رام شرن درنال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رام شرن درنال
پوڈیم کے سامنے کھڑے ہوئے رام شرن درنال

معلومات شخصیت
پیدائش 10 جولائی 1937(1937-07-10)
دھوبی چور، کاٹھمنڈو، نیپال
وفات 18 ستمبر 2011(2011-90-18) (عمر  74 سال)
ٹھمیل مارگ، کاٹھمنڈو، نیپال
قومیت نیپالی
زوجہ ہری مایا درنال
اولاد 4
اعزازات
  • جگدمبا شری ایوارڈ (2009)
  • نارائن گوپال موسیقی ایوارڈ (2009)
  • لنکرن داس گنگا دیوی چودھری ایوارڈ (2005)
  • نور گنگا ایوارڈ (2005)
  • قومی پرتیبھا ایوارڈ (1996)

رام شرن درنال (نیپالی: रामशरण दर्नाल‎؛ 10 جولائی 1937 – 18 ستمبر 2011) ایک نیپالی نسلی ماہر موسیقی تھے جو نیپال میں مختلف نسلی گروہوں کے موسیقی کے مطالعہ کو شروع کرنے اور عام کرنے کے لیے مشہور ہیں.[1][2][3] انہوں نے نیپال میں چند مغربی آلات کی مقبولیت میں بھی اہم کردار ادا کیا.[4][5]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

رام شرن درنل، جس کے نواران میں دنڈ کمار نام دیا گیا تھا، 10 جولائی 1937 کو دھوبی چور، کاٹھمنڈو میں اس وقت کے ڈرم میجر ستیہ کمار درنال اور ان کی بیوی دل کماری درنال کے ہاں پیدا ہوئے تھے.[6][7] رانا حکومت کے دوران رانا کے دوران اچھوت سمجھی جانے والی نیچلی ذات کے خاندان میں پیدا ہوئے درنال مشکلات کے لیے کوئی اجنبی نہیں تھے. در حقیقت، اپنے والدین کے ہاں پیدا ہونے والے دوسرے اولاد ہونے کے باوجود وہ زندہ رہنے والے پہلے اولاد تھے.[1] اپنے والد کے موسیقی کے پاس منظر کے وجہ سے وہ کم عمری میں حس موسیقی سے روشناس ہو گئے تھے.[1]

درنال دربار ہائی اسکول، کاٹھمنڈو کے سابق طالب علم تھے اور انہیں ثانوی تعلیم کے لیے سینٹ رابرٹس اسکول، دارجلنگ، بھارت بھیجا گیا، جہاں پر انہوں نے مینڈولن اور گٹار بجانا سیکھا.[1][2]

ذاتی زندگی[ترمیم]

درنال کا پیدائش سے ہی کمزور مدافعتی نظام تھا اور انہیں وقتا فوقتا طبیبوں اور روحانی علاج کرنے والوں کے پاس لے جایا جاتا تھا. 1948 میں ایک گیارہ سالہ رام شرن نے مہادیوستھان منڈن، کاوریپالانچوک سے تعلق رکھنے والی نو سالہ ہری مایا سے علاج کی بڑی امید سے شادی کی. 1951 میں وہ اپنی تعلم مکمل کرنے کے لیے دارجلنگ چلے گئے. انہوں نے کل 12 سال بیرون ملک گزارے. خوش مزاج اور واضح درنال نے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کو جنم دیا.[8][9]

