سید ناصر حسین موسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علامہ سید ناصر حسین موسوی معروف بہ ناصرالملۃ ،'ایک نامور شیعہ عالم دین اور متکلم‌‌‌ فقیہ مجتہد تھے ـ شہر لکھنؤ کے رہنے والے تھے ـ علامہ سید حامد حسین موسوی کے بیٹے تھے۔ ـ

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 19 جمادى الثانی سنہ 1284ھ مطابق 18 اکتوبر سنہ 1867ء میں ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

آپ نے اپنے والد علام کے ساتھ ساتھ علامہ مفتی سید محمد عباس شوشتری اور دیگر اساتذہ سے کسب علم کیا اور عربی اور فارسی ادب پر مسلط ہو گئے ـ آپ نے کتاب عبقات الانوار کی تالیف میں اپنے والد کی مدد کی۔

علامہ سید محسن امین عاملی کی نگاہ میں[ترمیم]

آپ کی علمی شخصیت کے بارے میں علامہ سید محسن امین عاملی یوں رقمطراز ہیں :

”امام فی الرجال والحدیث واسع التتبع كثیر الاطلاع قوی الحافظۃ لا یكاد یسألہ أحد عن مطلب الا ویحیلہ الی مظانہ من الكتب مع الإشارۃ إلی عدد الصفحات وكان أحد الأساطین والمراجع فی الھند ولہ وقار وھیبۃ فی قلوب العامۃ واستبداد فی الرأی ومواظبۃ علی العادات وھو معروف بالأدب والعربیۃ معدود من أساتذتھما والیہ یرجع فی مشكلاتھما۔ ولہ خطبہ مشتملۃ علی عبارات جزلۃ وألفاظ مستطرفۃ ولہ شعر جید۔ ومن تلامیذہ الزعیم الھندی الشھیر أبو الكلام آزاد، قرأ علیہ نھج البلاغۃ فی سنتین ومن ھنا تشیع آزاد بالروح الشیعیۃ قرأ علی والدہ وعلی المفتی السید محمد عباس“. [1]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی کی نگاہ میں[ترمیم]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی کے الفاظ یہ ہیں :

”علامۃ محدث فقیہ متکلم متتبع ماھر“. [2]

تالیفات[ترمیم]

1: نفحات الأزھار فی فضائل الأئمۃ الأطھار(16 جلدوں پر مشتمل)

2: إسباغ النائل بتحقیق المسائل(9 جلدوں پر مشتمل)

3: ما ظھر من الفضائل لأمیر المؤمنین یوم خیبر

4: إثبات رد الشمس لأمیر المؤمنین ودفع ما أورد علیہ من الشبهات

5: المواعظ

6: مسند فاطمۃ بنت الحسین

7: دیوان الخطب

8: نفحات الأنس فی وجوب السورۃ

9: الانشاء

10: سبائك الذھبان فی الرجال والأعیان

11: فھرست أنساب السمعانی

12: إفحام الأعداء والخصوم فی نفی تزویج عمر بأم كلثوم . [3]

وفات اور مدفن[ترمیم]

یکم رجب المرجب سنہ 1361ھ مطابق 15 جولائی سنہ 1942ء کو لکھنؤ میں آپ کی وفات ہوئی اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ آگرہ میں شہید ثالث قاضی نور اللہ شوشتری کے مزار میں دفن کیا گیا۔[4]

اولاد[ترمیم]

آپ کے دو بیٹوں میں بڑے بیٹے محمد نصیر تھے جنھوں نے لکھنؤ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نجف اشرف (عراق) میں تعلیم حاصل کی اور وہاں سے واپسی کے بعد لکھنؤ میں قیام کیا۔ـ

دوسرے بیٹے سید محمد سعید موسوی (سعید الملت) تھے، ـ آپ نے بھی لکھنؤ کی تعلیم کے بعد نجف اشرف (عراق) میں تعلیم حاصل کی اور پھر لکھنؤ واپس آکر والد علام اور جد علام کی تالیفات کے احیاء اور بقاء کا اہتمام کرتے رہے، ـ آپ کا انتقال بھی لکھنؤ میں ہوا اور آگرہ میں شہید ثالث قاضی نوراللہ شوشتری کے مزار میں والد علام کے پہلو میں آپ کو دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أعیان الشیعۃ، ج: 10، صفحہ : 201
  2. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج:5، ص: 489
  3. الذّریعۃ إلى تصانیف الشّیعۃ، (شیخ آقا بزرگ تہرانی)، ج: 2، صفحہ : 257
  4. نفحات الأزھار فی خلاصۃ عبقات الأنوار(سید علی میلانی) ج : 1 صفحہ : 146