جامعہ اسلامیہ رضویہ
جامعہ اسلامیہ رضویہ لاہور شاہدرہ لاہور میں واقع ایک دینی تعلیمی ادارہ اور اسلامی مرکز ہے۔
جامعہ اسلامیہ رضویہ کا سنگ بنیاد مورخہ 15 اگست 1999 کو رکھا گیا۔ اس موقع پر بانی جامعہ مفتی محمد ارشد القادری کے ساتھ مناظر اہل سنت مولانا علامہ عبد التواب صدیقی، مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی مہتمم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری، خطیب پاکستان عاشق رسول علامہ الٰہی بخش ضیائی قادری، صاحب زادہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی ناظم اعلٰی جامعہ رسولیہ شیرازیہ لاہور اور دیگر علمائے کرام کثیر تعداد میں موجود تھے۔
یہ جامعہ رچنا ٹاؤن شاہدرہ لاہور میں واقع ہے۔ اس میں دینی علوم یعنی حفظ و ناظرہ، تجوید و قرات، درس نظامی اور تحریر و تقریر کے علاوہ جدید عصری علوم میٹرک تا ایم اے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ الحمد للہ اس جامعہ سینکڑوں حفاظ علما اور مفتیان فاضل ہو کر ملک کے طول و عرض میں خدمت دین متین سر انجام دے رہے ہیں۔ نیز مبلغین کی ایک کثیر تعدار اس جامعہ سے بنیادی علوم اور دینی مسائل میں مہارت حاصل کرنے کے بعد تبلیغ دین اور تعلیم و تربیت اسلامی کا کام کرتی نظر آرہی ہے جس کے نتیجہ میں نوجوان نسل کے دلوں میں انسانیت کی خدمت اسلام سے محبت اللہ و رسول کی اطاعت اور والدین کا احترام و معاشرتی آداب پیدا ہوتے ہیں۔
دیگر میادین کے ساتھ ساتھ یہ جامعہ روحانی تسکین کا اہتمام بھی فراہم کرتا ہے جس کے لیے ہفتہ وار حلقہ ذکر ہر جمعرات بعد نماز عشاء منعقد ہوتا ہے اور ماہانہ تربیتی نشست اجتماع کے عنوان سے ہر انگریزی ماہ کے دوسرے اتوار کو بعد نماز ظہر تا عصر منعقد ہوتی ہے۔ سالکین راہ طریقت آکر ذکر اللہ کے ذریعے اطمینان قلب پاتے ہیں۔ تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان کا مرکز جامعہ اسلامیہ رضویہ ہے۔
جامع مسجد نصرت مدینہ بھی اسی مرکز میں واقع ہے