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

درنال نے بھارت میں اپنے اسکول کے تعلیم دوران کولکتا میں ایک ریکارڈنگ کمپنی میں کام کرنا شروع کیا، جہاں وہ دھرم راج تھاپا، ناتی قاضی، شیو شنکر مانندھر اور تارا دیوی جیسے ساتھی نیپالی موسیقاروں اور گلوکاروں سے واقف ہوئے. 1958 میں درنال نیپال میں مینڈولن اور گٹار لے آے، جس کی وجہ سے انہیں ملک میں مغربی آلات متعارف کرانے والا پہلا شخص مانا جاتا ہے. اپنے پیشہ کے رابطوں کو بڑھاتے ہوئے انہیں 1959 میں نیپال اکیڈمی میں بطور مینڈولنسٹ ملازمت مل گئی. پانچ سال بات وہ نیپال موسیقی اور رقص اکیڈمی کے معتمد کے طور پر تین سالہ منصوبہ کے ایک حصے کے طور پر مقرر کیے گئے جو اس وقت کے بادشاہ مہیندر نے لایا تھا. انہیں 1966 میں کیدار مان ویتھت نے عہدے سے ہٹایا ہٹا دیا گیا تھا لیکن جلد ہی سوریہ وکرم گیوالی کی وجہ سے انہیں بحال کر دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے 2004 تک اکیڈمی میں کام کیا. نسلی موسیقی کے شہبے میں درنال کی شراکت کم از کم قابل تعریف ہے. مزید یہ کہ، پشکل بوڑھا پرتھی کی رہنمائی میں انہوں نے مغربی روایات اور آلات کو شامل کرنے کے لیے اپنی تحقیق کو بڑھایا. نغمہ نگاری ، موسیقی اور آلات موسیقی کے شعبوں میں ان کی قابل ستائش شراکتوں نے انہیں ایک ثقافتی افسانہ بنا دیا ہے.[2][10]

اکیڈمی میں اپنے وقت کے دوران وہ موسیقی عجائبخانه کے واحد ذمہ دار تھے، جہاں پر بدھ کے زمانے میں استمال ہونے والا 2500 سال پرانا کوتہ سمیت 100 مختلف اقسام کے 127 موسیقی کے آلات رکھے ہوئے تھے.[3] 35 سال تک نوٹری کے عہدے میں کام کرنے کے بعد درنال کام سے فارغ ہو گئے.[11][12]

سنگیت شرومنی یگیہ راج شرما کی سفارش پر 150 روپے ماہانہ تنخواہ پر مقرر کیے گئے درنال نے 2009 تک تقریبن 50 سال اکیڈمی میں گزارے. 2004 سے لیکر 2009 تک وہ نیپال اکیڈمی انجمن کے رکن رہے. سرکاری طور پر کام سے فارگ ہونے کے بعد بھی انہوں نے میوزک نیپال میں کام کیا. وہ تربھون جامع موسیقی شعبہ، نیپالی لوک موسیقی آلات عجائبخانه اور نیپال دلت ادب اور ثقافتی اکیڈمی سمیت کئی ثقافتی تنظیموں کے مشیر رہے تھے.

تالیف موسیقی[ترمیم]

دارجلنگ میں اپنے قیام کے موسیقی کے شعبہ میں کافی ترقی کرنے کے ساتھ ہی درنال لکھی دیوی سنداس اور شیو کمار رائی جیسے ادبی بلندیوں سے واقف ہو گئے. وہ پیانو، ڈرم اور گٹار بجانے میں ماہر تھے. جب وہ کولکتا سے کاٹھمنڈو آے، تو وہ مینڈولن اور گٹار جیسے موسیقی آلات نیپال لے آے.[13]

رام شرن نیپال میں گٹار اور مینڈولن متعارف کرانے والے پہلے شخص تھے.[14] وہ موسیقار پریم دھوج پردھان کو گٹار بجانا سکھاتے تھے.[15] انہیں اشور بلبھ کے کئی گانوں کی موسیقی کی تالیف کا سہرا دیا جاتا ہے. انہوں نے مادھو پرساد گھمرے کے "گاؤں چھ گیت نیپالی" کے لیے موسیقی ترتیب دی. ایم بی بی شاہ کے "اس کا لاگی ر پھیری اسئی کا لاگی" کے لیے نوٹشن ترتیت وار لکھنا کا کام بھی درنال نے ہی کیا تھا. تاہم، درنال کی فطری موسیقی کی مہارت کو "ہے ویر ہیڑ اگھی سری" میں بالکل دیکھا جا سکتا ہے.[10][16]

نسلی موسیقی اور تحریر[ترمیم]

"لوک موسیقی ہی ملک کی جان ہے."

