا لکها گیا ہے ان کو حدیث کی کتاب نہیں لکهنا چاهئے بلکه اقوال بزرگاں لکهنا چاهئیے ـ قران اور آپنی عقل استعمال كرکے آدمی ایک اچها مسلمان بن سکتا ہے ـ ناں که مختلف مکاتب فکر ـ دهرم پر بحث کو رهنے هی دیں تو بہتر هے ـ 19:45, 3 نومبر 2006 (UTC)خاورkhawar


  • السلام علیکم۔۔ اہل حدیث کے تحت اس مضمون کو شامل کرلیا جائے تو بھت حد تک مفید رہےگا۔۔بڑی سادھ سی بات اسلام نام ھے قرآن وسنت کا دوسری کوئ چیز اسلام نہیں

اسلام میں فرقہ بندی کی کوئ اجازت نہیں اللہ تعالی نے ھمارا نام مسلم رکھا مجھے تو یہی نام پسند ھے یہ لوگ جو فرقوں میں بٹ رھے ھیں اپنی مرضی سے کیا حبیب اللہ کی بات سے بڑھ کر کسی کی با ت ھو سکتی ھے چاھے کتنا بڑا سکالر ھو لہذا صرف مسلمان بنو جاؤ فرقوں کو چھور دو نبی اللہسے بڑا کوئ مرشد نہیں جن پر بذریعہ وحی شریعت ناصل ھوئ

فرقہ وارنہ جنگ[ترمیم]

معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ سکون سے گزرنے کے بعد ایک بار پھر اردووکی پر فرقہ وارانہ جنگ شروع ہوچکی ہے۔ ایک کے بعد ایک جوابی غزل داغی جاتی ہے۔ مذکورہ مضمون اور حوالہ جاتی برقی کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دئیے گئے حوالہ جات مستند نہیں ہیں۔

مذکور کتاب میں زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ اہلحدیث انگریزوں کے ایجنٹ تھے، جنگ آزادی کے مخالف تھے اور مساجد کے دشمن۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو انگریز کی خوشنودی میں کسی نے بھی پس و پیش سے کام نہیں لیا ہے۔ میرے خیال میں انگریز سرکار کی غلامی اور کاسی لیسی کو کسی فرقہ کی جانب مخصوص نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے یہ خدمت کسی نے ماضی میں زیادہ کی ہو مگر آج وہ کم کررہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ماضی میں انگریزوں کی خدمت سے محروم رہ جانے والے آج اپنی خدمات پیش کرکے پرانے گناہوں کا کفارہ ادا کررہے ہوں۔ انگریز سرکار کی خوشنودی حاصل کرنے میں عرب کے اہلحدیث، عراق کے اہل تشیعہ، پاکستان کے بریلوی اور ہندوستان کے دیوبندی ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی فرقہ کے تعلیمات نہیں ہیں بلکہ علماء کے مفادات ہیں جن حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے فرقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ مغرب میں آج کا وہابی اسلام کو خطرہ بلکہ دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس صورت میں تو مضمون کے آخر میں دیا گیا حوالہ اپنے معنی کھو بیٹھا Alex642000 (تبادلۂ خیال) 21:10, 1 دسمبر 2012 (UTC)ہے۔ --Ubaidmughal 18:30, 18 جون 2009 (UTC)

  • مضمون کے شروع میں یہ سطر کہ " اہل سنت و الجماعت یعنی سنی کا ایک فرقہ ہے " حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اہلحدیث مذکورہ فرقے کا جانا پہچانا نام ہے اور اس فرقے کا کوئی بھی عالم یا اس کی نمائندگی کی دعویدار کوئی بھی جماعت خود کو سنی کبھی نہیں کہلواتی اس لۓ اس سطر کو حذف کیا جانا چاہیے ۔ سنی کا لفظ پاک و ہند میں دیوبندی اور بریلوی فرقوں کے لۓ ہی استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کے لۓ نہیں ۔ --فوجدار 10:49, 19 جون 2009 (UTC)

No Nonsense[ترمیم]

اب میں اس کا ترجمہ کیا کروں ؛ انگریزی میں ماہر اردو سمجھنے پڑھنے والوں کے لیۓ اردو کی نسبت انگریزی کم اجنبی ہوا کرتی ہے۔ خیر پھر بھی اردو ویکیپیڈیا کی لاج رکھنے کو کہا جاسکتا ہے کہ ----- کچھ غیرمنطق نہیں ----- یہ ایک کتابی سلسلے کا نام ہے۔ جی، برا نہیں مانیے گا صاحبِ مضمون بھائی آپ کی قابلیت و محنت پر حرف نہیں لیکن اس مضمون کے اندراجات واقعی بیانیہ نہیں ہیں۔ اس سے بہتر بات اور کیا ہوگی کہ جو جیسا ہے اس کو ویسا ہی لکھ دیا جاۓ؟ دائرۃ المعارف پر صارف سے مخاطب ہونے والی تحریر کا رواج نہیں ہے جیسا کہ آپ کو اردو کتب یا اخبارات و دیگر sites پر ملتا ہے۔ دائرۃ المعارف کی شناخت اور اس کی انفرادیت یہی ہے کہ یہاں الفاظ ایسے چنے جاتے ہیں جن سے یہ گمان نا ہو کہ کسی بات یا بیان کی توثیق یا تنسیخ کی جارہی ہے۔ مضمون میں حذف کا سانچہ لگانے کا برا نہیں مانیۓ گا ، جب مضمون دائرۃ المعارف کے معیار کا ہو جاۓ گا تو اس میں سے یہ سانچہ نکالا جاسکتا ہے۔ ایک آسان سی مثال دوں ؛ فرض کیجیۓ کہ ایک کتاب ہے کالے رنگ کی اب اس کو بیان کرنے کے مختلف انداز ہوسکتے ہیں

  1. یہ کتاب کالی ہے۔
  2. یہ تو ایک کالی کتاب ہے۔
  3. یہ تو ایک نہایت ہی کالی کتاب ہے۔
  4. یہ کتاب تو ہے ہی کالی بھائی صاحب۔

آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ اولین بیان ایک بیانیہ انداز کا ہے جبکہ باقی بیانات نمک مرچ والے بیانات ہیں۔ حقیقت لکھ کر اس کے آگے پیچھے بلا ضرورت وضاحتی جملے لگانے سے، مضمون میں سوالات پوچھنے سے یا اپنی بات کو پرزور انداز میں بیان کرنے سے ایک اخبار تو خوب بک سکتا ہے لیکن کوئی بھی سنجیدہ قاری اپنا اعتبار اس دائرۃ المعارف پر لازماً کھو بیٹھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف پرانے ساتھی آپ کو مختلف انداز میں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوشش کیجیۓ کہ آپ کا انداز No Nonsense Guide کے انداز کا ہوجاۓ تاکہ قاری اس دائرۃ المعارف کو بازاری سمجھ کر نظر انداز کرنے پہلے دس بار سوچے؛ اور کیا یہی آپ کا مقصد نہیں؟ کہ لوگ آپ کی تحریر پڑھ کر کچھ سوچیں۔ انہیں یہ یقین اور اعتبار ہو کہ موافق ہے یا مخالف ، پر جو کچھ اس دائرۃ المعارف پر لکھا ہے وہ ہے حقیقت۔ --سمرقندی 06:12, 20 جون 2009 (UTC)

  • میں فوجدار بھائی اور برادر سمرقندی سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ کچھ دیگر مضامین بھی اسی طرح کےنظر سے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سے بہتر کوئی کتاب آج تک دوہزار سال میں نہیں لکھی گئی۔ بہرحال توجہ فرمانے کا شکریہ۔

--Ubaidmughal 16:23, 20 جون 2009 (UTC)


سمجہنے کی باتیں[ترمیم]

سمر قندی بھائی اہل حدیث کے تعلق سے بہت ساری معلومات جمع کی گئی ہیں،اور ان کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے، انہیں ضائع ہونے نہ دیجیئے۔ اور موقع ملا تو اور بہت ساری اور صحیح معلومات جمع کرنے کا ارادہ ہے --Think good do good 13:55, 22 جون 2009 (UTC) آپ کے انداز تحریر سے لگتا ہے کہ آپ جماعت اہل حدیث کے مخالف ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہیے، اہل حدیث کو جاننے کے لیے انہیں کی لکہی ہوی کتابیں پڑھ لیں ،تعصب سے ہٹ کر مطالعہ کریں تو اس کی اصل حقیقت واضح اور منکشف ہو سکتی ہے،صرف مخالفین کی کتابیں پڑھ کر اہل حدیث کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ صحیح اور درست بات یہی ہے کہ اہل حدیت کو خود ان کی کتابوں سے جانیئے اور تبہی جا کہ اسکے بارے میں صحیح یا غلط رائے قائم کرلینا،اللہ ہی درست بات کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔ اللہ ہم سب کو حق اور حقیقت کو سمجہنے اور اس پر عمل پیراہونے کی توفیق دے آمین!

