سات فقہائے مدینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سات فقہاء مدینہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سات فقہائے مدینہ

سات فقہائے مدینہ اصطلاح میں وہ مدینہ منورہ کے فقہائے سبعہ یا فقہائے مدینہ جن کا شاید ہی کوئی ثانی تھا یہ ساتوں فقہا مدینہ میں مقیم اور طبقہتابعین میں سے تھے، یہ ہم عصر تھے اور انھی کے ذریعے سے فتوے اور فقہ کا علم پھیلا۔ فقہا کے نزدیک تابعین میں فقہائے سبعہ سب سے افضل ہیں یہ ساتوں ایک وقت میں موجود تھے۔ اس پر اجماع امت ہے۔ انہیں فقہائے مدینہ بھی کہا جاتا ہے یہ حسب ذیل حضرات ہیں۔

  • سعید بن المسیب، یہ عمرفاروق اور عثمان غنی سے روایت کرتے ہیں اور امام زہری ان سے روایت کرتے ہیں۔ سعید بن المسیب کی وفات 94ھ میں ہوئی ہے۔
  • عروۃ بن زبیر متوفی 94ھ یہ زبیر اور علی المرتضی سے روایت کرتے ہیں پھر ان سے ان کی اولاد اور امام زہری روایت کرتے ہیں۔
  • قاسم بن محمد بن ابی بکر متوفی 108ھ۔ یہ ابوہریرہ سے اور ان سے امام روایت کرتے ہیں۔
  • خارجہ بن زید بن ثابت متوفی 98ھ۔ یہ اپنے والد ماجد اور اسامہ بن زید سے اور ان کے بیٹے سلیمان سے روایت کرتے ہیں۔
  • عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود متوفی 98ھ۔ یہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ اور ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام زہری وغیرہ روایت کرتے ہیں۔
  • سلیمان بن یسار متوفی 109ھ۔ یہ ام المنین میمونہ کے آزاد کردہ غلام تھے یہ میمونہ اور ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے یحیی بن سعید و ربیعہ روایت کرتے ہیں۔
  • ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام متوفی 94ھ یہ ابوہریرہ اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے ان کی اولاد اور امام زہری روایت کرتے ہیں۔

محمد بن یوسف بن خضر نے ان سب کو ایک قطعہ میں جمع فرمایا ہے۔

إِذا قِيلَ مَنْ فِي الْعِلْمِ سَبْعَةُ أبْحُرٍ … مَقَالَتُهُمْ لَيْسَتْ عَنِ الْحَقِّ خَارِجَهْ

فَقُلْ هُمْ عُبَيدُ اللهِ عُرْوَةُ قَاسِمٌ … سَعِيدُ أبُو بَكْرِ سُلَيْمَانُ خَارِجهْ

[1]

جب کہا جائیگا کہ کون سے علم کے سات سمندر ہیں تو اس کی بات کبھی حق سے تجاوز نہ کرےگی تو کہو عبید اللہ ،عروہ ،قاسم ،سعید ،ابوبکر، سلمان، خارجہ

ألَا إنَّ مَنْ لا يَقْتَدي بأئمَّةِ … فَقسْمَتُهُ ضيزَى عَن الحَقِّ خَارِجَهْ

فَقُلْ هُمْ عُبَيْدُ اللہ عُرْوَة قَاسمٌ … سَعيدٌ أبُو بَكْر سُلَيمَانُ خَارِجَه

[2]

یاد رکھو جو ان ائمہ کی اقتداء نہیں کرتا اس کی تقسیم بڑی ظالمانہ ہے اور حق سے بھی باہر نکل گیا عبید اللہ ،عروہ ،قاسم ،سعید ،ابوبکر، سلمان، خارجہ کی اقتداء کرو[3] علوم اسلامیہ میں فقہ کا کتاب و سنت سے ربط و تعلق، انہی فقہا کا کمالِ علم وعمل اور ان کی بے پناہ ذہانت و ذکاوت ہے،جنہوں نے اس فن کی تدوین میں غایت درجہ کا احتیاط،سورج کی طرح اس کی روشنی کا دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شرح الفیہ السُّيوطی مؤلف: شيخ محمد الأثيوبی الولوی ناشر: مكتبہ الغرباء الأثریہ، المدینہ المنورہ
  2. فتح المغيث بشرح الفیہ الحديث العراقی مؤلف: شمس الدين ابو الخير السخاوی ناشر: مكتبہ السنۃ - مصر
  3. الجامع لاحكام القرآن تفسير القرطبی، مؤلف: ابو عبد اللہ شمس الدين القرطبی ناشر: دار الكتب المصریہ - القاہرہ