— رام شرن درنال[17]

"نیپالی ثقافت اور لوک موسیقی کا رشتہ ناخون اور انگلیوں کا رشتہ جیسا ہی گہرا ہوتا ہے."

— رام شرن درنال[18]

درنال نے اپنے آپ کو نسلی موسیقی کے لیے وقف کرتے ہوئے روایتی موسیقی کے آلات اور لوک موسیقی کی تلاش میں سدرپشچم پردیش کے کئی اضلاع سمیت پورے نیپال کا سفر کیا. مانا جاتا ہے کی انہوں نے 365 سے زیادہ قسم کے آلات جمع کیا تھا، جس میں ہڈکا بھی شامل ہے.[19] وہ سرکاری ریکارڈ میں موسیقی کے آلات اندراج کرنے والے پہلے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں.

1968 میں مانسون کی شدید بارشوں کی وجہ سے درنال کا ٹھکانہ منہدم ہو گیا جس کی وجہ سے ان کی والدہ اور 15 قسم کے آلات موسیقی ملبے تلے دفن ہو گئے. وہ اسے اپنی زندگی کا سب سے کم نقطہ سمجھتے تھے. بعد میں ان کی زندگی ایک تیز موڑ لے گئی جب وہ موسیقی کے مقابلے میں لکھنے میں زیادہ سے زیادہ فعال ہو گئے. 1967 میں انہوں نے سنگالو نام کی بنارس میں واقع ایک اخبار کمپنی میں اپنا پہلا مضمون، "نیپالی سنسکرتی ما وادیہ وادن کو ستھان"، شائع کیا. اس مضمون پر نظر ثانی کی گئی اور ایک سال بعد گورکھا پتر میں شائع کیا گیا. انہوں نے نیپالی موسیقی اور 375 خطرے سے دوچار آلات موسیقی کے بارے میں کل 11 کتابیں لکھی، جو 1960 کی دہائی میں نایاب تھیں.[10][20][21] بسے نگرچی کی زندگی کا مطالعہ شروع کرنے والے درنال سخت محنت اور ثابت قدمی کی مثال کے طور پر جانے جاتے ہیں.[22]

تصانیف[ترمیم]

  • سنگیت پرکرما (1981)
  • نیپالی سنگیت سادھک (1981)
  • پرگیا پرسکار دوارا پرسکرت پرتیبھا (1981)
  • وشو وکھیات سنگیتکار (1984)
  • سنگیت کو وسترت اولوکن (1984)
  • نیپالی سنگیت-سنسکرتی (1988)
  • سنگیت سوربھ (2002)
  • نیپالی باگنہ ر کلا (2003)
  • نیپالی باجا (2004)
  • گائن شیلی (2004)
  • کاٹھمنڈو اوپتیکا کا پراچین سمسامیک گیت ہرو (2010)

ایوارڈز اور اعزازات[ترمیم]

درنال نے نسلی موسیقی کے شعبے میں ان کی ناگزیر شراکت کے لیے کئی ایوارڈ اور اعزازات حاصل کیے ہیں۔[23][24]

نیپال پوسٹ نے درنال کی شراکت کے اعزاز میں درنال کی تصویر کے ساتھ ٹکٹ شائع کیے ہیں، جس کی قیمت دس روپے ہے۔[25]

نیپال کی وزارت تعلیم نے 9 کلاس کے لیے جو نصاب تیار کیا ہے، اس میں نیپالی نصابی کتاب میں "سنگیتگیہ رام شرن درنال" کے عنوان سے درنال کی سوانح شامل ہے۔[26]

ایوارڈز[ترمیم]