  • یہ مضمون نہیں لگتا کسی عالم اک تقریر کا متن معلوم ہوتا ہے ۔ اس کی زبان کو تقریری سے تحریری شکل دی جاۓ اور ‏غیرضروری عبارتوں کو خارج کیا جا‌ۓ اور اس کو مزید سرخیوں میں تقسیم کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔--فوجدار 15:17, 22 جون 2009 (UTC)
  • میں دعوہ سے کہہ سکتا ہوں کہ کل آپ ہی سمرقندی صاحب کو اہل حدیثوں کا دوست ہونے کا بھی سرٹیفکیٹ دیں گے۔ قانون کی پاسداری کرنے والے ایماندار افسران کا پاکستانی اور بھارتی معاشرے میں کوئی دوست نہیں ہوتا۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے کاموں کو من و عن تسلیم کر لیاجائے۔ ابھی چند روز قبل کی ہی بات ہے کہ سمرقندی صاحب ایک سلفی صارف کا اصولی دفاع کررہے تھے اور ہمارے صوفی بھائی ان پر وہی الزام عاید کررہے تھے جیسا کہ آپ گمان کررہے ہیں۔ اگر برا نہ منائیں تو کسی ایسے فرد کے ذمہ نظریہ اہل حدیث کے فروغ کی ذمہ داری عاید فرمائیں جو لکھنے لکھانے کے فن سے آشنا ہو۔ مختلف محاذوں پر لڑنے کے لئے مختلف صلاحتیں درکار ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر منہاج القراآن کے ساتھی عبدالستار منہاجین نے جو کام کیا ہے وہ بلاشبہ اپنے ادارے اور سربراہ کی حمایت میں ہے مگر وہ پروفیشنل انداز سے لکھتے رہے ہیں۔ میرے نزدیک ہر اچھے کام سے سیکھنا چاہئے۔ مجھے یاد آیا ۔۔۔۔۔ اہل حدیث مخالف لفظ سے ۔۔۔۔ پاکستان میں اہل حدیثوں کی کتنی جماعتیں ہیں؟ کیا ایک دوسرے سے دعوت کے طریقہ کار پر اختلاف کرنے والے اہل حدیث مخالف کہلائیں گے یا طریقہ کار کا اختلاف کہلائے گا۔ ِسمرقندی صاحب نے آپ کے طریقہ کار سے اختلاف کیا ہے جو کہ اصولی اور جائز ہے۔ وہ اہل حدیث مخالف نہیں ہیں بلکہ کسی کے بھی مخالف نہیں ہیں اس بات کا آپ یقین رکھیں۔ ایک مقامی اہل حدیث رہنما اپنی جماعت کے امیر علامہ ساجد میر کو درباری ملا کا خطاب دے رہے تھے میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں حق بات کہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ چاہے ہمارا امیر بھی غلط کام کرے ہم اس پر تنقید کریں گے۔ کیا آپ انہیں اہل حدیث مخالف کہہ سکتے ہیں؟ امید ہے میری گزارشات کا برانہیں منائیں گے۔ طبیب کے نشتر لگانے کے عمل کو مریض دشمنی نہیں کہا جاسکتا۔ چونکہ وہ تو اس کی بہتری کے لئے ہوتا ہے۔ --Ubaidmughal 17:59, 22 جون 2009 (UTC)

سر منڈھواتے ہی ۔۔۔[ترمیم]

چلیۓ! اسے کہتے ہیں کہ سر منڈھواتے ہی اولے پڑے۔ Think good do good بھائی میں آپ کو آج سے ٹی بھائی کے نام سے پکاروں گا۔ جی تو جناب ٹی بھائی؛ اسے کہتے ہیں کہ سر منڈھواتے ہی اولے پڑے۔ میں تو اہل حدیث کو ہاتھ ہی نہیں لگا رہا تھا اور صرف یادآوری کا اشتہار لگا کر چھوڑ دیا تھا لیکن آپ ہی کے دیوان عام میں کہنے پر آپ ہی کی اجازت کے بعد لکھنا شروع کیا اور ابھی تو ابتداء ہی کی تھی کہ آپ ہی خود معترض ہو چلے۔ اب یہ بتائیے کہ گاڑی چلے تو کیسے چلے؟ کسی بھی موضوع پر صرف اسی موضوع کی کتب سے لکھ دینے سے دائرۃ المعارف کا حق ادا نہیں ہوتا ، تمام طبقات کا نقطۂ نظر لکھنا ہوتا ہے۔ آپ اب تک کی عبارت میں اس جملۂ معترضہ کی جانب اشارہ فرما دیجیۓ جو کہ نامناسب ہے تو میں اسے درست کرنے کی کوشش کروں۔ میں نے تو ہر لحاظ سے خیال رکھا تھا کہ کوئی جانبدارانہ انداز مضمون میں نا آسکے مگر پھر بھی اگر ایسا ہوا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ براۓ مہربانی ناراض ہو کر اپنا کام نہیں ترک کیجیے گا، پہلے بھی بہت سے ساتھی ایسے ہی معاملات میں الجھ کر لکھنا چھوڑ چکے ہیں؛ اگر آپ میری تحریر سے اتفاق نہیں کرتے تو میں اس مضمون میں ترامیم نہیں کروں گا۔ جیسا آپ مناسب سمجھیں ویسے ہی بتا دیجیے میں نہیں چاہتا کہ اس طرح کے معاملات میں پڑ کر ویکیپیڈیا اپنے لکھنے والوں کو کھوتا رہے۔ --سمرقندی 05:04, 23 جون 2009 (UTC)

نقش و نگار[ترمیم]

جناب ٹی بھائی، وکیپیڈیا کے مضامین میں نقش و نگاری نہیں کی جاتی۔ آپ اپنے صفحہ صارف کو تو مختلف رنگوں اور حاشیوں سے سجا سکتے ہیں لیکن کسی مقالے کو نہیں۔ کاشف عقیل 21:33, 23 جون 2009 (UTC)

  • اس مضمون میں سے فقہی بحث کو حذف کردیا گیا ہے یہ اہل حدیث کا تعارفی صفحہ ہی رہنا چاہییے فقہی بحث کرکے اس فرقے کی حقانیت ثابت کرنے کی کوشش کرنا اور مناظرانہ رنگ میں رنگنا وکی کے مطابق نہیں ۔ فرقے کی کتابوں کے مناظرانہ اقتباسات کو شامل اس مضمون کو بلاوجہ طول نہ دیا جاۓ ۔ --فوجدار 14:42, 26 جون 2009 (UTC)


سمجھنے کی باتیں[ترمیم]

اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں نے اپنے سے کوئ بات یہاں نقل نہیں کی ہے ، جو بھی لکہا گیا ہے ان کے دلائل بھی دے دیے گئے ہیں۔ یہ ان کی باتیں اور ان کے دلائل ہیں جیسا کہ وہ اپنی کتابوں میں نقل کرتے ہیں اہل حدیث کی وجہ تسمیہ جیسا کہ ان کی کتاب میں لکھا ہے وہ میں نے یہاں نقل کردی ہے، رہی بات وہابی کے تعلق سے انشاء اللہ، وہ بھی تفصیل سےبیان کردی جائےگی۔ شاید آپ کو میری بات سمجھ میں آگئی ہوگی، براہ کرم اس مضمون سے بین السطور تنبیھات محو کردیں، تبادلۂ خیال کے صفحہ صفحہ صارف میں بات کريں،یہی بہتر لگتا ہے،

