راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس
Pindi-Metro-Logo.jpg
جائزہ
مالکحکومت پنجاب، پاکستان
مقامیراولپنڈی، پنجاب
اسلام آباد، دارلحکومت، پاکستان
ٹرانزٹ قسمبس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT)
لائنوں کی تعداد1
تعداد اسٹیشن24
یومیہ مسافر150,000
ویب سائٹسرکاری ویب سائٹ
آپریشن
آغاز آپریشن4 جون، 2015
عاملPunjab Metrobus Authority Logo.png
گاڑیوں کی تعداد68
تکنیکی
نظام کی لمبائی24 کلومیٹر (14.9 میل)
راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس
BSicon KINTa.svgپاکستان سیکریٹریٹ ٹرمینل
BSicon DST.svg بلو ایریا اسٹیشن
BSicon DST.svg جناح ایونیو اسٹیشن
BSicon DST.svg آئی جے پی روڈ اسٹیشن
BSicon DST.svg فیض آباد اسٹیشن
BSicon DST.svg شمس آباد اسٹیشن
BSicon DST.svg پنڈی اسٹیڈیم اسٹیشن
BSicon DST.svg سکسھ روڈ اسٹیشنn
BSicon DST.svg ففتھ روڈ اسٹیشن
BSicon DST.svg صادق آباد اسٹیشن
BSicon DST.svg چاہ سلطان اسٹیشن
BSicon DST.svg وارث خان روڈ اسٹیشن
BSicon DST.svg کمیٹی چوک اسٹیشن
BSicon DST.svg لیاقت روڈ اسٹیشن
BSicon DST.svg ٹیپو روڈ اسٹیشن
BSicon KINTe.svgجی ٹی روڈ ٹرمینل

راولپنڈی و اسلام آباد جڑواں شہروں میں شہری ٹرانسپورٹ کا جدید نظام جو حکومت پاکستان نے ترکی حکومت کی مدد سے تعمیر کیا۔ اس کی لمبائی 24 کلو میٹر (14.9میل) ہے۔ جس پر 24 اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جو دونوں شہروں کے اہم مقامات پر ہیں۔ اس پر ایک دن میں 1 لاکھ 50 ہزار افراد روزانہ سفر کر سکیں گے۔[1]

تعمیر[ترمیم]

یہ منصوبہ نواز شریف کی ذاتی دلچسپی اور شہباز شریف اور حنیف عباسی کی زیرنگرانی تعمیر ہوا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید شہری سہولتیں مہیا کرنے کا حصہ ہے۔ جس کے تحت پہلے لاہور میں لاہور میٹرو بس شروع کی گئی تھی۔ اس کے بعد ملتان میں ایسا ہی منصوبہ شروع کیا جانا والا ہے۔ راولپنڈی و اسلام آباد کا میٹرو بس پروجیکٹ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک اہم اور منفرد منصوبہ ہے جس کی کی تکمیل میں جدید تکنیکی مہارت کی استعمال کیا گیا اور راولپنڈی کی مصروف ترین شاہراہ مری روڈ کی دونوں اطراف میں ٹریفک کو رواں دواں رکھتے ہوئے اور روزانہ لاکھوں کی تعداد میں اس شاہراہ کو استعمال کرنے والے مسافروں کو تعمیراتی کام کے دوران ہر ممکن سہولت اور رسائی فراہم کرتے ہوئے دھرنوں اور ناموافق موسمی حالات باعث اگر چہ ہی انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ چھ ماہ تاخیر کا شکار رہا تاہم تمام تر رکاوٹوں اور پیچیدگیوں کے باوجود اس منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا گيا۔

سنگِ بنیاد[ترمیم]

23 مارچ 2014ء کو وزیر اعظم پاکستان، میاں محمد نواز شریف نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا جس کا ٹھیکا (کنٹریکٹ) شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے اعلیٰ شہرت کی حامل کمپنیوں کو قواعد و ضوابط کی تمام شرائط پوری کرنے کے بعد دیا گیا اور نیس پارک نے کنسلٹنٹ کے طور پر اس منصوبے کے ہرمرحلے پر نگرانی کر کے مقررہ معیار کے مطابق اعلیٰ تعمیراتی کام کے معیار کو یقینی بنایا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]