  • جگدمبا شری ایوارڈ (2009)
  • نارائن گوپال موسیقی ایوارڈ (2009)
  • لنکرن داس گنگا دیوی چودھری ایوارڈ (2005)
  • اندر راجیہ لکشمی ایوارڈ (2005)
  • نور گنگا ایوارڈ (2005)
  • جھپٹ ایوارڈ (2003)
  • قومی پرتیبھا ایوارڈ (1996)

اعزازات[ترمیم]

تاریخ اعزازات بنیاد پیش کنندہ
4 اکتوبر 2010 شناخت کا سند نسلی موسیقی شری لنکرن داس گنگا دیوی چودھری فنون اور ادب اکیڈمی، کاٹھمنڈو
17 اگست 2010 پہلی ام اور قومی مجلس نیپالی فنون اور ثقافت نیپالی بینڈ باجا کاروبار انجمن
7 اگست 2010 عوامی اعزاز موسیقی اور فنون پر تحریریں پریار سروس کمیٹی
18 جولائی 2010 شناخت کا سند نسلی موسیقی نیپالی کمیونسٹ پارٹی، وارد 17 کمیٹی
21 مارچ 2010 شناخت کا سند مہاکوی دیوکوٹا کی صد سالہ تقریب بین الاقوامی نیپالی ادبی کانفرنس
11 دسمبر 2009 مہاکوی لکشمی پرساد دیوکوٹا کی صد سالہ تقریب نیپالی ادب تری مورتی نکیتن
7 نومبر 2009 شناخت کا سند جمہوری طرز عمل نیپال ثقافتی انجمن
10 اگست 2008 شناخت کا سند نیپالی فنون اور ثقافت گیانگن مطبوعات
14 جولائی 2008 شناخت کا سند نسلی موسیقی نیپال رقص ثقافت مرکز
13 جولائی 2008 شناخت کا سند نسلی موسیقی بھانو اکیڈمی
18 اکتوبر 2007 شناخت کا سند معاشرتی ترقی
22 جون 2007 آواز ثقافتی شام، 2064 تالیف موسیقی آواز کلاکار، نیپال
4 اپریل 2006 شناخت کا سند سرشٹا سمان کی 10 ویں سالگرہ شری لنکرن داس گنگا دیوی چودھری فنون اور ادب اکیڈمی، کاٹھمنڈو
17 اپریل 2005 43 واں قومی آزادی کا دن دلت حقوق کی وکالت نظر انداز، مظلوم افسردہ طبقات ترقی انجمن
14 جولائی 2005 25 ویں سالگرہ اور 112 ویں بھانو جینتی نسلی موسیقی لٹل اینجلز اسکول
9 اپریل 2005 بااختیار بنانے اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے تعلیم نسلی موسیقی ام ایجوکیشن اکیڈمی
4 مارچ 2005 عوامی اعزاز دلت حقوق کی وکالت نیپال قومی دلت فلاح انجمن
26 اگست 2004 شناخت کا سند دلت حقوق کی وکالت ٹی آر وشوکرمہ میموریل اکیڈمی