سنت اور حدیث دونوں ایک ہی ہیں، (((رہا اہلحدیث کا یہ کہنا کہ کلام اللہ کو بھی حدیث کہا جاتا ہے))) ان کی یہ بات محل نظر ہے، یہ ان کی رائے ہے میری نہیں ہے، اس بات کو سمجھیں! آپ کی بات صحیح ہے کہ اہل حدیث بھی حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال ،افعال اور تقریر کو کہتے ہیں، اور تمام علماء اسلام کا کہنا بھی یہی ہے،

اللہ اعلم

آپ کا ویکی دوست Think good do good 14:19, 28 جون 2009 (UTC)

  • ٹی بھائی میں نے کب کہا کہ آپ نے خود لکھا ہے۔ لیکن یہاں آپ خود غور فرمائیں کہ اہل حدیث بھی حدیث کا مطلب محمد کے قول کو بتاتے ہیں پھر یہاں حدیث ، اللہ کے کلام کو بھی کہا جاتا ہے لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے اہل حدیث کے بارے میں دھوکہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی؟
  • شاید ہی کوئی ایسا امام یا عالم ہوگا کہ جس نے کبھی کہا ہو کہ اسلام ، قرآن اور حدیث کو کہتے ہیں۔ سب علماء کی راۓ ہے کہ اسلام ، قرآن اور سنت کو کہا جاتا ہے، کیا آپ کی عبارت سے اسلام کی تعریف میں ابہام نہیں پیدا ہورہا؟ --سمرقندی 14:28, 28 جون 2009 (UTC)
  • میں تو آپ ہی کے بھلے کو کہہ رہا ہوں کہ جو خامیاں ہیں وہ سامنے نا لائی جائیں تو انسان کو اصلاح کا موقع نہیں ملتا۔ بہرحال ، آپ مناسب نہیں سمجھتے تو ان سرخ سطور کو جو { { لقمہ } } اور { { بند } } کے درمیان لکھی گئی ہیں نکال دیجیے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ --سمرقندی 14:36, 28 جون 2009 (UTC)
  • مجھے آپ نے یہ کہہ کر حیرت میں ڈال دیا کہ آپ کے نزدیک سنت اور حدیث دونوں ایک ہی ہیں؟ کوئی عام انسان اگر یہ بات کہتا تو مسکرا کر بات ختم ہو جاتی مگر آپ کے اپنے الفاظ کے مطابق آپ ایک عالم ہیں اور آپ سے ایسی بات ادا ہونا باعث حیرت ہے۔ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ حدیث اور سنت دو الگ چیزوں کے نام ہیں۔ --سمرقندی 14:49, 28 جون 2009 (UTC)

(((انشاء اللہ سنت اور حدیث کے تعلق سے ایک موقعے سے تفصیلی بات کریں گے فرق ہے یا نہیں اور فرق کس قسم کا ہے))) آپ کو جو علم ہے مجہے بتادیجئے۔


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات دینی اور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا اور امت کو اس کے کرنے کا حکم دیا یا (صحابہ کے کسی عمل پر خاموشی اختیار کی اور کچھ کہا نہیں اس کو حدیث کی اصطلاح میں تقریر رسول کہتے ہیں)، ان سب کے مجموعے کو حدیث کہا جاتا ہے، علمائے اسلام بتلاتے ہیں کہ اسلام قرآن وحدیث کا مجموعہ ہے، ان کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے، اس پر آپ کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے!

  • یہی تو عرض کر رہا ہوں کہ تمام فقہا کے مطابق اسلام ، قرآن و سنت کا نام ہے میں نے کہیں نہیں لکھا دیکھا کہ کسی فقہی نے لکھا ہو کہ اسلام ، قرآن و حدیث کا نام ہے۔ اس کی تفصیل اہل حدیث (عارضی) میں درج کردوں گا۔ فی الحال اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ --سمرقندی 15:12, 28 جون 2009 (UTC)

مغرب کا وقت ہورہا ہے اس کی تیاری کرنی ہے ، پھر ملیں گے انشاء اللہ

اللہ حافظ

--Think good do good 15:17, 28 جون 2009 (UTC)

اہل حدیث کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوا کہ یہ لوگ فروعات میں متشدد ہیں البتہ عقیدہ جو کہ اہم ہے وہ بالکل اہل سنت کے عین موافق ہے، اختلاف فروعات میں ہے،مقلد اور غیر مقلد بھائیوں میں شدت ٹھیک نہیں، ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے،فروعات میں اختلاف تو صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دور سے تھا لیکن،با ہم ایک دوسرے کا بڑا احترام کیا کرتے تھے۔ میں نے غیر جانبدار ہوکر مواد یکجا کیاہے۔ جیسا کہ وکیپیڈیا کا اصول ہے۔

سنت اور حدیث میں فرق[ترمیم]

سنت اصولی معنی میں حدیث سے الگ نہیں ہے،محدثین کے نزدیک حدیث کی جو تعریف کی جاتی ہے وہی تعریف سنت کی بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف اس سے مستثنی ہیں تشریعی طور سے آپ نے جو امور سر انجام دی ہیں، وہی حجت شرعیہ ہیں۔
اصولیوں کے نزدیک سنت اور حدیث میں فرق:-

  1. لغت میں سنہ سیرت اوراچھے یا برے طریقہ کو کہاجاتاہے۔ والاصل فیہ الطریقۃ والسیرۃ[1]
  2. اصطلاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم یا نہی اور جائز قرار دینے کو سنت کہتے ہیں،ما امر بہ الرسول ونھی عنہ وندب الیہ قولا وفعلا ولھذا یقال فی ادلۃ الشرع الکتاب والسنہ ای القرآن والحدیث[2] اور بقول ابن منظور :- واذا طلقت فی الشرع فانما یراد بھا ما امربہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونھی عنہ وندب الیہ قولا وفعلا مما لم ینطق بہ الکتاب الع‍زیز[3] بعض لوگ اس کو صرف رسول اللہ کے فعل تک محدود رکھتے ہیں لیکن بعد میں یہ لفظ حدیث کے مترادف ہونے لگا۔اس لحاظ سے گویا سنت ،حدیث کے مترادف ہے۔
  3. عرف عام میں لفظ سنۃ، شیعہ کے مقابلہ میں بولاجاتاہے۔
  4. اصولیین کی اصطلاح میں سنہ وہ تمام مستند احادیث جن سے احکام کا استنباط کیا جاتاہے۔ کو کہتے ہیں۔
  5. فقہاء کی اصطلاح میں :فرض کے مقابلہ میں نفلی عبادات کو کہاجاتاہے۔
  6. سنت ، بدعت کے مقابلہ میں بھی بولاجاتاہے۔ مثلا کہاجاتاہے صاحب سنہ،یعنی (صاحب اتباع،) سنت کا پیروکار
  7. سلف اورفقہاء اہل الحدیث کے نزدیک مرفوع حدیث کو کہاجاتاہے۔ جیسا کہ عبد الرزاق کا قول ہے:أخبرنا ابن جریج قال:قال ابن شهاب فی الرجل یقع علی البهیمة من الأنعام قال لم أسمع فیها سنة ولکن نراه مثل الزانی ان کان محصنا أو لم یحصن [4]
  8. سنن سنۃ کی جمع کتابوں کے ان مجوعے کو کہاجاتاہے جس میں مرفوع احادیث فقہی ابواب پر مرتب کی گئی ہیں۔جیسے کہ السنن الاربعة حدیث کی وہ کتابیں جنہیں ابو داود، تر مذی نسائی اور ابن ماجہ نے مرتب کی ہیں۔ اور ان اصحاب سنن نے اپنی کتابوں میں کسی نے کم اور کسی نے زیادہ ، آثار موقوفہ اور مقطوع کا اندراج کیاہے۔

