تبدیلی مذہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون رضاکارانہ طور پر کسی مذہب کی قبولیت کے بارے میں ہے۔ جبری تبدیلی مذہب کے لیے جبری تبدیلی مذہب دیکھیے۔ کسی مذہب کے ترک کرنے کے عمل کے لیے ارتداد دیکھیے۔
غازان خان کی جانب سے اپنے مذہب کی تبدیلی۔ غازان کی پیدائش اور پرورش ایک مسیحی کے طور پر ہوئی۔ اس نے بدھ مت میں تعلیم حاصل کی۔ تاہم وہ سریر آرائے سلطنت ہونے کے بعد مشرف بہ اسلام ہوا۔ یہ تصویر چودہویں صدی کے راشد الدین کی تاریخ عالم سے لی گئی ہے۔

تبدیلی مذہب (انگریزی: Religious conversion) کسی مذہبی فرقے سے منسوب ان عقائد کے قبول کرنے کو کہتے ہیں جو دوسرے فرقوں سے مختلف ہیں۔ اس طرح سے تبدیلی مذہب سے مراد کسی ایک فرقے سے وابستگی کو ترک کرنے اور دوسرے سے جڑنے کو کہتے ہیں۔ اس میں ایک مذہب کے حامل ایک فرقے کو ترک کر کے دوسرے کو اختیار کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے جیسے کہ اصطباغی کلیسیا سے کوئی شخص کاتھولک کلیسیا کا رکن بنے یا اہل تشیع کا کوئی فرد اہل سنت مسلک اختیار کرے۔ کچھ معاملوں میں مذہبی تبدیلی یہ "نشان زدہ کردہ کرتی ہے کہ مذہب شناخت الک ہو چکی ہے اور اس کے لیے کچھ خاص رسوم کی انجام دہی ہوتی ہے۔"[1] [2]


لوگ مذاہب کو مختلف وجوہ سے بدلتے ہیں۔ ان فاعل مذہب کی تبدیلی بھی ہوتی ہے جس میں اپنی سوچ میں بدلاؤ کی وجہ سے آزادانہ انتخاب ہوتا ہے۔ [3] اس کے علاوہ ثانوی تبدیلی مذہب، بستر مرگ پر تبدیلی مذہب، سہولت کے لیے تبدیلی مذہب، ازدواجی تبدیلی مذہب اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بھی تاریخ میں درج ہیں۔

سماجی اثر[ترمیم]

دنیا کے کئی مذاہب میں تبدیلیِ مذہب کا مطلب ہے اپنے سابقہ دین کو چھوڑ کر دوسرے دین کو اپنا لینا۔ اس تبدیلی کے پیچھے یہ یقین کام کر رہا ہوتا ہے کہ نیا دین پہلے مذہب سے زیادہ سچا ہے۔ مذہب تبدیل کرنے والوں کو اکثر یہ اجازت تو ہوتی ہے کہ اپنی آبائی ثقافتوں کے وہ عناصر قبول کر لیں جو عقائد کے علاوہ ہیں لیکن اصل میں انہیں یہ ماننا ہوتا ہے کہ صرف ان کا نیا مذہب ہی سچا دین ہے۔ سامی مذاہب میں "ایک حقیقت، ایک خدا" کا جو تصور غالب رہتا ہے یہ اس پر یقین کا لازمہ ہے۔ اس یقین تک پہنچنے کے دو بڑے راستے ہیں، نئے مذہب کے عقائد اور تعلیمات پر غور و فکر یا پھر ایک روحانی واردات، ایک تجلی کے نتیجے میں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی گہری وجہ کی بنا پر مذہب تبدیل نہیں کرتے، ان کے سامنے صرف سطحی مالی یا سماجی فوائد ہوتے ہیں یا پھر کسی دوسرے مذہب کے فرد سے شادی کرنے کی خواہش اس کا سبب بنتی ہے۔[4]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Stark, Rodney and Roger Finke. "Acts of Faith: Explaining the Human Side of University of California Press, 2000. p.114. ISBN 978-0-520-22202-1
  2. Meintel، Deirdre. "When There Is No Conversion: Spiritualists and Personal Religious Change". Anthropologica 49 (1): 149–162. 
  3. Falkenberg, Steve. "Psychological Explanations of Religious Socialization." Religious Conversion. Eastern Kentucky University. اگست 31، 2009.
  4. الیگزینڈر برزن۔ "تبدیلیِ مذہب اور شمبھالہ"۔ Study Buddhism by Berzin Archives۔ Studybuddhism.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جولا‎ئی 2019۔