خورشید عالم گوہر قلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تعارف[ترمیم]

ممتاز خطاط خورشید عالم گوہر قلم نے فن خطاطی کا آغاز بہت کم عمر میں کیا اور پھر اس مقام پر جا پہنچے کہ ممتاز نقادوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہوں نے اپنی لگن کی بدولت بے شمار اعزازات حاصل کیے۔ خورشید عالم گوہر قلم 1956 کو ضلع سرگودھا (پاکستان) کے قصبہ دھریمہ میں پیدا ہوئے۔ سید اسمعیل دہلوی مرحوم سے خطاطی میں مشق لی، استادسید اسمعیل دہلوی کے ذریعے خورشید عالم گوہر قلم کا سلسلہ تلمذ آسمانِ خطاطی کے آفتاب سید محمد امیر رضوی المعروف میر پنجہ کش سے ملتا ہے۔ کچھ عرصہ آپ نے حافظ محمد یوسف سدیدی مرحوم کے پاس بھی مشق کی۔ نظری استفادہ ہاشم محمد الخطاط مرصع (عراق)، عبد العزیزالرفاعی، سید ابراہیم (مصر) اور حافظ ایتاج (ترکی) سے کیا۔ ان کے استاد محترم جناب حافظ محمد یوسف سدیدی نے ان کے فن کو دیکھ کر تحریر کیا تھا کہ گوہر قلم کا فن دیکھا تو احساس ہوا کہ پاکستان میں اچھی مشق ہو رہی ہے اور اگر ایسے ہی جاری رہی تو ضرور پاکستان کا نام روشن ہوگا۔

406 اقسامِ خط میں کتابتِ قرآن پاک (عجائب القرآن)[ترمیم]

عجائب القرآن خطاطی کا وہ شہ کار ہے جس میں خطاطی کی چودہ سو سالہ تاریخ کو سمیٹ دیا گیا ہے اور یہ خطاطی کے شیدائیوں کے لیے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ 406 اقسامِ خط میں کتابت شدہ عجائب القرآن کا منصوبہ آپ کے خیال میں آیا اور پھر عمل میں لایا گیا، جس کا وزن 40 من ہے اور اسے اسلام آباد کی فیصل مسجد میں تیس الگ الگ شو کیسوں میں رکھا گیا ہے۔ اس قرآن مجید کے بارے میں ممتاز مفکر ڈاکٹر مسعود احمد پی ایچ ڈی نے تحریر کیا ہے کہ قرآن کیا ہے ایک چمنستان ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ماہر خطاط نے ہر خط پر برسوں ریاض کیا ہو۔ ایک ہی خطاط کے قلم سے اتنے رسوم الخطوط کا لکھا جانا سخت حیران کن ہے، یہ کمال کسبی نہیں وہبی معلوم ہوتا ہے۔ یہ قرآن مجید خطاطی کے لحاظ سے عجیب تر نمونہ ہے اور اس کو ایک اہم قومی ورثے کی حیثیت حاصل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے جب خورشید عالم گوہر قلم سے دریافت کیا کہ انہیں اتنے خطوں میں اتنی مہارت حاصل کرنا کیسے ممکن ہوا تو انہوں نے فرمایا "جب لکھتا ہوں تو اک کیف کا عالم طاری ہوتا ہے، قلم خود لکھتا چلا جاتا ہے"

سابق گورنر مغربی پاکستان اور افواج پاکستان کے سربراہ اور سابق گورنر بلوچستان جناب محمد موسی خان مرحوم نے جناب گوہر قلم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ گوہر قلم نے 406 اقسام میں قرآن مجید کی خطاطی کرکے جو کارنامہ سر انجام دیا ہے وہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ عجائب القرآن خطاطی کی چودہ سو سالہ تاریخ کا حسین مرقع ہے اور یہ فنِ خطاطی کے شائقین کے لیے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

عجائب القرآن میں استعمال ہونے والے چند خطوط[ترمیم]