حدیث لغت میں ابو البقاء کےبیان کےمطابق حدیث کا لفظ تحدیث سے اسم ہے، تحدیث کے معنی ہیں:خبر دینا ھو الاسم من التحدیث،وھوالاخبار[5] ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب حدیث بمعن اخبار (خبردینے) کے معنی میں استعمال کرتے تھے،مثلا وہ اپنے مشہور ایام کو احادیث سے تعبیر کرتے تھے، اسی لیے مشہور نحوی الفراء کہنا ہے کہ حدیث کی جمع احدوثہ اور احدوثہ کی جمع احادیث ہے[6]، لفظ حدیث کے مادہ کوجیسے بھی تبدیل کریں اس میں خبر دینے کا مفہوم ضرور موجود ہوگا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے وجعلناھم احادیث[7] ،،فجعلناھم احادیث[8] ،اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا[9]،،فلیاتو حدیث مثلہ[10]، بعض علماء کے نزدیک لفظ حدیث میں جدت کامفہوم پایاجاتاہے، اس طرح حدیث قدیم کی ضد ہے،حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں:- المراد بالحدیث فی عرف الشرع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،وکانہ ارید بہ مقابلۃ القرآن لانہ قدیم[11] شرعی اصطلاح میں حدیث سے وہ اقوال واعمال مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہوں، گویا حدیث کا لفظ قرآن کے مقابلہ میں بولاجاتاہے،اس لیے کہ قرآن قدیم ہے اور حدیث اس کے مقابلہ میں جدید ہے، اصطلاح میں حدیث سے مراد وہ اقوال واعمال اور تقریر(تصویب) مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہوں المراد بالحدیث فی عرف الشارع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم[12] الحدیث النبوی ھو عند الاطلاق ینصرف الی ما حدث بہ عنہ بعد النبوۃ من قولہ وفعلہ واقرارہ[13]اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے اقوال کو حدیث کا نام دیا ہے،آپ ہی نے یہ اصطلاح مقرر فرمائی، جیسا کہ حدیث میں ہے ابوہریرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کی شفاعت کی سعادت کس کو نصیب ہوگی آپ نے جوابا فرمایا ابو ہریرہ سے پہلے کو ئی شخص مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا کیونکہ وہ طلب حدیث کے بہت حریص ہیں[14][15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. [لسان العرب 6/399]
  2. [العجاج للخطیب،اصول الحدیث:18]
  3. [لسان العرب لابن منظور 6/399]
  4. [المصنف (13500)]
  5. [کلیات ابی البقاء:152]
  6. [قواعد التحدیث لجمال الدین القاسمی ص:61]
  7. [سورۃ المؤمنون:44]
  8. [سورۃ السبا:19]
  9. [سورۃ الزمر:23]
  10. [سورۃ الطور:34]
  11. [تدریب الراوی للسیوطی ج:1/ص:42]
  12. [ تدریب الراوی ج:1/ص:42]
  13. [مجوع الفتاوی ج:18/706]
  14. [ صحیح البخاری 8/148]
  15. [بحوالہ، التحدیث فی علوم الحدیث،،ص:140،مؤلف:پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر]

(٭)کتاب لسان المحدثین المولف:محمد خلف سلامہ روئے خط عربی

انتباہ[ترمیم]

مضمون کو کئ سرخیوں میں اور بیانیہ انداز میں کردیا گیاہے۔ اس لیے صفائی نو لکھائی سانچہ مٹادیاجا رہاہے۔ --Think good do good 11:32, 3 جولا‎ئی 2009 (UTC)

انتظامی سانچے، تبادلہء خیال ضروری ہے[ترمیم]

اسلام علیکم ٹی بھائی۔ اس قسم کے انتظامی سانچوں کو یکطرفہ طور پر حذف نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وکیپیڈیا کا اصول ہے۔ اس کے لئے مضمون کا تبادلہء خیال صفحہ پر پہلے گفتگو کرنا ضروری ہے۔ میں آپ سے اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ مضمون اب قطعات میں تقسیم کردیا گیا ہے اس لیے صفائی نو لکھائی کا وہ حصہ نکال رہا ہوں۔ مگر مضمون تاحال غیر جانبدار نہیں ہے۔ غیر جانبدار مضمون کی تعریف وکیپیڈیا پر یہ کی جاتی ہے کہ آپ کو مضمون پڑھ کر یہ پتہ نہ چلے کہ مضمون لکھنے والے کا اپنا مذہب کیا ہے اور اس کی اپنی ہمدردیاں کس طرف ہیں۔ مضمون میں ایک سرخی ہے "اہل حدیث کی امتیازی خوبیاں" جو مجھے صاف صاف بتا رہی ہے کہ مضمون نگار اہل حدیث ہے یا ان کی طرف ہمدردی رکھتا ہے۔

میں صرف وکیپیڈیا کے اصول لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ برا نہیں منائیں گے اور وکیپیڈیا پر اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ مخلص: --کاشف عقیل 13:47, 3 جولا‎ئی 2009 (UTC)


٭ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کاشف بھائی میں نے اس سرخی کے تحت کیا لکھاہے؟ میں نے یہ صاف لکھاہے کہ اہل حدیث لوگ اپنی امتیازی خوبیاں یہ بیان کرتے ہیں: اہل حدیثوں کی امتیازی خوبیاں ان لوگوں کے ہاں کیاہیں وہ حوالہ کے ساتھ ذکر کردیاہے۔سمجھنے کی کوشش کریں!، یہ خواہ مخواہ کے جانبدارنہ سانچہ اس تحریر میں ڈالنا اہل حدیثوں سے دشمنی کا ثبوت ہے وہ بھی بنا کسی خاص وجہ کہ اہل علم کے لیے بہت ہی معیوب بات ہے،--Think good do good 21:07, 5 اگست 2009 (UTC)

آخر ایسا کیوں ہے کہ وکیپیڈیا پہ غیر مقلد وہابی گلابی نجدی اہل خبیثوں کا قبضہ ہے ؟

ج: جناب پہلے بات کرنے کی تمیز کسی شریف سے سیکھيئے بعد میں بات کیجیئے،کسی کی اہانت وکیپیڈیا کے اصول کے خلاف ہے، یہاں کسی کا کسی پر قبضہ نہیں سب کو آزادی ہے۔ اختلاف بھی ادب کے دائرے میں رہ کر،کرنا چاہیے۔یہ بد زبانی کسی کے لیے بھی مناسب نہیں۔اس میں خود آپ کی توہین ہے۔--Think good do good 21:07, 5 اگست 2009 (UTC)

تبادلۂ خیال:اہل حدیث (عارضی) / حذف شدہ مضمون[ترمیم]

صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین رائے کو اہمیت نہیں دیتے تھے، بلکہ براہ راست قرآن وحدیث پر عمل کرتے تھے، اگر کسی پیش آمدہ مسئلہ میں حدیث کا علم نہ ہو تو اجتہاد کرتے تھے،اور جب انہیں حدیث مل جاتی تو اپنی بات سے رجوع کرتے اور حدیث کے مطابق عمل کرتے اور فیصلہ دیتے، تاریخ کا غیرجانبدارانہ مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ اہل حدیث تو عہد صحابہ ہی سے ہیں،اہل الری تو بہت بعد کی پیداوار ہے، اہل حدیث اصل اسلام: قرآن وحدیث کی طرف بلانے والے، ان کے ہاں ضرورتا ہی قیاس کیا جاتا ہے، کتنی ہی ایسی صحیح احادیث ہیں جو اہل الری کے ہاں متروک ٹہریں، خلاف قیاس وعقل کہ کر رد کردی گئیں! بلا دلیل منسوخ قرار دے دی گئیں۔ یا یہ کہا گیا کہ ہمارے مسلک کے خلاف ہے،اس لیے اس پر عمل نہیں ہوگا۔عقل کو قرآن وحدیث کسوٹی پر پرکہنے کے بجائےکے قرآن وحدیث کو عقل کی کسوٹی پرکہنے لگے، جب کہ اہل حدیث نص صریح کی موجودگی میں قیاس ترک کردیتے ہیں، اہل الری احا دیث کی تاویل کرکے قیاس کو ترجیح دیتے ہیں، صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعیف احادیث پر عمل کرتے ہیں ، یہ بات آئمہ رحمھم اللہ کے دور میں نھیں تھی یہ متاخرین کے دور کی بات ہے کہ انہوں نے آئمہ کی تقلید کو واجب قرار دے دیا ،جس کی کوئی دلیل نہیں قرآن وحدیث میں۔

(( جسے اللہ ہدایت دے، اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں))

  • کیا میں نے پھر کوئی غلطی کردی؟ اگر ایسا ہے تو براے مہربانی اس غلط جملے کو یہاں نقل فرما دیجیۓ تاکہ ناچیز کو کچھ معلوم تو ہو کہ معاملہ کہاں غلط ہو رہا ہے۔ --سمرقندی 15:10, 25 جون 2009 (UTC)
  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، سنت کے معنی طریقہ اور اہل سنت کے معنی طریقے والے سوال یہ ہے کہ طریقہ کس کا ہے؟ صرف رسول اللہ کا یہ پھر کسی اور کا؟ رسول اللہ کا طریقہ نمونہ سنت حکم ،قول اور فعل جس کتاب میں بیان کیا گیا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ کتابوں کے مختلف فنون ہیں، مثلا نحو،صرف، منطق فلسفہ ،طب، حدیث،فقہ،اصول اور مصطلح وغیرہ، تو جس کتاب میں نبی کا طریقہ نمونہ قول اور عمل بیان کیا گیا ہو، اسے کیا کہتے ہیں،حدیث ہی کہی جائگی ناں!

