شیخ ابراہیم زکزاکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ ابراہیم زکزاکی 2013ء میں

شیخ ابراہیم زکزاکی نائجیریا کے ایک شیعہ مجتہد اور عالم دین ہیں۔ نائجیریا میں اہل تشیع کے قائد، اسلامی تحریک نائجیریا کے سربراہ اور رہبرِ مسلمینِ جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نائجیریا میں مذہبی نمائندہ بھی ہیں۔ جن کے اعلی اور بلند اخلاق کی وجہ سے وہاں کے تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حتیٰ کہ مسیحی مذہب کے لوگ بھی انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شیخ زکزاکی (جو پہلے مالکی مذہب کے تھے) نے خود بھی امام خمینی کے افکار سے متاثر ہوکر شیعہ مذہب اختیار کیا اور اب تک لاکھوں لوگوں کو شیعہ کرچکے ہیں۔ نائجیریا میں اکثر شیعہ، نومسلم ہیں۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

شیخ زکزاکی 5 مئی 1953ء کو پیدا ہوئے انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی شہر زاریا میں حاصل کی جس کی وجہ سے ان کے لیے شیعہ مذہب کا مطالعہ آسان ہو گیا۔ اور وہ وسیع مطالعات کے بعد شیعہ مذہب کے پیرو کار ہو گئے۔ شیخ زکزاکی ایک عظیم اور بے باک لیڈر ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ اسی وجہ سے اسرائیل اور وہابی متعصبین ان کی جان کے درپے ہو گئے۔ اور اس ملک میں شیعہ مخالف سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا۔ حالانکہ ان کا سوائے اہل بیت علیہم السلام سے والہانہ عشق کے علاوہ کوئی جرم نہیں ہے۔

نائجیریا مسلم آبادی[ترمیم]

نائیجیریا ایک افریقی ملک ہے جس کی کل آبادی 17 کروڑ ہے۔ جس میں 60 فیصد مسلمان اور ان میں سے 7 فیصد شیعہ ہیں۔ جبکہ اہل سنت فقہ مالکی پر عمل کرتے ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں تشیع میں روز بروز اضافے کی وجہ سے اسرائیل اور وہابیت نائجیرین مسلم عوام کے جانی دشمن بن گئے ہیں۔ دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

سیاسی جد و جہد[ترمیم]

Sheikh Zakzaky 1.jpg

زکزاکی کہتے ہیں: میں 1978ء میں یونیورسٹی میں انجمن اسلامی سورہ نائجیریا کا جنرل سیکرٹری تھا اور ہماری خواہش تھی کہ ملک میں اسلام کا بول بالا ہو اور اسلامی قوانین کا اجرا ہو کیونکہ ہماری حکومت کمونیسٹ تھی۔ 1980ء میں پہلی مرتبہ اسلامی انقلاب ایران کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایران گیا تو میری زندگی اور میری فکر میں واضح تبدیلی آئی۔ 80ء کی دہائی میں، میں نے ایک نئی اسلامی انجمن کی بنیاد رکھی اور انجمن اسلامی سورہ سے الگ ہو گیا۔ اور انہی سالوں سے (دشمنوں کی جانب سے ) مسلمانوں کے مابین اختلاف ڈالنے کی پالیسی پر عمل شروع ہوا اور ہم نے اس کی بڑی مزاحمت کی اور اتحاد بین المسلمین کے لیے بھی سرگرم ہو گئے۔

قدس ریلی[ترمیم]

ہر سال قدس کی ریلی کے موقع پر شیخ ابراہیم زکزاکی کی قیادت میں تمام مسلمان شیعہ و سنی مل کر شرکت کرتے ہیں جو نائجیرین فوج کو کسی طور بھی پسند نہیں تھا۔ 2014ء میں فوج نے قدس ریلی پر دھاوا بول دیا اور 30 روزہ دارمسلمانوں کو شہید کر دیا۔ جن میں شیخ زکزاکی کے کل چار بیٹوں میں سے تین بیٹے بھی شہید ہوئے۔ لیکن اپنے تین بیٹے قربان کرنے کے باوجود بھی انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے دینی مشن کو جاری رکھا۔

عظیم حملہ[ترمیم]

13 دسمبر 2015ء بروزاتوار کو زاریا شہر میں واقع ان کے گھر کے قریب موجود تاریخی امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں مجلس عزاء جاری تھی جس میں لاکھوں لوگ جمع تھے۔ اطلاعات کے مطابق نائجیریا کی فوج نے اسی وقت شیخ ابراہیم زکزاکی کے گھر کا گھیراؤ کر کے شیعہ تنظيم تحریک اسلامی کے کارکنوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام کیا ذرائع کے مطابق علاقہ میں کشیدگی جاری رہی فوج کے حملے میں 450 سے زیادہ شیعہ افراد شہید اور 1200 زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی بیوی زینت ابراہیم، ان کے چوتھے اور اکلوتے غازی بیٹے سید علی اور بہو بھی شہید ہونے والے افراد میں شامل تھے۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر نسیبہ کے مطابق 1000 سے زیادہ افراد شہید کیے گئے۔

اس کے بعد اسلامی تحریک نائجیریا نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ

نائجیرین سیکیورٹی فورسز کے شیخ زکزکی کے گھر پر حملے کے نتیجے میں تحریک کے سینئیر رہنما شیخ محمد توری، ڈاکٹر مصطفی سعید، ابراہیم عثمان اور جمعہ گلیما کی شہادت واقع ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق درجنوں افراد کو گولیوں اور تلواروں سے قتل کرنے کے بعد فوج نے شیخ ابراہیم زکزاکی کو شدید زخمی کر کے گھسیٹ کر اسی زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ اس سے پہلے بھی 9 بار انہیں گرفتار کیا جا چکا ہے اور ہر بار کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

اس حملے کا جواز یہ بنایا گیا کہ یہ نہتے شیعہ، آرمی کے جنرل کو مارنا چاہتے تھے۔ حالانکہ یہ بات واضع ہے کہ شیعہ نائجیریا میں اقلیت میں ہیں اور انتہائی پر امن ہیں۔ نائجیریا کی فوج جو بوکو حرام سے نہیں لڑ سکتی وہ اب نہتے بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسا رہی ہے اور عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔ کچھ تجزیہ نگار کا کہنا ہے ہو سکتا ہے یہ وحشیانہ بربریت کسی شیعہ مخالف عربی ملک کے کہنے پر کی جا رہی ہو۔

زکزاکی پر پہلے بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں جن میں شیخ ابراہیم زکزاکی زخمی بھی ہوتے رہے ہیں۔

احتجاجات[ترمیم]

نائجیریا کی غیر مسلم حکومت کے ان ظالمانہ اور غیر جمہوری اقدامات پردنیا بھر کے مختلف ممالک میں غیرت مند لوگوں نے شدید مذمت اور احتجاجات کیے گئے۔

  • لندن میں نائجیریا سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ
  • امریکا میں مظاہرہ
  • عراق میں مظاہرہ
  • ایران میں احتجاجی جلوس
  • پاکستان میں مختلف شہروں میں احتجاجی جلوس
  • دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے اور جلوس

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]