رام ریاض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام ریاض
پیدائش ریاض احمد
13 جنوری 1933(1933-01-13)

پانی پت، برطانوی ہندوستان
وفات ستمبر 7، 1990(1990-90-07) (عمر  57 سال)

جھنگ،پاکستان
قلمی نام رام ریاض
پیشہ شاعر
زبان اردو، پنجابی
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف غزل، نعت
نمایاں کام ورق سنگ
پیڑ اور پتے

رام ریاض (پیدائش: 13 جنوری، 1933ء - وفات: 7 ستمبر، 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر تھے۔

پیدائش[ترمیم]

رام ریاض 13 جنوری، 1933ء کو پانی پت، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نا م ریاض احمد تھا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں منتقل ہو گئے اور جھنگ میں سکونت اختیار کی۔ جھنگ ہی سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ رام ریاض کے شعری مجموعے پیڑ اور پتے اور ورق سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکے ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • پیڑ اور پتے
  • ورق سنگ

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

پانی پر تصویر اتارا کرتے تھے ہم تالاب میں پتھر مارا کرتے تھے
اگلے لوگوں نے بھی وقت گزارا ہے ​ سوچتا ہوں کس طرح گزارا کرتے تھے
کوئی بات تھی، میرے سر پر چاند نہ تھا تم جو میری سمت اشارہ کرتے تھے [2]

غزل

اُبھرا جب آکاش پہ تارا دونوں وقت ملے میں نے اچانک تجھے پکارا دونوں وقت ملے
سبز درختوں پر چُپ چھائی، ٹھہر گیا دریا​ آج نگر سے کون سدھارا دونوں وقت ملے
رات نے مجھ سے تارے چھینے، دن نے سورج لوٹا بھول گیا ہوں نام تمہارا دونوں وقت ملے
تند ہوا کی موجیں حائل تیرے میرے بیچ ​ اور فضا جلتا انگارا دونوں وقت ملے
شام دلہن مسکائی جب یادوں کے پنگھٹ پر​ میں نے دن کا بوجھ اتارا دونوں وقت ملے
پہروں بیٹھ کے روتا ہوں جب یاد آ جاتے ہیں تیری باتیں، ندی کنارا دونوں وقت ملے
آج کا چاند نجانے یارو! قسمت کسے دکھائے کہہ کر ڈوب گیا اک تارا دونوں وقت ملے [2]

غزل

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے اس چاند سے جب پہلے پہل نین لڑے تھے
رستے بڑے دُشوار تھے اور کوس کڑے تھے​لیکن تری آواز پہ ہم دوڑ پڑے تھے
بہتا تھا مرے پاؤں تلے ریت کا دریا اور دھوپ کے نیزے مری نس نس میں گڑے تھے
جنگل نظر آئے ہیں بھرے شہر ہمیں تو​ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں انسان بڑے تھے
اے رام! وہ کس طرح لگے پار مسافر جن کے سروسامان یہ مٹی کے گھڑے تھے [2]

غزل

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے ہم تیرے انتظار میں پھر بھی کھڑے رہے
میرے بدن پہ صرف ہوا کا لباس تھا تیری قبا میں چاند ستارے جڑے رہے
شاید وہ رام میری طرح بدنصیب تھے جو لوگ تیرے پیار کی ضد پر اڑے رہے [2]

وفات[ترمیم]

رام ریاض 7 ستمبر، 1990ء کو جھنگ،پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][3]

حوالہ جات[ترمیم]