سنت حدیث ہی کو کہتے ہیں،یہ کوئی دوسری چیز نہیں جیسا کہ

مولانا اشرف علی تھانوی حنفی رقمطراز ہیں :- {قرآن وحدیث کے حکم پر چلنا} اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہ تم لوگوں میں ایسی چیز چھوڑے جاتاہوں، اگر تم ان کو تھامے رہوگے تو کبھی نہ بھٹکوگے۔ ایک تو اللہ کی کتاب یعنی قرآن دوسری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت یعنی حدیث۔[1]

  • جو حدیث بیان فرمائی ہے اس کے اندراج کا حوالہ بھی مرحمت فرما دیجیے، حدیث کی کسی مستند کتاب سے ہے؟ میں اس کتاب میں اس کی عربی عبارت دیکھنا چاہتا ہوں ایسے نازک موقعے پر ترجمے پر اعتبار کرنے کی کوئی منطق نہیں بنتی۔ --سمرقندی 16:46, 30 جون 2009 (UTC)
  • سمرقندی بھائی، میری رائے میں TGDG کی بات بھی اپنی جگہ درست ہے۔ حدیث صرف اور صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال پر مشتمل نہیں۔ ایسی احادیث بھی ہیں جن میں انھوں کے کچھ کیا اور راوی نے اس سے یہ اخذ کیا کہ ایسا کرنا درست ہے یا حضور نے مسلمانوں کو کچھ کرتے دیکھا اور اس پر خاموش رہے۔ یہ ایک طرح سے سنت ہی ہوئی۔ میرے خیال میں تو سنت ہم تک حدیث کے ذریعے ہی پہنچی ہے۔ اگر آپ کو ایسی سنتیں معلوم ہیں جو ہم تک حدیث کے علاوہ دوسرے ذرائع سے پہنچی ہیں حوالہ دے کر ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں۔ --کاشف عقیل 17:07, 30 جون 2009 (UTC)
  • یہ بہت نازک معاملہ ہے اور میں آپ کی اور ٹی بھائی کی راۓ کی اھمیت کو اچھی طرح سمجھ رہا ہوں۔ ایک نظر حوالہ 4 پر موجود مضمون بھی دیکھ لیجیۓ گا کافی معاملہ واضح ہو جاۓ گا۔ دوسری بات یہ کہ میں نے مضمون کے جدول میں یہ لکھ دیا ہے کہ تقریر بھی حدیث کا حصہ ہے اور تقریر اس ہی کو کہتے ہیں جس کا کاشف بھائی آپ نے حوالہ دیا ہے کہ وہ بات جس کو کرتے دیکھ کر نبی نے خاموشی اختیار کی اور اس طرح اس عمل کے درست ہونے کی سند حاصل ہوئی وہ بھی حدیث ہے۔ ایک اور مثال یوں بیان کر سکتا ہوں کہ آپ یہ سوچیۓ کہ حج کی ادائگی کا طریقہ کار ہم تک کیسے پہنچا ؟ کیا یہ طریقہ قرآن میں درج ہے؟ کیا کوئی حدیث ایسی ہے جو حج کا مکمل طریقہ بیان کرتی ہو ؟ حج کا طریقہ ہم تک محمد کے عہد کی نسل سے منتقل ہو کر پہنچا ہے اور اسی کو سنت کہا جاتا ہے۔ اصل میں سنت اور علم الحدیث پر الگ صفحات لکھنے ہوں گے وہاں اس طرح کی اور مثالیں پیش کروں گا۔ حدیث کا مضمون بھی ابھی مکمل نہیں ہے اس میں بھی مزید بات کو واضح اور باحوالہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ کیا میری مذکورہ بات سے معاملہ کچھ واضح ہوا؟ یہ میں اس لیۓ پوچھ رہا ہوں کہ ہوسکتا ہے میں ہی غلطی پر ہوں۔ --سمرقندی 17:15, 30 جون 2009 (UTC)
  • شکریہ سمرقندی بھائی۔ جس مضمون کی طرف آپ نے اشارہ کیا اس سے حدیث اور سنت کا فرق تو بالکل واضع ہو گیا اور آپ کا موقف اسی مضمون کے مطابق ہے۔ اب صرف یہ دیکھنا ہو گا کہ کتنے مسلم علماء، خصوصاً ائمہ کرام اور دوسری سے چوتھی صدی ہجری کے علماء، اس تعریف پر متفق ہیں۔ اگر یہ حوالہ جات مل جائیں تو مضمون اور بہتر ہو جائے گا۔ --کاشف عقیل 17:31, 30 جون 2009 (UTC)
  • کاشف بھائی ، خاکسار ایک عام سا آدمی ہے؛ لیکن جب ویکی پر طبی مضامین لکھتا ہوں تو اطبا سے اور ہندسیاتی مضامین لکھتا ہوں تو مہندسین سے اور مذہبی مضامین لکھتا ہوں تو علما سے مشورے کرتا رہتا ہوں۔ میں انشااللہ ہر بات کو مکمل شفاف اور مستند ترین حوالہ جات سے درج کروں گا ابھی تو یہ مضمون ابتداء میں ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ حج ، سنت ابراہیمی ہے۔ یہ ایک جملہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے اور شاید ہر مسلمان اس بات کو جانتا ہے لیکن کبھی کوئی غور نہیں کرتا کہ اس بات میں کیا کہا جارہا ہے؟ یہاں بھی سنت کا ایک نسل سے دوسری نسل میں اجتماعی طور پر منتقل ہونے کا مفہوم پوشیدہ ہے۔ یعنی اسلام کوئی نیا دین نہیں ہے بلکہ محمد سے پہلے بھی جس قدر انبیا آۓ ان کی سنت بھی نسل در نسل ہوتی ہوئی محمد کے عہد کی نسل تک پہنچیی۔ نبی نے قرآن اور حدیث کی مدد سے اس سنت کی تجدید کی۔ اہل حدیث پر حد سے زیادہ لگاوٹ رکھنے کی وجہ سے ہمارے ٹی بھائی اسلام کو محدود بنا رہے ہیں اس کا انہیں شاید ادراک نہیں ہے۔ --سمرقندی 17:40, 30 جون 2009 (UTC)

سمرقندی بھائی،کاشف بھائی، حدیثِ نبویﷺ میں حج کے احکامات بہت تفصيل سے درج ہیں ملاحظه فرمایےصحیح بخاری جلدنمبر۲ (کتاب الحج)۔--محمد شامی 15:17, 20 دسمبر 2013 (م ع و)

غلط بات کی تردید[ترمیم]

احادیث مستند اور غیر مستند ہوتی ہیں ان کا خیال اہل الرای نہیں کیا کرتے ان کے قیاس کی تائید غیرمستند حدیث سے بھی ہوتی ہے تو اس کو دلیل کے طور پر پیش کیا کرتے ہیں، جبکہ اہل الحدیث محدیثین صحیح اور مستند احادیث سے ہی دلیل پکڑتے ہیں اور انہیں کو حجت قرار دیتے ہیں۔ وہ لوگ غیر مستند احادیث پر نہ عمل کرتے ہیں نہ اسے حجت قرار دیتے ہیں۔ کتنی ہی صحیح مستند احادیث ہیں جن کو اہل الرائے نے رد کردیا،اور کتنی ہی ایسی غیر مستند احادیث ہیں جن پر وہ عمل کرتے ہیں۔ غلط بات اہل حدیث کی طرف منسوب نہ کیجئے گا۔ سمر قندی بھائی! علم مصطلح الحدیث کا مطالعہ کیجئے، علوم الحدیث پر لکھی گئی کتابیں مطالعہ کیجئیے، بے وزن اور غلط باتیں محدثین اہل الحدیث کی طرف منسوب کرنا بڑی بُری بات ہے۔--Think good do good 10:20, 1 جولا‎ئی 2009 (UTC)

