سرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سرس

سرس (انگریزی: Albizia lebbeck) ایک موسمی اور بڑا درخت ہے جس کی چھال، پتے اور بیج بطور دواء کے استعمال ہوتے ہیں۔سرس ایشیا اور اوقیانوسیہ کے طبی پودوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سرس کے چھوٹے چھوٹے پتے

محل و وقوع[ترمیم]

سرس موسم کے اعتبار سے ایشیا میں مشہور ایک پودا ہے جو قدرے قدرے بڑھتا ہوا درخت کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ یہ عموماً ایشیا اور اوقیانوسیہ میں گھنے جنگلات اور آبادی کے درمیان بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ ایشیا میں اِسے سڑکوں کے قریب لگانے کا بھی رواج ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ وسطی ہندوستان، جنوبی ہند اور خطۂ پنجاب میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ میں سرس کو بطور گھنے دار درخت کی بنا پر چھاؤں کے لیے پارکوں اور عوامی مقامات میں لگایا جاتا ہے۔شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ میں اس کی چھال اور بیج جانوروں کے لیے بطور چارہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔

نام[ترمیم]

سرس کو عربی میں سلطان الاشجار، فارسی میں درخت زکریا، پنجابی میں شرینہہ، مرہٹی میں شرس، گجراتی میں شرسٹرو، بنگالی میں شریس گاچھ سرز، سندھی میں سرنہن، انگریزی میں Albizia lebbeck اور لاطینی میں Acacia Speciosa کہتے ہیں۔

طب میں سرس کی پہچان[ترمیم]

طب میں یہ پودا کثیر الفائدہ ہے۔ اِس کے بیج، چھال اور پتے بھی بطور دواء استعمال ہوتے ہیں۔ سرس کی پہچان یہ ہے کہ اِس کے پتے سبز رنگ کے ہوتے ہیں اور بیج بھورے سرخی مائل ہوتے ہیں۔ ذائقہ اِس کا تلخ ہوتا ہے اور طبی مزاج اِس کا درجۂ دؤم میں سرد اور خشک ہے۔ اِس کے پتے املی کے پتوں سے مشابہت رکھتے ہیں لیکن املی کے پتوں سے بڑے ہوتے ہیں۔ اِس کی پھلیاں سبز رنگ کی ہوتی ہیں جن میں اِس کے بیج موجود ہوتے ہیں۔ پھلی تقریباً چھ انچ لمبی اور ڈیڑھ سے دو انچ چوڑی ہوتی ہے۔ بیج کی مشابہت السی کے بیجوں سے ہوتی ہے لیکن اِس کے بیج بڑے ہوتے ہیں۔طب یونانی میں بطور دواء کے استعمال میں اِس کی چھال کم از کم 5 گرام سے 7 گرام اور اِس کے بیج (تخم سرس) 2 گرام سے 4 گرام تک دیے جاتے ہیں۔

طبی فوائد[ترمیم]

سرس کا جوشاندہ دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض میں مفید ہے (جوشاندہ سے کلی کی جائے)۔ سرس کے بیجوں کا سفوف سونگھنے سے نزلہ اور زکام بند ہوجاتا ہے۔ خنازیر کے مرض میں سرس کے بیجوں کا سفوف شہد میں ملا کر (یعنی معجون کی شکل میں) میں مریض کو کھلایا جاتا ہے جس سے خنازیر کا مرض رفع ہوجاتا ہے۔ خوانی بواسیر میں یہ سفوف مفید ہے۔ اِس سفوف کا بطور سرمہ استعمال آنکھوں کے جملہ امراض کے لیے نافع ہے۔ سرس کی پھلی کو قینچی سے باریک کتر کر اس کا سفوف بنا لیں اور تھوڑا سا سفوف آگ پر ڈال کر دھواں لیں تو مرض دمہ میں سانس پھولنا موقوف ہو جاتا ہے۔مرض شقیقہ اور جملہ دردہائے شقیقہ اِس کے بیجوں کے سفوف کے سونگھنے سے ختم ہوجاتے ہیں۔