دریائے سندھ کی لڑائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Battle of Indus
بسلسلہ the وسطی ایشیاء پر منگول حملہ
During the battle of Indus.jpg
Genghis Khan watches in amazement as the Khwarezmi Jalal ad-Din prepares to ford the Indus.
تاریخSpring 1221
مقامNear the دریائے سندھ, located in modern-day پاکستان
نتیجہ منگول victory
سرحدی
تبدیلیاں
Khwarezmia annexed to the Mongol Empire
محارب
منگول سلطنت خوارزم شاہی سلطنت
کمانڈر اور رہنما
چنگیز خان جلال الدین مینگوبردی
طاقت
30,000[1]–50,000 cavalry[2]

50,000 men[1]
3,000 cavalry[2]

  • 700 bodyguards[2]
ہلاکتیں اور نقصانات
Unknown Most of the army

دریائے سندھ کی لڑائی سن 1221 میں ، خوارزم شاہی سلطنت کے سلطان جلال الدین مینگوبردی کی باقی بچی تیس ہزار فوج اور چنگیز خان کی دو لاکھ مضبوط منگولین فوج کے مابین دریائے سندھ پر لڑی گئی۔


پس منظر[ترمیم]

بخار اور سمرقند سمیت متعدد شہروں کی منگولوں کے ہاتھوں تباہی کے بعد جلال الدین منگبرنو اپنے آدمیوں اور ہزاروں مہاجرین کے ساتھ فارس سے ہندوستان فرار ہو رہا تھا ۔ غزنی شہر کے قریب [3] پروان کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ، جلال الدین منگبرنو اپنے 3000 جوانوں کی فوج اور کئی ہزار مہاجرین کے ساتھ پناہ کے لیے ہندوستان روانہ ہوا۔ تاہم ، چنگیز خان کے زیر قیادت ایک طاقتور فوج نے، جس کی تعداد 25،000–50،000 کیولری تھی ، جب وہ دریائے سندھ کو عبور کرنے جارہا تھا ، اس کو جا لیا۔

جنگ[ترمیم]

جلال الدین خوارزم شاہ تیز دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے چنگیز خان اور اس کی فوج سے فرار ہوگیا

جلال ا دین نے کم سے کم تیس ہزار جوانوں پر مشتمل اپنی فوج کو منگولوں کے خلاف دفاع میں کھڑا کیا ، ایک حصہ پہاڑ کے سامنے کھڑا کر دیا جبکہ اس کا دوسرا حصہ دریا کے موڑ سے ڈھکا ہوا تھا۔ [3] ابتدائی منگول دستہ جس نے جنگ کا آغاز کیا تھا اس کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ جلال الدین نے جوابی کارروائی کی اور اس نے منگول فوج کے مرکز کو قریب قریب توڑ ڈالا تھا۔ تب چنگیز نے پہاڑ کے چاروں طرف 10،000 جوانوں کا ایک دستہ جلال جلال الدین کی فوج کو گھیرنے بھیج دیا۔ جب اس کی فوج نے دو رخوں سے حملہ کیا اور افراتفری میں جلال الدین دریائے سندھ کو پار کرکے فرار ہو گیا۔


جلال الدین کی فوج سے جو بھی باقی بچا اسے چنگیز خان نے مار ڈالا اور اس کے خاندان کے بچوں اور مردوں کو بھی تہ تیغ کر دیا ، یہاں تک کہ ایک ایک شیرخوار بھی زندہ نہیں بچا تھا اور جلال الدین کے حرم پر قبضہ کر لیا اور اسے مغلسان بھیج دیا ۔ اور اس نے غوطہ خوروں کو سندھ کے پانیوں میں جلال الدین کے کہنے پر دریا پھینکے گئے قیمتی سامان کو نکالنے کا حکم دیا اور اپنے دو بیٹے اوگتائی اور جگتائی اس جگہ چھوڑا کہ اگر سلطان واپس آئے تو اس کو گرفتار کر لیا جائے اور وہ خود آمو دریا کے کنارے لوٹ آیا ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Trevor N. Dupuy and R. Ernest Dupuy, The Harper Encyclopedia of Military History, (Harper Collins Publishers, 1993), 366.
  2. ^ ا ب پ Sverdrup، Carl (2010). "Numbers in Mongol Warfare". Journal of Medieval Military History (Boydell Press) 8: 109–17 [p. 113]. doi:ڈی او ئي. آئی ایس بی این 978-1-84383-596-7. 
  3. ^ ا ب A Global Chronology of Conflict: From the Ancient World to the Modern Middle, Vol. I, ed. Spencer C. Tucker, (ABC-CLIO, 2010), 273.