سمرقندی بھائی! اہل حدیث کا تاریخی جائزہ ،باوجود اتنی ساری سرخیوں کے غیر واضح ہی ہے، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں، سمجھ سے باہر ہے، دوسری بات یہ غیر ضروری سرخیاں غیر ضروری طوالت جیسکہ ایک سرخی گمان ہائے ناقص، اور سنت اور حدیث میں فرق سنت اورحدیت کا جدول،کسی اور جگہ لکھنا مگر یہاں بے کار اور غیر ضروری ہے۔ لگتاہے آپ اہل حدیث کی تاریخ بیان نہیں کرپائیں گے۔ صحیح جائزہ زیادہ علم کا محتاج ہے،البتہ آپ یہ کرسکتے ہیں کہ تاریخ اہل حدیث پر لکھی گئی کتابوں کا نچوڑ یا تلخیص بیان کرسکتے ہیں اور بس۔ اور یہ بھی غیر جانبدار شخص ہی کرسکتا ہے۔

  • ٹی بھائی آپ پریشان نہیں ہوں؛ میں نے تو مضمون کے نام میں ہی (عارضی) لگا رکھا ہے اور یہ عارضی مضمون تو صرف ایک موازنے کے طور پر لکھا جارہا ہے۔ مجھے مکمل کرنے دیجیے ، جب مکمل ہو جاۓ گا تو میں فیصلہ آپ تمام ساتھیوں پر چھوڑ کر خاموش ہو جاؤں گا، دونوں میں سے جس پر تمام ساتھیوں کا اتفاق ہو جاۓ اس مضمون کو اصل صفحہ اہل حدیث پر رکھ کر دوسرے کے مواد کو حذف کر دیا جاۓ گا۔ میرے خیال میں اتنی وضاحت کے بعد تو آپ کو تسلی ہو جانی چاہیۓ کہ میں کسی بھی قسم کا اصرار نہیں کروں گا اور جو سب ساتھیوں کا فیصلہ ہو وہ کر لیجیے گا۔ اور یہ بھی تسلی رکھیۓ کہ جو مضمون باقی رکھا جاۓ گا اس کے تاریخچہ میں آپ ہی کا نام محفوظ رہے گا کیونکہ دونوں میں سے جو مضمون بھی چنا گیا اس کو اصل اہل حدیث پر رکھا جاۓ گا اور کے تاریخچے میں آپ ہی کا نام جگمگا رہا ہے۔ ٹھیک؟ اب بھی کوئی اعتراض یا بیچینی باقی ہے Smile.PNG --سمرقندی 13:19, 1 جولا‎ئی 2009 (UTC)

٭السلام علیکم مجھے نام سے کوئی مطلب نہیں مجھے مطلب ہے صحیح معلومات سے۔مبہم اور غیر واضح مضمون پر میرا نام محفوظ رہے یہ مجھے پسند نہیں۔غیر جانبدار ہوکر اہل حدیث کا تاریخی تجزیہ واضح انداز میں بیان کریں۔اور غیر ضروری سرخیوں اور مواد کو حذف کردیں،بہتر رہےگا۔

حوالہ[ترمیم]

  1. [ بھشتی زیور ص:27-حصہ 7 ]

na to cuty na azafa krny[ترمیم]

aoa! sub thek kikh hai. agr as main azafa krty rahy ya cuty rhay to firq bandi ki jung ho jay gi,sajid imran کافی بیہودہو انداز میں مخاطب کرنے کی صلاحیت رکہٹے ہو لگتا ہے کہ آپ کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے

اہل حدیث کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی دین محمدی ﷺ کی[ترمیم]

حنفیت کی اہل حدیث کے خلاف اس طرح کی گفتگو کہ اہل حدیث برصغیر تک محدود ایک فرقہ ہے

اہل حدیث کا وجود کب سے ہے ؟ اس سوال کے جواب میں بہت سارے لوگ غلط رخ پر تحقیق کرنے لگتے ہیں ، اور نام ’’اہل حدیث‌‘‘ کے پیچھے پڑجاتے ہیں‌ کہ یہ نام کب سے استعمال ہورہا ہے !!! سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ کسی چیز کے وجودکی تاریخ معلوم کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کیا کسی چیز کی تاریخ اس کے نام کے ذریعہ معلوم کی جاتی ہے یا اس کی خوبیوں واوصاف اورمادے کے ذریعہ ؟ سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے وجود کی تاریخ معلوم کرنا ہو تو صر ف اس کے نام سے یہ چیز ہرگزمعلوم نہیں کی جاسکتی ، بلکہ ہمیں اس کے اوصاف اورخوبیوں اورمادوں کو دیکھ کر ہی پتہ لگانا ہوگا کہ اس چیز کا وجود کب سے ہے؟ آئیے اسی بات کوہم چندمثالوں سے سمجھتے ہیں ۔ سرزمین کی مثال : سرزمین کی مثال لیجئے اگرکوئی پوچھے کہ دنیا میں سرزمین پاکستان کا وجود کب سے ہے ؟ توکیا اس کا جواب یہ ہوگا کہ تقسیم ہندکے بعد؟ کیا تقسیم ہند سے پہلے اس سرزمین کا وجود نہ تھا؟ یقینا اس سرزمین کا وجود تھا لیکن اس کانام پاکستان بعدمیں پڑا اوربعد میں یہ الگ نام پڑجانے سے یہ سرزمین نئی نہیں ہوجائے گی۔ شہرکی مثال: ہندوستان کا شہر ممبئی پوری دنیا میں مشہور ہے اگرکوئی سوال کرے کہ ہندوستان میں اس کا وجود کب سے ہے توکیا یہ جواب دیا جائے گا کہ سترہ اٹھارہ سال سے ؟ کیونکہ اس سے قبل اس کا نام بمبئی تھا ممبئی نہیں ، یقینا ممبئی یہ نیا نام ہے،تو کیا اس شہر کے نام میں تبدیلی آجانے اس شہر کے وجود کی تاریخ بدل جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ اشخاص کی مثال: بہت سارے لوگ اسلام قبول کرتے ہیں تو مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام بدل دیتے ہیں ، یعنی عبداللہ یا عبدالرحمن وغیرہ نیا نام رکھ لیتے ہیں ، تو کیا اس نئے نام کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش بھی بدل جائے گی؟ ایک نومسلم جس نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھ لیا اگرکسی سے سوال ہوکہ اس دنیا میں وہ کب سے ہے؟ توکیا وہ تاریخ بتلائی جائے گی جب اس نے عبداللہ نام رکھا یا وہ تاریخ جب وہ پیدا ہوا؟ مذہب کی مثال: اگوکوئی سوال کرے کہ کرسچن (Christian )مذہب اس دینا میں کب سے ہے توکیا یہ جواب دیا جائے گا ، کہ جب سے اس لفظ کا وجود ہواہے؟ یا یہ کو جب سے عیسی علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے؟ یقینا مذہب عیسائیت کا یہ نام بعد میں اختیار کیا گیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے قبل اس مذہب کا وجود نہ تھا۔ عود الی المقصود: مسلک کا بھی یہی معاملہ ہے۔ کسی مسلک کے نئے پرانے کا فیصلہ اس کے نام سے ہرگزنہیں ہوگا بلکہ اس کے منہج ،عقائد اوراصولوں سے ہوگا، اگرکوئی گروہ نئے منہج اوراصولوں کا پا پند ہوتو وہ بھلے اپنے لئے کوئی پرانہ نا م منتخب کرلے ایسا کرنے سے اس کا مسلک پرانا نہیں ہوجائے گا، اسی طرح اگرکوئی گروہ قدیم منہج اوراصولوں پرگامزن ہوتو گرچہ وہ اپنے لئے کوئی نیا نام چن لے اس سے اس کا مسلک نیا نہیں ہوجائے گا،اس لئے جب بھی یہ پتہ لگانا ہو کہ کون سامسلک کب سے ہے تو اس کے نام کے پیچھے پڑنے کے بجائے اس کے منہج اوراصول کا پتہ لگائیے کہ ان کا وجود کب سے ہے ،اگرمنہج اوراصول نیا ہے تو مسلک نیا ہے اوراگرمنہج واصول قدیم ہے تو مسلک بھی قدیم ہے۔ جہاں تک نام کا معاملہ ہے تویہ ایک الگ مسئلہ ہے اس پر صر ف اس پہلو سے گفتگو ہوسکتی ہے کہ یہ نام درست ہے یا نہیں ، لیکن یہ چیزقدامت وحداثت کی دلیل کبھی نہیں بن سکتی۔ یعنی اگرنام نیا ہو لیکن عقائدواصول قدیم ہوں تو مسلک قدیم ہی ہوگا، اوراگر نام قدیم ہولیکن عقائدواصول نئے ہوں تو مسلک نیا ہی ہوگا، پرانا نام رکھ لینے سے نہ توکوئی جدید مسلک قدیم ہوجائے گا اورنا ہی نیا نام رکھ لینے سے کوئی قدیم مسلک جدید بن سکتاہے،بہرحال مسلک کے ناموں کا ان کے وجود کی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتاہے۔ اب اگر مسلک اہل حدیث کی تاریخ دیکھنی ہو اوریہ معلوم کرناہوکہ یہ مسلک کب سے ہے تو اس مسلک کے عقائد واصول دیکھیں ان کا منہج وطرزاستدلال دیکھیں ، ان کے دینی اعمال کی کیفیت دیکھیں ، ان کی نماز دیکھیں ، ان کا رزہ وحج دیکھیں ان کا ہر دینی عمل دیکھیں ۔ اس کے بعد پھر پتہ لگائیں کہ عہدنبوت میں ان کے عقائدواصول کا وجود تھا یا نہیں؟ عہدنبوت میں ان کے منہج وطرزاستدلال کا وجودتھا یا نہیں، ان کے دینی اعمال، عہدنبوی کے اعمال سے موافقت رکھتے ہیں یا نہیں ، اگرہاں اوربے شک ہاں تو یہ مسلک قدیم ہے ، اس کا وجود عہدنبوی سے ہے والحمدللہ۔ اسی کسوٹی پر ہرمسلک کی تاریخ معلوم کی جانی چاہئے، دیگرجنتے بھی مسالک ہیں خواہ ان کے نام نئے ہوں یاپرانے ،ان کے عقائد واصول اورمنہج دیکھیں گے توعہدنبوی میں ان کا ثبوت قطعانہیں ملے گا، بلکہ یہ خوبی صرف اورصرف مسلک اہل حدیث کی ہے کہ اس کا ہرعقیدہ واصول کا عہدنبوی میں واضح طورپر ملتاہے۔ الغرض یہ کہ مسلک اہل حدیث کوئی نیا مسلک نہیں ہے ، دنیا کا کوئی بھی شخص اسے نیا ثابت نہیں کرسکتا زیادہ سے زیادہ اس بات پرحجت کرسکتاہے کہ یہ نام کب سے چل رہاہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیاکہ اگریہ فرض بھی کرلیں کہ یہ نام عصرحاضر میں اختیا رکیا گیاہے (حالانکہ اس نام کی قدامت پر بے شمارشواہد موجودہیں ) توبھی اس مسلک کو نیا مسلک نہیں باورکرایاجاسکتا، یہ باورکرانے کے لئے ضروری ہوگا کہ اہل حدیث کے منہج اورصحابہ کے منہج میں اختلاف ثابت کردیا جائے، اوریہ ناممکن ہے۔ لہذا مسلک ا ہل حدیث کا وجود تب سے ہے جب سے اس دنیا میں حدیث (فرمان الہی وفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کا وجودہے کیونکہ یہی اہل حدیث کا عقیدہ واصول ہے، والحمدللہ۔

