ریان ابن شبیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

رَیّان بن شَبیب، اصحاب امام رضا اور امام جواد میں اہل تشیع کے باوثوق محدثین میں سے ہیں۔

نجاشی کہتے ہیں ریان عباسی خلیفہ معتصم باللہ کے ماموں تھے۔ ان کی بہن ماردہ معتصم کی ماں تھی اور ہارون الرشید کی کنیز تھی ۔[1] لیکن مسعودی نے اپنی کتاب اثبات الوصیہ للامام علی بن ابی‌طالب میں انہیں مامون الرشید کا ماموں لکھا ہے۔[2]

ابن شبیب، ایران کے شہر قم میں سکونت پذیر ہوئے اور قم کے محدثین نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔ ابن شبیب نے امام رضا کی بعض روایات نقل کی ہیں اور امام رضا سے صباح بن نصر ہندی کے پوچھے گیے مسائل کی جمع آوری کی ہے۔[3]

علی بن ابراہیم قمی کے باپ ابراہیم بن ہاشم نے اپنی کتاب تفسیر قمی میں ان سے روایتیں نقل کی ہیں۔[4] ریان نے یونس بن عبدالرحمن سے بھی نقل روایت کی ہے۔[5]

ریان، کی سب سےمشہور حدیث حدیث عزاداری ہے جو امام رضا سے نقل کی جانے والی بہت معروف روایت ہے۔ اس حدیث میں محرم کے آداب و دعائیں، واقعہ عاشورا، رونے کی فضیلت و ثواب اور امام حسین کے لیے ماتم و عزاداری کا اجر و اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اس روایت میں ہے کہ:

«يَا اِبْنَ شَبِيبٍ إِنْ كُنْتَ بَاكِياً لِشَيْءٍ فَابْكِ لِلْحُسَيْنِ...» (اى پسر شبيب اگر کسی چيز کے لیے رونا ہو تو ، اس حسين (عليه السّلام) کے لیے رویا کرو...)[6]

بزرگ رجالی کشی کے مطابق،امام رضا نے ریان کے بیٹے کے بارے ناراضگی کا اظہارفرمایا اور اس کے حق میں دعاکرنے پر تیار نہ ہوئے اور گریز فرمایا مگ خود ریان کے لیے تین بار دعا فرمائی۔[7]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نجاشی، رجال، ص 165، شیخ صدوق، عیون اخبارالرضا، ج2 ، ص238-239۔
  2. مسعودی، اثبات الوصیة، ص223.
  3. نجاشی، رجال، ص165، خویی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، ج 9، ص 216۔
  4. ان روایتوں کو درج ذیل کتب میں دیکھا جا سکتا ہے۔:الکافی: ج 7، کتاب الوصیة 1، آخری باب، حدیث2۔ تہذیب الاحکام: ج 9، باب وصیة لاهل الضلال، حدیث 806۔ الاستبصار: ج 4، باب وصیة لاهل الضلال، حدیث 486۔عیون اخبار الرضا(ع): باب 7، حدیث12. الامالی صدوق: مجلس27، حدیث 5؛ خوئی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، ج 9، ص 217.
  5. دیکھیں: الکافی، ج 1، باب الحجة 4، باب معرفة الامام و الردّ الیه، حدیث 1۔
  6. روایت کا مکمل متن دیکھنے کے لیے دیکھیں: شیخ صدوق، امالی، مجلس 27، حدیث 5، ص 206؛ شیخ صدوق، عیون اخبارالرّضا، ص 165.
  7. رجال الکشی،ص:۶۰۹

مآخذ[ترمیم]

  • خوئی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواة، قم، مرکز نشر الثقافه الاسلامیه، 1372ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه، امالی، ترجمه کریم فیضی، قم، انتشارات وحدت بخش، 1384ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه، عیون اخبارالرّضا، مصحح مهدی لاجوردی زاده، تهران، نشر جهان، بی‌تا.
  • کشی، محمد بن عمر،؛ رجال کشی، دانشگاه مشهد، 1348ش.
  • مسعودی، علی بن حسین، إثبات الوصیة للإمام علی بن أبی طالب، قم، انتشارات انصاریان، 1384 ش.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسة النشر الاسلامی التابعه لجامعة المدرسین بقم، 1365 ش.