جدید الحاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جدید الحاد (انگریزی: New Atheism) ایک اصطلاح ہے جسے 2006ء میں صحافی گیری وولف نے وضع کی تھی۔ اس کا مقصد اکیسویں صدی کے ملحدین کے موقفوں کو بیان کرنا تھا۔[1][2] جدید دور کے الحاد کی ترقی ان مفکرین اور مصنفین کی مرہون منت ہے جو یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ اندھے عقیدے، مذہب اور غیر عقلیت پسندی کو یوں ہی برداشت نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، اس کی تنقید ہونی چاہیے اور اس کا پردہ عقلی دلائل کے ذریعے فاش کیا جانا چاہیے جہاں کہیں بھی ان کی اثر و رسوخ حکومت، تعلیم اور میدان سیاست میں ابھر سکے۔[3][4] رچرڈ اوسٹلنگ، بیٹرنڈ رسل، جنہوں نے 1927ء میں ایک انشائیہ لکھا تھا جس کا عنوان یہ تھا کہ میں مسیحی کیوں نہیں ہوں؟۔ یہ اصحاب یہ سفارشات کر چکے ہیں جو جدید ملحدین ان کی ہی تجاویز سے میل کھاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید الحاد اور قدیم الحاد میں کوئی فرق نہیں ہے۔[5]

جدید الحاد پر مذہب نوازوں کی تنقید[ترمیم]

جہاں جدید ملحدین انتہا پسندانہ انداز میں مذہب اور قدامت پسندی کے مقابلے پر زور دیتے ہیں، وہیں وہ خود مذہب پسندوں اور خدا پرستوں کی تنقید کا شکار ہوئے ہیں۔ چنانچہ مذہب پرستوں اور خدا پر ایقان رکھنے والوں نے ان حضرات پر تنقید کی ہے کہ جدید ملحدوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کی غالب بلکہ اغلب ترین اکثریت اندھی تقلید کرتی ہے مگر اس دھوکے کا شکار ہے کہ وہ عقل کی بنیاد پر اور خوب سوچ سمجھ کر اپنے نظریات قائم کیے ہوئی ہے، ان کی 95 فیصد سے زیادہ اکثریت شوقیہ و بہ طور فیشن ملحد ہوتی ہے جنہیں خود اپنی ہی فکر کے صغری کبری، مضمرات و حدود معلوم نہیں ہوتے۔ ان سے ان کے اپنے ہی ڈسکورس کے اصولوں کے مطابق سوال کیا جائے تو 95 فیصد کو تو سوال ہی سمجھ نہیں آتا، جواب دینا تو درکنار۔ ان کی اکثریت اپنی فکر پر اٹھائے گئے علمی اعتراضات کا جواب دینے کے بہ جائے بس ایک ہی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتی ہیں: ”مذہب کو کوسو” کہ شاید لوگ اس پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اصل مدعے کو بھول جائیں (آپ کسی الحادی پیج/گروپ میں جا کر ایک عدد علمی اعتراض کرکے دیکھ لیں آپ کو سبق مل جائے گا)۔ جن مسائل اور سوالات کے حل پیش کرنے سے خود ان کے بڑے زعما قاصر آکر اب ان سوالات سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں سنجیدہ نہیں لیتے (مثلًا اخلاق یا وجود کی معنویت کا سوال، سائنس، انسانی حقوق یا جمہوریت کی آفاقیت کا دعوی وغیرہ)۔ ملکی ملحدین کے بارے میں یہ تبصرے ہیں کہ ان مسائل کے جواب صادر کرنے کے لیے مضحکہ خیز بحثیں کرنے میں مصروف رہتے ہیں وہ بھی متعلقہ مباحث سے واقفیت حاصل کیے بغیر ہی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر ان ملحدوں کی عقلی کیفیت پر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک طرف عقل کا دعوٰی اور دوسری طرف ایسی عقل دشمنی۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Lois Lee & Stephen Bullivant, A Dictionary of Atheism (Oxford University Press, 2016).
  2. Wolff, Gary, in The New Atheism, The Church of the Non-Believers reprinted in Wired Magazine, نومبر 2006
  3. "New Atheists". The Internet Encyclopedia of Philosophy. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2016. The New Atheists are authors of early twenty-first century books promoting atheism. These authors include Sam Harris, Richard Dawkins, Daniel Dennett, and Christopher Hitchens. The 'New Atheist' label for these critics of religion and religious belief emerged out of journalistic commentary on the contents and impacts of their books. 
  4. Hooper، Simon. "The rise of the New Atheists". CNN. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2010. 
  5. اوسٹلنگ، رچرڈ (12 اکتوبر 2013). "Is the "New Atheism" any different from old atheism?". اخذ شدہ بتاریخ 12 اکتوبر 2013. 
  6. جدید الحاد ۔۔۔۔ ایک فیشن