خطِ اجارہ، خطِ تعلیق، خطِ ثلث، خطِ ثلث جدید، خطِ دیوانی جدید، خطِ دیوانی منقش، خطِ دیوانی قدیم، خطِ رقاع، خطِ ریحانی، خطِ شکستہ، خطِ شجردار، خطِ عمارتی، خطِ غبار، خطِ طغرا، خطِ طغرا قدیم، خطِ کوفی قدیم، خطِ کوفی جدید، خطِ کوفی منقش، خطِ محقق، خطِ مغربی، خطِ ماہی، خطِ مجموعہ، خطِ نسخ وغیرہ وغیرہ۔

مساجد میں خطاطی[ترمیم]

انہیں بے شمار مساجد میں بھی خطاطی کا شرف حاصل ہے، ان کی بہت سی نمائشیں بھی ہو چکی ہیں جن میں بہت سے عمائدین شرکت کر چکے ہیں ۔ دربار حضرت داتا گنج بخش میں308 فٹ طویل سورۃ رحمن اور 108 فٹ طویل دورد تاج خط نستعلیق میں لکھ کر انمول مثال قائم کی ہے۔ علاوہ ازیں دربار حضرت داتا گنج بخش کی لوح مزار لکھنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہے۔

کتب خطاطی[ترمیم]

گوہر قلم نے فن خطاطی پر مختلف کتب بھی تحریر کی ہیں جن میں جواہر القلم، نقاش القرآن، عجائب القرآن، مخزن خطاطی، نقش گوہر اور فن خطاطی شامل ہیں۔ کتاب نقش گوہر فن خطاطی کی ایک ایسی لاثانی دستاویز ہے کہ جسے عالم اسلام کی چند بڑی خطاطی کی کتب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کمال عقیدت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی ذات اقدس پر ایک کتاب اللہ وحدہ تحریر کی ہے جو اپنے مضامین کے اعتبار سے ایک بے مثال تحفہ ہے ساتھ ہی انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دلی محبت کا اظہار کرتے ہوئے سیرت النبی پر کتاب تاجدار رحمت کے نام سے تحریر کی ہے میں مغربی مصنفین کے پروپیگنڈہ کا موثر جواب دیا گیا ہے اور تمام اہم واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔

تدریسِ خطاطی[ترمیم]

گوہر قلم عربی کے تمام رسوم الخطوط، کوفی، ثلث، محقق، دیوانی، رقاع، اجازہ، نستعلیق، تعلیق، شکستہ، حواشی، امورات اور طغرا کی جملہ اقسام میں دسترس رکھتے ہیں۔ جناب گوہر قلم کے تحریر کردہ سنگ مرمر کی الواح بھی فن خطاطی کا ایک گراں قدر سرمایہ ہیں۔ خطاطی کے ساتھ ساتھ وہ سیاست، سلامیات، تاریخ کے مضامین میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں گاہے گاہے ان موضوعات پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ بلوچستان میں ہر سال وہ خطاطی کی کلاس منعقد کرتے ہیں اور وہاں تقریبا 1600 طلبہ و طالبات کو خطاطی کی تربیت دے چکے ہیں۔ جبکہ گوہر خطا طی اکادمی لاہور میں 16برس کے عرصہ میں 3000 سے زائد طلبہ و طالبات استفادہ کرچکے ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

صدر مملکت پاکستان نے 23 مارچ 1992 کو انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا جو بلاشبہ پاکستان کا ایک اعلی ترین اعزاز ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گوہر قلم بجا طور پر اس اعزاز کے مستحق ہیں۔ آپ کو جاپان کو اعلی ترین اعزاز ایوارڈ آف دی فان منسٹر آف جاپان دیا گیا۔ 1988 میں انہوں نے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی درخواست پر مالدیپ کا دورہ کیا اور صدر مالدیپ، گوہر قلم کی خطاطی سے بہت متاثر ہوئے اور جناب گوہر قلم کو تحریری خراج تحسین پیش کیا۔ آپ کی خطاطی کے فن پارے ماسکو میوزیم (روس)، برٹش میوزیم لندن (انگلستان) اشمولین میوزیم (آکسفورڈ) اور اسلام آباد میں موجود ہیں۔

فن پارے[ترمیم]