سیسل چوہدری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیسل چوہدری
پیدائش27 اگست 1941(1941-08-27)ء
ڈلوال, پنجاب, پاکستان
وفات13 اپریل 2012(2012-40-13) (عمر  70 سال)
Lahore, Pakistan
وفاداری پاکستان
سروس/شاخ پاکستان فضائیہ
سالہائے فعالیت1958–1986
درجہUS-O6 insignia.svg Group Captain (کرنل)
یونٹNo. 5 Squadron Fighting Falcons
Commands heldMasroor Air Force Base
Sargodha Air Force Base
No. 32 Fighter Ground Attack Wing
No. 38 Multi-Role Wing
Combat Commander's School
مقابلے/جنگیںپاک بھارت جنگ 1965ء
Operation Eagle Stike
پاک بھارت جنگ 1971ء
Operation Chengiz Khan
اعزازاتستارہ جرأت (1965)
تمغائے جرات (1971)
دیگر کامتعلیم

سیسل چوہدری ان کے والدسینئر اور بزرگ ترین پریس فوٹو گرافر ایف ای چوہدری تھے ان کا پورا نام فاؤسٹن ایلمر چوہدری تھا، مگر صحافی برادری انھیں پیار اور احترام کی رو سے چاچا کہہ کر پکارتی تھی ا (27 اگست ،1941ء - 13 اپریل، 2012ء) پاکستان فضائیہ کے مشہور ہواباز تھے جنہوں نے 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں داد شجاعت لی۔ بہادری پر آپ کو ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ نوکری کے بعد آپ تعلیم کے شعبہ سے منسلک رہے۔ سیسل چوہدری نے 1965ءجنگ میں کئی اہم معرکوں میں حصہ لیا اور بھارت کے تین جہاز بھی مار گرائے۔ ایک مرتبہ بھارت کی فضا میں لڑے جانے والے ایک معرکے میں سیسل چوہدری کے جہاز کا ایندھن بہت کم رہ گیا۔ سرگودھا ائیر بیس تک واپسی ناممکن تھی۔ جہاز کو محفوظ علاقے میں لے جا کر اس سے پیراشوٹ کے ذریعے نکلا جا سکتا تھا مگر ایک ایک جہاز پاکستان کے لیے قیمتی تھا۔ حاضر دماغ سیسل نے ایک انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ وہ بچے کھچے ایندھن کی مدد سے جہاز کو انتہائی بلندی تک لے گئے اور پھر اسے گلائیڈ کرتے ہوئے سرگودھا اتار دیا۔ اس سے پہلے کسی پاکستانی ہواباز نے جنگی جہاز کو گلائیڈ نہیں کیا تھا۔ اس جنگ میں سیسل چوہدری کے دلیرانہ کارناموں کے اعتراف میں انہیں ستارہ جرات دیا گیا۔ سنہ 1971 میں سیسل چوہدری جنگ کے لیے سرگودھا ائیر بیس پر تعنیات تھے بھارتی حدود میں ایک مشن کے دوران سیسل چوہدری کے جہاز میں آگ لگ گئی۔ سیسل نے پیراشوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا دی اور عین پاک بھارت سرحد پر بارودی سرنگوں کے میدان میں اترے۔ انہیں پاکستانی مورچوں تک پہنچنے کے لیے محض تین سو گز کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ اس علاقے سے ان کا زندہ نکل آنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پاکستانی فوجیوں نے انہیں فوراً ہسپتال پہنچا دیا کیونکہ ان کی چار پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کرنے کا حکم دیا مگر وہ اپنے بھائی کی مدد سے رات کی تاریکی میں ہسپتال سے فرار ہو کر اپنے بیس پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان ٹوٹی ہوئی پسلیوں کا درد سہتے ہوئے سیسل چوہدری نے 14 فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اس مرتبہ انہیں ستارہ بسالت دیا گیا۔ جنگ کے بعد 1979 تک سیسل چوہدری مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سب سے اعلی فضائی بیڑے کی سربراہی بھی کی۔ وہ کومبیٹ کمانڈر سکول کے سربراہ بھی رہے۔ 1978 کے آخر میں سیسل چوہدری کو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے میں ملٹری اتاشی بنا کر بھیجا گیا۔ ستمبر 1979 میں سیسل چوہدری ڈیپوٹیشن پر عراق چلے گئے اور عراقی ہوابازوں کو تربیت دینے لگے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو عراق کا سب سے بڑا غیر فوجی اعزاز دیا گیا۔ 1981 میں مدت پوری ہونے پر عراقی صدر صدام حسین نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ سیسل چوہدری کے قیام میں توسیع کر دی جائے۔ اس طرح 1982 میں وہ واپس آئے۔ انہیں عراقی فضائیہ میں بطور مشیر مستقل ملازمت کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔

70 سال کی عمر میں پھیپڑوں کے سرطان کی وجہ سے 3اپریل 2012ء لاہور میں انتقال ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Cecil Chaudhry laid to rest". ڈان. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2012.