دی میٹرکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دی میٹرکس (انگریزی: The Matrix) ایک 1999 کی امریکی سائنس فکشن ایکشن فلم ہے، جو لَیری اور اَینڈی وچوفسکی نے ساز کی۔ فلم میں کیانُو رِیوز یا کینو ریو (Keanu Reeves) ، لارنس فِشبرن، کَیری اَین ماس، جو پینٹولیانو اور ہیُوگو وِیوِنگ نے اداکاری کی۔ فلم میں ایک تباہ شدہ مستقبل دکھتا ہے، جس میں وہ حقیقت جو زیادہ تر انسانوں کو ظاہر ہوتی ہے، دراصل ایک بناوٹی حقیقت یا سائبر سپیس ہے، جسے کہا جاتا ہے "دی میٹرکس" اور جو ادراک دار مشینوں نے بنایا ہے، تاکہ وہ انسانی آبادی کو بے اثر کر کہ دبا سکیں اور ساتھ ساتھ ان کے جسم کی حرارت اور بجلی توانائی کے ذرائع کے طور پر استعمال کی جائے۔ ایک "نیو" نامی کمپیُوٹر پروگرامر کو یہ سچائی دریافت ہوتی ہے اور مشینوں کے خلاف ایک بغاوت میں شریک ہو جاتا ہے، جس میں دیگر لوگ بھی شامل ہیں جو اُس "خوابی دنیا" سے آزاد ہو کر حقیقت میں داخل ہو گئے ہیں۔

میٹرکس نام ور ہے ایک بصری سپیشل افیکٹ کو مقبول کرنے کی وجہ سے، جسے کہا جاتا ہے "بُلِٹ ٹائم"، جس میں ایک منظر سلو موشن، یعنی سست حرکت سے آگے بڑھتی ہے جب اسی وقت کَیمرا عام رفتار سے چلتا ہوا ظاہر ہوتا ہے۔ یہ فلم سائنس فکشن فلموں کی ایک قسم "سائبر پَنک" کا مثال ہے۔ یہ فلم متعدد فلسفیانہ اور مذہبی خیالات کے حوالے دیتی ہے اور نمایاں طور پر ادب کے شاہکاروں کا خراج پیش کرتی ہے، مثلاً ژاں بودریارد کا "سِمیُولاکرا اَینڈ سِمیُولیشن" اور لُوئس کَیرل کا "اَیلِس اِن ونڈر لَینڈ"۔ وچوفسکی بھائیوں کا ایکشن سِین کا طرز ان کے جاپانی کارٹُون اور رزمی فنون (یعنی مارشل آرٹس) کی فلموں کے شوق سے متاثر ہے اور اس فلم کا سٹیجی لڑائی ماہرین اور وائر فُو کے تکنیک کا استعمال، جو ہانگ کانگ ایکشن فلموں سے حاصل ہوئے تھے، آئندہ ہالی وُڈ کی ایکشن فلموں پر بہت متاثر تھے۔

میٹرکس پہلی بار امریکا میں ریلیز ہوئی 31 مارچ 1999 اور 46 کروڑ امریکی ڈالر کی عالمگیر آمدنی حاصل کی۔ زیادہ تر فلم نقادوں نے اس کی تعریف کی اور چار اکَیڈمی اوارڈ جیتے اور ان کے علاوہ دیگر تسلیمیں بھی حاصل کیے، جیسے بافٹا اوارڈ اور سَیٹرن اوارڈ۔ تبصرہ نگاروں نے "دی میٹرکس" کو اس کی ایجادی بصری سپیشل افیکٹ، حرکت نگاری (سینماٹوگرافی) اور تفریح کے سبب تعریف دی، تاہم فلم کی بنیاد کی یا تنقید ہوئی، پچھلے سائنس فکشن کے پاروں سے ماخوذ ہونے کے لیے یا دل رُبا ہونے کے لیے اس کی تعریف ہوئی۔ فلم کی ایکشن کو بھی قُطبی شدہ تنقید ملی؛ یا اثر انگیز ہونے کے باعث تعریف ہوئی اس کی یا ایک دلچسپ بنیاد سے توجہ ہٹانے والا کوڑا کہ کر اسے نظر انداز کیا گیا۔ باوجود اس کے، فلم سب سے اچھی سائنس فکشن فلموں کی فہرستوں میں شامل ہوئی ہے۔ فلم کی کامیابی کے نتیجے میں مزید دو سلسلہ وار فلمیں ریلیز ہوئی ہیں، "دی میٹرکس ری لوڈِڈ" اور "دی میٹرکس ریوولُوشنز"۔ کامِک بُک، وِڈیو گیم اور مختصر کارٹُون فلمیں بنانے کے ذریعے فلم کا مارکا آگے بڑھایا گیا ہے۔

کہانی[ترمیم]

ایک سادہ سا ملازمت پیشہ انسان نیو (Neo) جو عام سے زندگی گزار رہا ہوتا ہے اس سے ایک لڑکی رابطہ کرتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ تم عام نہیں بلکہ بہت خاص انسان ہو اور تم سے ایک شخص مورفیئس (Morpheus) ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ نیو لڑکی کے ساتھ جاکہ مورفیئس کے خفیہ ٹھکانے پہ جاکہ اس سے ملاقات کرتا ہے تو وہ ایسے انکشافات کرتا ہے کہ نیو کیلئے ناقابل یقین ہوتے ہیں۔ مورفیئس بتاتا ہے کہ یہ جو دنیا نظر آرہی ہے یہ ایک کمپیوٹر جنریٹڈ میکٹرکس ہے جسکا خالق انسانوں کو غلام بنا کہ انکی محنت کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہا ہے۔ مورفیئس نے بتایا کہ ہم اس میٹرکس سے آزاد لوگ ہیں جو اس میٹرکس کی تباہی کیلئے کوشش کررہے ہیں تاکہ تمام انسان اس غلامی سے آزاد ہوسکیں۔اسے بتایا جاتا ہے کہ نیو ہی وہ شخص ہے جو ہر کسی کو میٹرکس سے آزاد کر سکتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]