حسن منظر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حسن منظر
پیدائش 4 مارچ 1934ء (عمر 85 سال)ء
ہاپڑ،اتر پردیش ، برطانوی ہندوستان
پیشہ ادب، طب
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم بی بی ایس
مادر علمی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج۔ لاہور
یونیورسٹی اَوف ایڈمبرا
رائل کالج آف فزیشنزاینڈ سرجنز ایڈمبرا گلاسگو
اصناف طب ، افسانہ نگاری
نمایاں کام ایک اور آدمی
بیرِ شیبا کی لڑکی
العاصفہ
پریم چند گھر میں ۔شورانیدیوی (ہندی سے ترجمہ)
منگل سوتر ۔ پریم چندکا آخری اور ادھورا ناول (ہندی سے ترجمہ)

ڈاکٹرحسن منظر (پیدائش: 4 مارچ، 1934ء) کا شمار پاکستان کے بڑے ماہرین نفسیات اور معروف افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

حسن منظر 4 مارچ، 1934ء کو ہاپڑ، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سیّد مظہر حسن تھا، وہ ریلوے میں ملازم تھے۔ شمالی اترپردیش کے مختلف علاقوں میں بچپن گزرا۔ ابتدائی تعلیم ہیوئٹ مسلم ہائی اسکول، مراد آباد سے حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں لاہور آئے۔ اور میٹرک اقبال ہائ اسکول، لاہور سے مکمل کیا۔ فارمین کرسچین کالج لاہور سے ایف۔ ایس سی کیا۔ بی ایس سی تھرڈ ائر اسلامیہ کالج، لاہور سے اور ایم بی بی ایس کی ڈگری کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے حاصل کی۔ ادبیات سے بھی گہرا شغف رہا۔ زمانۂ طالب علمی میں نظریاتی جھکاؤ ترقی پسند تحریک کی جانب رہا۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے اوریونیورسٹی آف ایڈمبرا سے ڈی پی ایم کی ڈگری پائ۔ رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز ایڈمبرا گلاسگو سے ڈی پی ایم( سائکیٹری) کی اعلیٰ اسناد پائیں۔ وطن واپس آ کر طب کے شعبے سے منسلک ہوئے۔[1] پاکستان آنے کے بعد ملازمت کے سلسلے میں کراچی رہائش اختیار کی۔ بعد ازاں وہ دوسرے ممالک میں بھی رہے۔ ان میں یونیورسٹی آف ملایا، ایڈمبرا، ویسٹ لودین اسکاٹ لینڈ،شمالی نائیجیریا،لیگوس،روئل ڈچ مرچنٹ نیوی اورسعودی عرب شامل ہیں۔ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر حسن منظر نے اپنی معاشی جدوجہد کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

425 روپے ماہ وار پر ماڑی پور کے سینٹرل ایکسائز اینڈ لینڈ کسٹم اسپتال سے منسلک ہوگئے۔ رائل ڈچ مرچنٹ نیوی میں وقت بیتا۔ لالوکھیت میں پریکٹس کی۔ پھر سعودی عرب کا رخ کیا۔ وہاں سے شمالی نائیجیریا کے شہر ’’کدونا‘‘ پہنچے گئے۔ گھنے جنگلات میں رہنے کا موقع ملا۔ وہاں، شہر ایڈہ میں بڑی بیٹی کی پیدایش ہوئی۔ نائیجیریا کے صدر مقام، لیگوسس میں اپنی بیگم ڈاکٹر طاہرہ کے ساتھ پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کام کیا۔ طبی نفسیات میں مہارت حاصل کرنے کی خواہش یونیورسٹی آف ایڈنبرا، اسکاٹ لینڈ لے گئی۔ وہاں دیہی ماحول کو قریب سے دیکھا۔ کچھ عرصہ رائل ایڈنبرا اسپتال میں کام کیا۔ یونیورسٹی آف ملایا، کوالالمپور میں تدریسی ذمے داریاں نبھائیں۔ 73ء میں پاکستان لوٹ کر حیدرآباد میں سندھ سائیکاٹرک کلینک شروع کیا۔ 2012ء میں خاندان کراچی منتقل ہو گیا۔اور دو برس بعدکو خیرباد کہہ دیا[2]۔

تصانیف[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  1. رہائی
  2. ندیدی
  3. انسان کا دیش
  4. سوئی بھوک
  5. ایک اور آدمی
  6. خاک کا رتبہ
  7. طویل کہانی
  8. فرفر اور رنگو
  9. منگل سوتر۔ پریم چندکا آخری اور ادھورا ناول (ہندی سے ترجمہ) اورمقدمہ
  10. پریم چند گھر میں۔ شورانیدیوی (ہندی سے ترجمہ) اور مقدمہ

بچوں کے لیے کتب[ترمیم]

  1. سمند ر میں جنگ
  2. جان کے دشمن

ناول[ترمیم]

  1. ماں بیٹی
  2. بیرِ شیبا کی لڑکی
  3. العاصفہ
  4. وبا
  5. دھنی بخش کے بیٹے
  6. انسان اے انسان

انگریزی میں تصنیفات[ترمیم]

  • A Requiem For The EARTH: OUP, KARACHI
  • The End of Human History : Katha, Delhi

(Translations of Hassan Manzar Stories)

تجزیئے[ترمیم]

  1. موجودہ معاشرہ اور برہنہ فلمیں (کتابچہ)[3]

حوالہ جات[ترمیم]