سٹیو جابز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سٹیو جابز
Steve Jobs (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Shoulder-high portrait of smiling man in his fifties wearing a black turtle neck shirt with a day-old beard holding a phone facing the viewer in his left hand
Jobs holding a white iPhone 4 at Worldwide Developers Conference 2010

معلومات شخصیت
پیدائشی نام Steven Paul Jobs (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 24 فروری 1955[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سان فرانسسکو   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 اکتوبر 2011 (56 سال)[6][1][7][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مئیفیلڈ، کیلیفورنیا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات pancreatic cancer[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مقام دفن Alta Mesa Memorial Park[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش پالو آلٹو ، کیلیفورنیا ، امریکہ [8]
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب بدھ مت[10]
شریک حیات Laurene Powell Jobs (1991–2011)
اولاد 4
عملی زندگی
مادر علمی Reed College (one year, 1972)
پیشہ Chairman, ایپل انکارپوریشن
تصنیفی زبان انگریزی[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
کل دولت Increase$8.3 billion (2011)[11]
مجلس The Walt Disney Company,[12] ایپل انکارپوریشن
اعزازات
گرامی ٹریسٹی اعزاز (2012)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Image illustrative de l'article سٹیو جابز
ویب سائٹ
ویب سائٹ Steve Jobs

سٹیوین پال "سٹیو" جابز (24 فروری 1955، 5 اکتوبر 2011ء) امریکی کاروباری اور موجد تھا۔ ایپل کے بانیوں میں سے ایک تھا۔[15] اپنی کمپنی سے نکالا گیا۔[16] دوبارہ سربراہ بنایا گیا اور کمپنی کو دنیا کی سب سے امیر ترین کمپنی بنا دیا۔ موسیقی کھلاڑی، iPOD جسے کہتے ہیں، بنا کر مہنگے دام بیجتا، اس کی لت نوجوان نسل کو لگ گئی، اور جابز نے اربوں ڈالر کمائے۔ اکثر نوجوانوں کی قوت سامعہ موسیقی کانوں میں اونچا سننے سے خراب ہوتی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگے محمول iPhone کی عادت ڈالی جس سے سرطان کا امکان بڑھتا ہے۔ 2010 سے بیمار رہنے لگا، جگر کا زرع کرایا۔ 2011 میں جابز سرطان کے مرض سے انتقال کر گیا۔

جابز ایپل کے سینکڑوں ڈالر میں بکنے والے "کھلونے" مزدوروں کے انسانی حقوق پامال کرنے والے شینی کارخانوں میں بنواتا تھا۔[17]

رچرڈ سٹالمین کے مطابق سٹیو کے کھلونے بیوقوفوں کو ان کی آزادی سے محروم کرتے ہیں اور شمارندگی کے لیے مہلک ہیں۔[18]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 ذکر شدہ : مربوط مقتدرہ ملف — ربط : جی این ڈی- آئی ڈی — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ذکر شدہ : Steve Jobs (1st ed.) — مصنف: Walter Isaacson — عنوان : Steve Jobs — شائعاول — صفحہ: 3 — ناشر: Simon & Schuster — تاریخ اشاعت: 1 نومبر 2011 — ISBN 978-1-4516-4853-9
  3. ^ 3.0 3.1 ذکر شدہ : ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12154091r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. ^ 4.0 4.1 ذکر شدہ : Encyclopædia Britannica Online — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Steve-Jobs — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  5. ^ 5.0 5.1 ذکر شدہ : SNAC — ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w64t785j — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. حوالہ یو آر ایل: http://apnews.excite.com/article/20111011/D9Q9T1D00.html
  7. ذکر شدہ : Steve Jobs (1st ed.) — مصنف: Walter Isaacson — عنوان : Steve Jobs — شائعاول — صفحہ: 575 — ناشر: Simon & Schuster — تاریخ اشاعت: 1 نومبر 2011 — ISBN 978-1-4516-4853-9
  8. Gauvin, P and Arrington, V. (Aug 9, 1996). WAVERLEY STREET: Clinton stops by Palo Alto for dinner: Excited residents greet president in front of Steve Jobs' house. Palo Alto Online. Retrieved on: July 19, 2010.
  9. حوالہ یو آر ایل: http://www.bbc.co.uk/news/business-15194716
  10. Elkind، Peter (March 15, 2008). "The trouble with Steve Jobs". Fortune. http://money.cnn.com/2008/03/02/news/companies/elkind_jobs.fortune/index.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ July 21, 2008. 
  11. "Forbes 400 Richest Americans". Forbes. March, 2011. http://www.forbes.com/profile/steve-jobs۔ اخذ کردہ بتاریخ March 10, 2011. 
  12. "The Walt Disney Company and Affiliated Companies – Board of Directors". The Walt Disney Company. اخذ کردہ بتاریخ October 2, 2009. 
  13. درآمد شدہ از: ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12154091r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  14. حوالہ یو آر ایل: https://www.grammy.org/recording-academy/awards/trustee-awards
  15. Markoff، John (September 1, 1997). "An 'Unknown' Co-Founder Leaves After 20 Years of Glory and Turmoil". New York Times. http://www.nytimes.com/1997/09/01/business/an-unknown-co-founder-leaves-after-20-years-of-glory-and-turmoil.html۔ اخذ کردہ بتاریخ August 24, 2011. 
  16. "Steve Jobs Resigns as CEO of Apple". Apple Inc.. August 24, 2011. http://www.apple.com/pr/library/2011/08/24Steve-Jobs-Resigns-as-CEO-of-Apple.html۔ اخذ کردہ بتاریخ August 24, 2011. 
  17. "What Everyone Is Too Polite to Say About Steve Jobs". گاکر. 7 October 2011. 
  18. "Stallman: Jobs exerted 'malign influence' on computing". دی رجسٹر. 10 اکتوبر 2011ء. http://www.theregister.co.uk/2011/10/10/stallman_glad_jobs_gone/۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 October 2011.