20 جون 2004 شناخت کا سند نیپالی ادب نور گنگا پرتیبھا ایوارڈ گروپ
2004 پیار کی نشانی کانتپور ٹیلی ویژن
6 جنوری 2004 شناخت کا سند 6 ویں قومی لوک رقص مقابلہ سادھنا کلا کیندر
6 دسمبر 2003 19 واں دلت ادب مجلس سماجی کام بھارتیہ دلت ادب اکیڈمی
16 نومبر 2003 شناخت کا سند نیپالی ادب جھپٹ ایوارڈ انتظام انجمن
22 اگست 2003 شناخت کا سند 5 واں قومی پیانو مقابلہ وزارت تعلیم
17 اگست 2003 شناخت کا سند تالیف موسیقی مدھرما
11 اپریل 2003 20 ویں علاقائی ثقافتی مقابلہ نیپالی فنون اور ثقافت نصاب ترقی مرکز
25 اگست 2002 عوامی اعزاز نیپالی فنون اور ثقافت دلت سروس کمیٹی
7 مئی 2002 قدردانی کا سند نسلی موسیقی نیپال فنون لطیفہ اکیڈمی
25 اپریل 2002 شناخت کا سند نسلی موسیقی لالیگراس قومی اکیڈمی
15 اپریل 2002 عوامی اعزاز نسلی موسیقی کاٹھمنڈو رقص اور ثقافتی مرکز
19 اگست 2000 شناخت کا سند صدی کے لوگ کاٹھمنڈو میٹروپولیٹن شہر
1999 دھرمو رکشتی رکشت مجلس نیپالی فنون اور ثقافت ام پشپتی سنا، نیپال
11 مارچ 1999 35 واں سالانہ پروگرام نسلی موسیقی کلاندھی اندرا سنگیت کالج
1998 نیپال دورہ سال 1998 نیپالی فنون اور ثقافت سادھنا کلا کیندر
1998 قدردانی کا سند قومی لوک رقص مقابلہ، 2055 سادھنا کلا کیندر
12 اپریل 1997 17 واں وارڈ پروگرام، 2053 بچوں کا لوک رقص مقابلہ کاٹھمنڈو میٹروپولیٹن شہر
21 جنوری 1997 بادشاہ کی تاجپوشی کی 25 ویں سالگرہ نسلی موسیقی سادھنا کلا کیندر
شناخت کا سند نیپالی فنون اور ثقافت بسے نگرچی میموریل
23 جنوری 1996 سادھنا اعزازات نسلی موسیقی سادھنا کلا کیندر
13 فروری 1995 قدردانی کا سند دلت حقوق کی وکالت نیپال مظلوم ذاتوں کی آزادی انجمن، بٹول
21 اگست 1994 قدردانی کا سند نیپالی فنون اور ثقافت کراتیشور سنگیتاشرم، گوری گھاٹ
29 دسمبر 1992 گورکھا دکشن باہو ناگزیر شراکتیں نارائن ہٹی دروار
14 دسمبر 1988 شناخت کا سند دلت حقوق کی وکالت بھارتیہ دلت ادب اکیڈمی
10-11 اپریل 1988 شناخت کا سند دلت حقوق کی وکالت پوروانچل علاقائی دلت مجلس تیاری انجمن، دھران

