خط دیوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Diwani Izzet al Karkuki.jpg
خط دیوانی کی ایک تحریر

خط دِیوانی اسلامی خطاطی کا ایک خط ہے جو پندرہویں صدی عیسوی میں سلطنت عثمانیہ کے عہد میں وجود میں آیا۔ اِس خط کو عثمانی ترک سلاطین کی سرپرستی میں سرکاری خط بھی قرار دیا گیا تھا۔خط دِیوانی کی بنیاد خط تعلیق ہے جس سے یہ اخذ ہوا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

عثمانی ترک سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں جب قسطنطنیہ کو فتح کیا تو سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت بورصہ سے قسطنطنیہ منتقل ہوگیا۔ دفتر دِیوانی بھی قسطنطنیہ منتقل ہوا تو اُس زمانے میں خط دِیوانی وجود میں آیا۔ یہ خط سلطنت عثمانیہ کے دفتر دِیوانی کے کاتبین اور مُنشی حضرات کی اختراع ہے۔ دفتر کے کاتبین اور مُنشیوں کو یہ ضرورت پیش آتی تھی کہ کوئی ایسا خط ہونا چاہیے جس میں سرعت (تیزی) سے اور سہولت کے ساتھ مضمون کو لکھا جاسکے اور دفتری کتابت و مراسلت کی جاسکے۔ جس ضرورت کے پیش نظر فارسی النسل (ایرانی) مُنشیوں کو خط توقیع ایجاد کیا، ویسے ہی ترک مُنشیوں نے خط دیوانی اختراع کیا۔ دفتر دِیوانی (چیف سیکرٹریٹ) میں سلطان معظم کے فرامین لکھے جاتے تھے۔ اسی سبب سے اِس کو خط دِیوانی کہا گیا۔ خط دِیوانی کا مؤجد و مخترع ابراہیم حنیف ہے جو ترک سلطان محمد فاتح کا صدرِ مُنشی تھا۔[1] ایجاد کے ایک عرصے بعد ترک کاتبین نے اِس خط کی طرف سے سرد مہری کا اِظہار شروع کردیا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے وزیر شہلا پاشا نے دسویں صدی ہجری میں اِس خط کو خوب فروغ دیا۔ سلطان احمد ثالث کے عہدِ حکومت میں خواجہ محمد راسم‘ اِس خط کا بڑا ماہر اُستاد تھا۔ متاخرین میں دو بھائی استاد عزت اور حافظ تحسین اِس خط کے ماہر کامل تسلیم کیے گئے۔ سلطنت عثمانیہ کے ترک علاقوں میں یہ خط بہت مقبول تھا یہاں تک کہ 1924ء میں جب سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر ترکی کا وجود عمل میں آیا تو عربی رسم الخط پر پابندی عائد کردی گئی اور لاطینی رسم الخط کو رائج کردیا گیا۔ محض اِس نادانی سے سات صدیوں کا ترک قوم کا علمی اندوختہ سرمایہ نئی نسلوں کے لئے بیکار ہوگیا۔ [2]

خط دیوانی کی اقسام[ترمیم]

خط دِیوانی کی دو اِقسام ہیں: دیوانی خفی اور دیوانی جلی:

  • دیوانی خفی: اِس خط میں حرکات، اعراب حتیٰ کہ نقطوں کا بھی بہت کم خیال رکھا جاتا ہے۔ دو نقطے لکھنے ہوں تو چھوٹا سا خط بصورت (–) کھینچ دیتے ہیں اور اگر تین نقطے لکھنے ہوں تو آٹھ کے عدد سے مشابہہ نشان ( ۸ ) بنا دیتے ہیں۔
  • دیوانی جلی: اِس قسم میں حرکات و اَعراب اور نقطوں کا خیال رکھا جاتا ہے، وضاحت زیادہ کی جاتی تھی۔ پورے نقطے لگائے جاتے ہیں۔ دیوانی جلی میں خط کی رعنائی اور زیبائی کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔

خصوصیات[ترمیم]

خط دِیوانی میں خط تعلیق کی طرح کلمات پیوستہ ہوتے ہیں حتیٰ کہ حروفِ منفصل کو بھی متصل بنا لیتے ہیں۔ خط دیوانی دراصل خط تعلیق سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس خط میں کلمات کا جھکاؤ بائیں جانب ہوتا ہے، اِسی وجہ سے اِس کو چپ نویسی بھی کہتے ہیں۔ اِس خط میں اسلامی خطاطی کے ترک ذوق اور سلیقے کا انداز صاف صاف جھلکتا ہے۔ مرتبے کے لحاظ سے اِس کا درجہ خط تعلیق سے فروتر ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ خط و خطاطین: صفحہ 137۔ مطبوعہ لاہور
  2. تاریخ خط و خطاطین: صفحہ 138۔ مطبوعہ لاہور