حیرت الہ آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حیرت الہ آبادی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: سید مہدی حسن ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 28 اکتوبر 1926  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الہ آباد،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 ستمبر 2006 (80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت پاکستان کسٹم  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سید مہدی حسن المعروف حیرت الہٰ آبادی (پیدائش: 28 اکتوبر 1926ء - 16 ستمبر 2006ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نعت اور غزل، قطعہ کے ممتاز شاعر تھے۔ حیرت الہٰ آبادی 28 اکتوبر 1926ء کو ، الہ آباد، اتر پردیش ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید مہدی حسن، تخلص حیرت تھا جبکہ حیرت الہٰ آبادی ان کا قلمی نام تھا۔ ان کے والدسید ظفر حسن عبرت الہٰ آبادی ایک کہنہ مشق شاعر تھے۔ حیرت ابتدائے عمر سے ادبی ذوق رکھتے تھے لیکن نام و نمود کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آ گئے اور کرچی میں مقیم ہو گئے۔ پاکستان کسٹم میں ملازمت کی۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد فرنیچر کا کاروبار شروع کیا۔ جب تک زندہ رہے اپنے والد کی بنائی ہوئے ادبی تنظیم بزمِ تنظیمِ ادبِ قائم رکھے رہے۔انہوں نے ایک ادبی مجلہ بقلم خود بھی جاری کیا جس کے کئی شمارہ شائع ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں سترہ دن (قطعات، 1965ء)، کشکولِ وفا (مجموعہ غزل، 1989ء)، پتے کانٹے پھول (شعری مجموعہ)، آگ خون پانی (شعری مجموعہ)، منارۂ نور ( نعتیہ مجموعہ، 1989ء) اور نورِ بے مثال ( نعتیہ مجموعہ، 1997ء، ناشر: بزمِ عبرت کراچی) شامل ہیں۔ حیرت الہٰ آبادی 16 ستمبر 2006ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے۔[1][2]

نمونۂ کلام[ترمیم]

نعت

عطا ہو جو فضلِ خدا زندگی کوتو پھر چاہیے اور کیا زندگی کو
تمنا یہی ہے، یہی آرزو ہےمحمد پہ کر دوں فدا زندگی کو
جہاں عظمتیں ہیں جہاں رحمتیں ہیںاُسی در سے ہے واسطہ زندگی کو
رہے لب پہ نامِ محمد ہمیشہبنا دے کچھ ایسا خدا زندگی کو
مدینے سے ہرگز نہ جاؤں کا واپسکہ اب تو ملا ہے مزا زندگی کو
عمل کر کے جب سے بتایا نبی نےقرینہ سا اِک آ گیا زندگی کو
لگا دیجیے کشتیِ دل کنارےکہ ہے آپ کا آسرا زندگی کو
دعا ہے یہ حیرت کی، آمین کہیےخدا حق پہ رکھے سدا زندگی کو[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. منظر عارفی، کراچی کا دبستان نعت، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2016ء، ص 181
  2. ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات نعت گویان پاکستان، نعت ریسرچ سینٹر کراچی، 2015ء، ص 48
  3. کراچی کا دبستان نعت، ص 182