حیدر دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حیدر دہلوی
Haider-Dehlvi.jpg
پیدائش سید جلال الدین
17 جنوری 1906(1906-01-17)ء
دہلی، برطانوی ہندوستان
وفات 10 نومبر 1958(1958-11-10) (عمر  52 سال)
کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان، کراچی
قلمی نام حیدر دہلوی
پیشہ شاعر
زبان اردو
نسل مہاجر
شہریت

Flag of برطانوی ہندبرطانوی ہند (1906ء - 1947ء)

Flag of پاکستانپاکستانی (1947ء - 1958ء)
اصناف غزل، نظم
نمایاں کام صبح ِالہام

خیام الہند حیدر دہلوی (پیدائش: 17 جنوری، 1906ء - وفات: 10 نومبر، 1958ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

حیدر دہلوی 17 جنوری، 1906ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1]۔ ان کا اصل نام سید جلال الدین تھا۔ نو سال کی عمر میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور 13 برس کی عمر میں مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ وہ شاعروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو داغ و مجروح کی تربیت یافتہ نسل تھی۔ خمریات کے موضوعات کی مضمون بندی میں انہیں کمال حاصل تھا اسی لیے ارباب ہنر نے انہیں خیام الہند کے خطاب سے نوازا تھا۔[2]

تقسیم ہند کے بعد حیدر دہلوی پاکستان منتقل ہو گئے، پہلے انہوں نے ڈھاکا میں قیام کیا پھر کراچی میں اقامت اختیار کی۔ حیدر دہلوی کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد صبح الہام کے نام سے شائع ہوا تھا۔[2]

نمونۂ کلام[ترمیم]

شعر

چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بود و باش اچھی بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی[3]

وفات[ترمیم]

حیدر دہلوی 10 نومبر، 1958ء کو کراچی،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[2][1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 276
  2. ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 154
  3. چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بود و باش اچھی (شعر)، حیدر دہلوی، ریختہ ویب، بھارت