اہل حدیث کا وجود کب سے ہے ؟ اس سوال کے جواب میں بہت سارے لوگ غلط رخ پر تحقیق کرنے لگتے ہیں ، اور نام ’’اہل حدیث‌‘‘ کے پیچھے پڑجاتے ہیں‌ کہ یہ نام کب سے استعمال ہورہا ہے !!! سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ کسی چیز کے وجودکی تاریخ معلوم کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ کیا کسی چیز کی تاریخ اس کے نام کے ذریعہ معلوم کی جاتی ہے یا اس کی خوبیوں واوصاف اورمادے کے ذریعہ ؟ سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے وجود کی تاریخ معلوم کرنا ہو تو صر ف اس کے نام سے یہ چیز ہرگزمعلوم نہیں کی جاسکتی ، بلکہ ہمیں اس کے اوصاف اورخوبیوں اورمادوں کو دیکھ کر ہی پتہ لگانا ہوگا کہ اس چیز کا وجود کب سے ہے؟ آئیے اسی بات کوہم چندمثالوں سے سمجھتے ہیں ۔ سرزمین کی مثال : سرزمین کی مثال لیجئے اگرکوئی پوچھے کہ دنیا میں سرزمین پاکستان کا وجود کب سے ہے ؟ توکیا اس کا جواب یہ ہوگا کہ تقسیم ہندکے بعد؟ کیا تقسیم ہند سے پہلے اس سرزمین کا وجود نہ تھا؟ یقینا اس سرزمین کا وجود تھا لیکن اس کانام پاکستان بعدمیں پڑا اوربعد میں یہ الگ نام پڑجانے سے یہ سرزمین نئی نہیں ہوجائے گی۔ شہرکی مثال: ہندوستان کا شہر ممبئی پوری دنیا میں مشہور ہے اگرکوئی سوال کرے کہ ہندوستان میں اس کا وجود کب سے ہے توکیا یہ جواب دیا جائے گا کہ سترہ اٹھارہ سال سے ؟ کیونکہ اس سے قبل اس کا نام بمبئی تھا ممبئی نہیں ، یقینا ممبئی یہ نیا نام ہے،تو کیا اس شہر کے نام میں تبدیلی آجانے اس شہر کے وجود کی تاریخ بدل جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ اشخاص کی مثال: بہت سارے لوگ اسلام قبول کرتے ہیں تو مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام بدل دیتے ہیں ، یعنی عبداللہ یا عبدالرحمن وغیرہ نیا نام رکھ لیتے ہیں ، تو کیا اس نئے نام کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش بھی بدل جائے گی؟ ایک نومسلم جس نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھ لیا اگرکسی سے سوال ہوکہ اس دنیا میں وہ کب سے ہے؟ توکیا وہ تاریخ بتلائی جائے گی جب اس نے عبداللہ نام رکھا یا وہ تاریخ جب وہ پیدا ہوا؟ مذہب کی مثال: اگوکوئی سوال کرے کہ کرسچن (Christian )مذہب اس دینا میں کب سے ہے توکیا یہ جواب دیا جائے گا ، کہ جب سے اس لفظ کا وجود ہواہے؟ یا یہ کو جب سے عیسی علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے؟ یقینا مذہب عیسائیت کا یہ نام بعد میں اختیار کیا گیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے قبل اس مذہب کا وجود نہ تھا۔ عود الی المقصود: مسلک کا بھی یہی معاملہ ہے۔ کسی مسلک کے نئے پرانے کا فیصلہ اس کے نام سے ہرگزنہیں ہوگا بلکہ اس کے منہج ،عقائد اوراصولوں سے ہوگا، اگرکوئی گروہ نئے منہج اوراصولوں کا پا پند ہوتو وہ بھلے اپنے لئے کوئی پرانہ نا م منتخب کرلے ایسا کرنے سے اس کا مسلک پرانا نہیں ہوجائے گا، اسی طرح اگرکوئی گروہ قدیم منہج اوراصولوں پرگامزن ہوتو گرچہ وہ اپنے لئے کوئی نیا نام چن لے اس سے اس کا مسلک نیا نہیں ہوجائے گا،اس لئے جب بھی یہ پتہ لگانا ہو کہ کون سامسلک کب سے ہے تو اس کے نام کے پیچھے پڑنے کے بجائے اس کے منہج اوراصول کا پتہ لگائیے کہ ان کا وجود کب سے ہے ،اگرمنہج اوراصول نیا ہے تو مسلک نیا ہے اوراگرمنہج واصول قدیم ہے تو مسلک بھی قدیم ہے۔ جہاں تک نام کا معاملہ ہے تویہ ایک الگ مسئلہ ہے اس پر صر ف اس پہلو سے گفتگو ہوسکتی ہے کہ یہ نام درست ہے یا نہیں ، لیکن یہ چیزقدامت وحداثت کی دلیل کبھی نہیں بن سکتی۔ یعنی اگرنام نیا ہو لیکن عقائدواصول قدیم ہوں تو مسلک قدیم ہی ہوگا، اوراگر نام قدیم ہولیکن عقائدواصول نئے ہوں تو مسلک نیا ہی ہوگا، پرانا نام رکھ لینے سے نہ توکوئی جدید مسلک قدیم ہوجائے گا اورنا ہی نیا نام رکھ لینے سے کوئی قدیم مسلک جدید بن سکتاہے،بہرحال مسلک کے ناموں کا ان کے وجود کی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہوتاہے۔ اب اگر مسلک اہل حدیث کی تاریخ دیکھنی ہو اوریہ معلوم کرناہوکہ یہ مسلک کب سے ہے تو اس مسلک کے عقائد واصول دیکھیں ان کا منہج وطرزاستدلال دیکھیں ، ان کے دینی اعمال کی کیفیت دیکھیں ، ان کی نماز دیکھیں ، ان کا رزہ وحج دیکھیں ان کا ہر دینی عمل دیکھیں ۔ اس کے بعد پھر پتہ لگائیں کہ عہدنبوت میں ان کے عقائدواصول کا وجود تھا یا نہیں؟ عہدنبوت میں ان کے منہج وطرزاستدلال کا وجودتھا یا نہیں، ان کے دینی اعمال، عہدنبوی کے اعمال سے موافقت رکھتے ہیں یا نہیں ، اگرہاں اوربے شک ہاں تو یہ مسلک قدیم ہے ، اس کا وجود عہدنبوی سے ہے والحمدللہ۔ اسی کسوٹی پر ہرمسلک کی تاریخ معلوم کی جانی چاہئے، دیگرجنتے بھی مسالک ہیں خواہ ان کے نام نئے ہوں یاپرانے ،ان کے عقائد واصول اورمنہج دیکھیں گے توعہدنبوی میں ان کا ثبوت قطعانہیں ملے گا، بلکہ یہ خوبی صرف اورصرف مسلک اہل حدیث کی ہے کہ اس کا ہرعقیدہ واصول کا عہدنبوی میں واضح طورپر ملتاہے۔ الغرض یہ کہ مسلک اہل حدیث کوئی نیا مسلک نہیں ہے ، دنیا کا کوئی بھی شخص اسے نیا ثابت نہیں کرسکتا زیادہ سے زیادہ اس بات پرحجت کرسکتاہے کہ یہ نام کب سے چل رہاہے۔ لیکن جیسا کہ عرض کیا گیاکہ اگریہ فرض بھی کرلیں کہ یہ نام عصرحاضر میں اختیا رکیا گیاہے (حالانکہ اس نام کی قدامت پر بے شمارشواہد موجودہیں ) توبھی اس مسلک کو نیا مسلک نہیں باورکرایاجاسکتا، یہ باورکرانے کے لئے ضروری ہوگا کہ اہل حدیث کے منہج اورصحابہ کے منہج میں اختلاف ثابت کردیا جائے، اوریہ ناممکن ہے۔ لہذا مسلک ا ہل حدیث کا وجود تب سے ہے جب سے اس دنیا میں حدیث (فرمان الہی وفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کا وجودہے کیونکہ یہی اہل حدیث کا عقیدہ واصول ہے، والحمدللہ۔

