سید محمد احمد قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو الحسنات سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خان لاہور۔ مشہور عالم دین مولانا سید دیدار علی شاہ الوری کے بڑے صاحبزادے تھے۔

ولادت[ترمیم]

ابوالحسنات سید محمد احمد قادری کی ولادت 1314ھ؍1896ء میں محلہ نواب پورہ میں بھارت کی ریاست الور میں ہوئی۔، [1]

تعلیم وتربیت[ترمیم]

حافظ عبد الحکیم اور حافظ عبد الغفور سے کلام پاک حفظ کیا،اسی دوران مرزا مبارک بیگ سے اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم شروع کی اور جگت استاذ قاری قادر بخش سے تجوید کی مشق کی،گیارہ بارہ سال کی عمر میں حفظ کلام پاک کے ساتھ ساتھ اردو انشاء پر دازی اور فارسی میں کسی قدر مہارت حاصل کرلی،پھر تمام علوم و فنون کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔درس نظامی اور علوم مروجہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد اور صدرالافاضل نعیم الدین مراد آبادی سے کی۔ قرآن کریم کے حافظ اور بہترین قاری تھے۔ طب نواب حامی الدین مراد آبادی سے پڑھی۔ شعرو ادب سے بھی شغف رکھتے تھے۔ اسی اثناء میں مشین سازی،رنگائی،کارپینٹری،گھڑی سازی،خیاطی اور ٹیلیفون کا کام سیکھ لیا،مرادآباد میں حکیم نواب حامی الدین سے علم طب حاصل کیا مولانا شاہ علی حسین کچھوچھوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے [2]

سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کے لیے کام کیا۔ تقسیم کے بعد جمیعت العلماء پاکستان کی تشکیل کی۔ 1952ء میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں جو مجلس عمل بنی اس کے صدر تھے۔ ایک سال کے لیے جیل گئے۔ آل انڈیاسنی کانفرنس نے تحریک پاکستان میں جس سر فروشی اور جاں سپاری سے کام کیا ا س کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔قیام پاکستان کے بعد ایک ایسی ہمہ گیر تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی جو اہل سنت و جماعت کو منظم کرنے کے ساتھ ملکی اور ملّی مسائل میں راہنمائی کا فریضہ انجام دے،غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحریک پر انوار العلوم،ملتان میں 26،27،28، مارچ 1978ء کو ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر کے علمائے مشائخ نے شرکت کی،جمعیۃ العلماء پاکستان کی تشکیل کے بعد حضرت علامہ ابو الحسنات صدر،اور حضرت علامہ کاظمی،ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جمعیۃ العلماء پاکستان اور جمعیۃ المشائخ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق 7؍مئی 1948ء بروز جمعہ پاکستان بھر میں یوم شریعت منایا گیا،جلسے منعقد ہوئے،قائد اعظم اور اسلامی جرائد کو تاریں دی گئیں اور حکومت پر زور دیاگیا کہ پاکستان میں قانون اسلامی نافذکیا جائے[3]مجاہدین اسلام کشمیر ی محاذ پر حق خودار ادیت کے حصول کے لیے جانبازی کا مظاہرہ کر رہے تھے،مودودی صاحب نے اس جنگ کو جہاد تسلیم نہیں کیا،حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ دیا کہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہے اور مسلمانوں کوہر ممکن طریقہ سے مجاہدین کی امداد کرنی چاہیے

مسجد وزیرخان[ترمیم]

مسجد وزیر خاں،لاہور کی خطابت سے امام المحدثین مولانا سید دیدار علی شاہ سکبدوش ہوئے تو سر ظفر علی ریٹائر ڈ جج ہائیکورٹ و متولی مسجد وزیر خاں نے بڑے اصرار کے ساتھ منصب خطابت مولانا ابو الحسنات کے سپرد کیا چنانچہ مولانا الور سے رخت سفر باندھ کر لاہور تشریف لے آئے اور ہمیشہ کے لیے لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ لاہور سے جو بھی دینی و ملی تحریک اٹھی اس میں آپ امتیازی حیثیت سے شریک ہوئے۔الور میں آپ انجمن خادم الاسلام کے صدر اور فتوے ٰکمیٹی کے ہیڈ مفتی تھے۔ مسجد وزیر خاں میں بزم تنظیم قائم ہوئی جس کے صدر بنائے گئے،اس تنظیم کے شعبۂ تالیف کے زیر اہتمام 35ٹریکٹ لکھ کر شائع کیے،انجمن حزب الاحناف،لاہور کے امیر مقرر ہوئے اور گرا نقدر خدمات انجام دیں۔

وفات[ترمیم]

2 شعبان 1380ھ بمطابق 1961ء کو وفات پائی احاطہ مزار داتا گنج بخش میں دفن ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

مشہور تصانیف میں:

  • تفسیر الحسنات تفسیر الحسنات
  • مخمس حافظ
  • مسدس حافظ
  • دیوان حافظ اردو
  • اوراق غم
  • طیب الوردہ علی قصیدۃ البردہ (شرح قصیدہ بردہ)
  • خیرالبشر[4]
  • کشف المحجوب کا ترجمہ
  • شمیم رسالت (1125 احادیث
  • اسلام کے بنیادی عقائد[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. غلام مہر علی،مولانا: الیواقیت المہر یہ ص77
  2. اقبال احمد فارقی ،پیرزادہ: تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت ،لاہور: ص317
  3. محمد احمد قادری ،مولانا ابو الحسنات ،سید: روئد :و مرکزی جمیعۃ العلماء پاکستان، لاہور،ص 3۔18
  4. تذکرہ علمأ اہل سنّت و جماعت لاہور، ص 315،پیر زادہ محمد اقبال فاروقی۔ مکتبہ نبویہ گنج بخش لاہور
  5. Khususi Mazmoon ..:: Abul Hasnat Syed Mohammed Ahmed Qadri RahamatullahAlaih ::