تیسیرالشاغلین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تیسیرالشاغلین یعنی سالکوں کے لیے آسانی، سلسلہ قادریہ کے بزرگ سید موسیٰ پاک شہید کی تصوف پر کتاب کا نام ہے، کتاب میں انسانی تہذیب کے لیے اپنے ارشادات کے ابلاغ کے لیے درویش کو مخاطب کر کے اذکار و ادعیہ اور نصائح سے سرفراز فرمایا ہے۔[1] تیسیرالشاغلین کو سلسلہ قادریہ کے علمی و روحانی نصاب کی حیثیت حاصل ہے۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتب میں تیسیر الشاغلین کوبطور حوالہ پیش کیا ہے[2]

موضوع کتاب[ترمیم]

کتاب کا انداز فقہ باطن جیسا ہے، پہلے دو باب کتاب میں نماز اور مختلف اذکار وظائف کی روحانی معنویت واضح کی گئی ہے۔ آخری باب میں خاص تصوف کے مباحث ہیں۔ کتاب سلسلہ قادریہ میں مستند حوالہ مانی جاتی ہے۔[3]

مآخذ کتاب[ترمیم]

تیسیرالشاغلین میں آداب نماز اور اذکار و ادعیہ اور تصوف کے مباحث میں مندرجہ ذیل مآخذ سے استفادہ کیا گیا ہے:

زمانہ اشاعت[ترمیم]

تیسیرالشاغلین اکبری عہد میں دسویں صدی ہجری کی نویں دہائی میں کسی وقت تحریر کی گئی، اس بارے 985ھ کا سن بیان کیا جاتا ہے۔ کتاب کے فارسی مخطوطے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں جس کی تفصیل نسخہ ہائی خطی پاکستان جلد سوم از عرفان احمد منزوی میں ہے۔ منشی غلام محی الدین قادری قصوری کی کوشش سے تیسیرالشاغلین کا فارسی متن مطبع صدیقی فیروز پور، بھارت نے 1309 ہجری میں شائع کیا جبکہ مہر عبدالحق نے مطبوعہ تیسیرالشاغلین کا اردو میں ترجمہ کیا اور قادری غلام دستگیر حامدی نے تیسیرالشاغلین کے کتب خانہ نوشاہیہ ساھن پال شریف اور کتب خانہ سرمیدانی میں موجود محظوطات سے استفادہ کرتے ہوئے اس کی تصحیح کی جسے بیکن بکس، ملتان نے 1416 ہجری بمطابق 1997ء میں شائع کیا۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سید افتخار علی گیلانی و محمد سبطین رضا، پیغام آشنا، جلد 15، شمارہ 58، 2014ء، صفحہ25
  2. ۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی، موضوعاتی مطالعہ از ڈاکٹر محمد یونس قادری، مکتبہ الحق، کراچی، 2007ء صفحہ 140-41
  3. سرائیکی وسیب، (یادگاری اشاعت) 2010ء، سرائیکی ایریا سٹڈی سنٹر جامعہ بہاءالدین زکریا، ملتان، صفحہ 17-20
  4. تیسیر الشاغلین، (فارسی) مطبع صدیقے، فیروز پور، بھارت
  5. بحر السرائر از سید سعد اللہ رضوی (قلمی)، شمار نمبر 36771 عوامی کتب خانہ باغ لانگے خاں، ملتان
  6. سید افتخار علی گیلانی و محمد سبطین رضا، پیغام آشنا، جلد 15، شمارہ 58، 2014ء، صفحہ29