وفات[ترمیم]

اپنے حق میں ایک انقلابی، درنال طویل عرصے تک پارکنسن کی بیماری میں مبتلا رہا یہاں تک کہ 18 ستمبر 2011 کو 74 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا۔[4][6][27]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت مہرجن، راجیندر؛ سنداس، پدم، مدیران۔ (2015)، "आत्मवृत्तान्त"، सङ्गीतमय जीवन: सङ्गीत अन्वेषक रामशरण दर्नालको जीवन र कर्म، رتن مایا دلت ادب تحفظ تنظیم، صفحات 21–27، ISBN 9789937284578 
  2. ^ ا ب پ لوئٹیل، کرشنا کماری (January 19, 1995)، सङ्गीतका विशिष्ट अनुसन्धाता، پرجاتنتر ساپتاہک 
  3. ^ ا ب پوڈیال، باری (September 1994)، "प्राज्ञिक धरातलको निर्माण"، وموچن، 13 (7) 
  4. ^ ا ب پہاڑی، ڈمبر (October 2011)، "लोकसङ्गीत सम्राट्: एक स्मृति"، نیپالی منچ، 21 (6) 
  5. پرجلی، گوپال (June 16, 2012)، आजीवन सङ्गीत अनुसन्धाता، گورکھا پتر 
  6. ^ ا ب بھٹرائی، جئ دیو (September 17, 2011)، सङ्गीतमय जीवनको अवसान، گورکھا پتر 
  7. درنال، پرکاش (2015)، "बुबालाई सम्झदा"، بہ مہرجن، راجیندر؛ سنداس، پدم، सङ्गीतमय जीवन: सङ्गीत अन्वेषक रामशरण दर्नालको जीवन र कर्म، رتن مایا دلت ادب تحفظ تنظیم، صفحات 21–27، ISBN 9789937284578 
  8. درنال، ہری مایا (2011)، "साथमा बिताएका ती ६५ वर्ष"، بہ مہرجن، راجیندر؛ سنداس، پدم، सङ्गीतमय जीवन: सङ्गीत अन्वेषक रामशरण दर्नालको जीवन र कर्म، رتن مایا دلت ادب تحفظ تنظیم، صفحات 160–162، ISBN 9789937284578 
  9. साताकी गृहणी، ساپتاہک، January 25, 2002 
  10. ^ ا ب پ کھاتی، رمیش. "सङ्गीतका शिखर पुरुष रामशरण". یلمبر ٹائمز. اخذ شدہ بتاریخ March 16, 2019. 
  11. بھٹرائی، دیوندر (April 13, 2002)، मुर्चुङ्गाजस्तो जिन्दगी، کانتپور 
  12. کھڑکا، رام کلا (January 17, 2004)، अर्कै लोकको आभास، انپورنہ پوسٹ 
  13. واگلے، اننت پرساد (December 13, 1994)، "तिलौरी किन्दा हर्जाना तिर्नुपर्यो"، کوپلا (کانتپور) 
  14. مل، اشیش (July 11, 1991)، गितार र मेन्डोलिन भित्र्याउने सर्जक، ساپتاہک جن منچ 
  15. دکپال، راج کمار (October 1, 2011)، दुःखद दशैँ (श्रद्धाञ्जली، انپورنہ پوسٹ 
  16. بل، رائی (September 11, 2009)، लोकबाजा अन्वेषक र जगदम्बाश्री पुरस्कार، انپورنہ پوسٹ 
  17. شریشٹھ، اندر کمار 'سرت' (April 19, 1988)، ""लोकसङ्गीत नै राष्ट्रको प्राण हो," रामशरण दर्नाल"، وویک، 7 (4) 
  18. دھملا، چیت ناتھ (2002)، ""सङ्गीत र संस्कृतिः नङ र मासुजस्तो," रामशरण दर्नाल"، نیپال جاگرن ساپتاہک، 11 (5) 
  19. ساپکوٹا، دیپک (October 30, 2009)، बाजा-संवाद: रामशरण दर्नालसँग، گورکھا پتر 
  20. کھپانگی مگر، نریش (August 24, 2003)، बाजाबारे सोधखोज नहुँदा، Gorkhapatra 
  21. بھٹرائی، جئ دیو (September 19, 2009)، छाप्रोमै बसेर लेखेँ، گورکھا پتر 
  22. ڈھنگانا، گوپی کرشنہ (January 21, 2009)، आ-आफ्नै पङ्ख उचाली، انپورنہ پوسٹ 
  23. नेपाली सङ्गीतका मूर्धन्य धरोहरः रामशरण दर्नाल، 15 (1)، نیپالی منچ، September 18, 2005، صفحہ مڈ پیج 
  24. درنال، کرن (2015)، "पत्राचारमा बाबु र छोरा"، بہ مہرجن، راجیندر؛ سنداس، پدم، सङ्गीतमय जीवनः सङ्गीत अन्वेषक रामशरण दर्नालको जीवन र कर्म، رتن مایا دلت ادب تحفظ تنظیم، صفحات 165–167، ISBN 9789937284578 
  25. "सङ्गीत अन्वेषक रामशरण दर्नालको नाममा हुलाक टिकट जारी". آل دلت. اخذ شدہ بتاریخ April 16, 2019. 
  26. "कक्षा ९ उत्तरहरू: सङ्गीतज्ञ रामशरण दर्नाल". خلا کتاب. اخذ شدہ بتاریخ April 16, 2019. 
  27. مکارنگ، بلو (September 30, 2011)، विस्मृतिमा रामशरण दर्नाल र लोकबाजा، راجدھانی