اہلحدیث یا وہابی دہشت گرد[ترمیم]

سبحان اللہ! اب دہشت گرد فتنے بھی لوگوں کو حدیث اور سنت کی تعریفیں بتائیں گے۔ تمام وہابی اور نیم وہابی فرقے جنہوں سے اہل سنت و جماعت کو چھوڑ کر مسلمانوں پر تھوک کے حساب سے کفر و شرک کے فتوے لگا کر برٹش سرکار کی مدد سے عرب و عجم میں خونریزیاں کیں اور لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا ان کی بنیاد لفظِ "وہابیت" کی وجہ سے محمد بن عبدالوہاب کا نیا دین(جھوٹا) ہے۔ جسے ہمفرے نے برطانوی استعمار کی وزارت نوآبادیات کے مذموم مقاصد کے لیے شراب اور زنا کے ہتھیار سے استعمال کیا۔ اور فکری اساس میں ابن تیمیہ وغیرہ کے افکار کا گہرا اثر رہا۔ یہ وہابی اور نیم وہابی فرقے "خوارج" کی باقیات ہیں۔ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغاوت اور بے وفائی کرکے انہیں شہید کیا۔ آج بھی اسلام کا نام ان دہشت گردوں کی وجہ سے بدنام ہو رہا ہے۔ اور یہ دین کے ٹھیکے دار بننے چل دئیے ہیں عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 08:31, 13 جولا‎ئی 2013 (م ع و)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته! عبدالرزاق قادری بھائی تھوڑا غیرجانبداری سے مطالعہ کریں۔ (تاریخِ وہابیت، حقائق کے آئنیے میں)--محمد شامی 17:41, 20 دسمبر 2013 (م ع و)

اہل قرآن کب سے ہیں؟[ترمیم]

اگر یہ دعویٰ ہے کہ اہل حدیث تب سے ہیں جب حدیث ہے تو پرویزی فتنہ اہل قرآن کب سے ہیں؟ عبدالرزاق قادری (تبادلۂ خیال) 09:22, 13 جولا‎ئی 2013 (م ع و)

توبہ توبہ[ترمیم]

فرقہ پرستی پر تو کیسی زبان چلتی ہے ہم سب کی، مگراہم جب مضمون لکھنے پہ آتے ہیں تو، 2 سطر سے آگے نہیں جاتا، کبھی ان ایک سطری سینکڑوں مضامین پر بھی کوئی بولا، کسی نے ان پر حذف کا سانچہ ڈالا، یا ان میں اضافہ کرنے کی کوشش کی، جتنا اس صفحہ کے لئے سب فکر مند ہیں، اگر سارے اردو وکی پیڈیا کے لئے ایسا ہی جذبہ ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔۔۔۔۔
اس میں کچھ زاہد معلومات ہیں، جیسے حدیث و سیرت کا فرق، تاریخ جس کی اہل حدیث گروہ سے کوئی نسبت اس میں نظر نہیں آتی، بیرونی روابط سب کے سب حذف کر دیے جاہیں، وہ سب کے سب مختلف مسالک ومکتبہ فکر کے نماہندہ ہیں، اردو ویکی پر تعارف، تاریخ، ذاتی عقاہد ونظریات، تنقید جیسے عنوانات سے بات ختم کی جاتی ہے، اس کو اس معیار پر لاہیں۔
اس صفحہ کا نام حذف کر کے ضد ابہام صفحہ بنایا جائے، اہل حدیث (اصطلاح) کے نام سے الگ صفحہ ہو اور اہل حدیث (مکتبہ فکر) کے نام سے الگ، کیونکہ لفظ اہل حدیث، حدیث و علم حدیث کاور محدیثین کی کتب میں اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوتا ہے، مکتبہ فکر اہل حدیث تقلید کے مقابل غیر مقلد وہ لو گ جو حدیث کو مانتے ہیں، (اہل قرآن بھی غیر مقلد ہیں، مگر وہ حدیث کی حجیت کے قاہل نہیں) ان کے لئے اہل حدیث نام بہت بعد میں مخصوص ہوا ہے۔
اہل حدیث اور سلفی تحریک، اور وہابی تحریک ایک نظریہ کے مختلف نام ہیں، سانچہ سلسلہ سلفی تحریک اور وہابی تحریک انگریزی ویکی پر ہے، اس کے مضامین ترجمہ کرنے کی ضرووت ہے، کیونکہ کہ ایک ہی مضمون میں کسی نظریاتی تحریک کو بیان کرنا ناممکن ہے، اسی لیے غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے، ادھر--Obaid Raza (تبادلۂ خیالشراکتیں) 07:31, 9 اگست 2014 (م ع و)