صارف:Faismeen/Urdu poetry

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو ادب کی دو قسمیں ہیں، ایک اردو نثر اور دوسری اردو نظم۔ اردو نظم کو اردو شاعری بھی کہا جاتا ہے اور یہ بہت ہی مقبول صنف ہے۔ اردو شاعری ایک بہت ہی معروف روایت ہے اور اسکی بہت ساری مختلف اقسام ہیں۔ زیادہ تر شعری اصناف اور ڈھانچے عربی زبان سے ماخوذ ہیں۔ آجکل اردو شاعری جنوبی ایشیا کی تہذیب کا ایک اہم حصہ ہے۔ میر، درد، غالب، انیس، داغ دہلوی، دبیر، اقبال، ذوق، جوش، اکبر، جگر، فیض، فراق، شکیب جلالی، احمد ندیم قاسمی، ساحر، محسن، فراز، فیضی اور عاجز اردو شاعری کے سب سے بڑے شعراء میں سے ہیں۔ برطانوی دور میں اردو زبان کو اپنا عروج حاصل ہوا اور اسے سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ اردو زبان کے تمام مشہور شعراء جیسے میر و غالب وغیرہ کو برطانوی حکومت سے وظیفہ ملتا تھا۔ 1947 میں تقسیم کے بعد اردو شاعری کے نامور شعراء اور اسکالرس سرحدی خط کے مابین منقسم ہو گئے۔ البتہ اردو شاعری دونوں ملکوں میں پھلی پھولی اور دونوں ہی ملکوں میں مسلمانوں اور ہندووں نے اس روایت کو جاری رکھا۔ اردو شاعری صرف کاغذ پر ہی نہیں لکھی جاتی بلکہ اسکو وسیع پیمانے پر پڑحھا جاتا ہے، گایا جاتا ہے، سنا اور سنایا جاتا ہے اور اسکے لئے مشاعرے منعقد کئے جاتے ہیں جسمیں عوام بڑی دلچسپی سے حصی لیتی ہے، مشاعروں نے اردو شاعری اور خاص طور پر غزل کے فروغ بیت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ قوالی بر صغیر ہند و پاک میں بہت دلچسپی سے سنی جاتی ہے، نصرت فتح علی خان نے اپنی قوالی میں معیاری اردو غزل کو بہت سلیقے سے پیش کیا ہے۔ عوام میں اردو شاعوی کی مقبولیت میں بالی ووڈ کا بھی اہم رول رہا ہے اردو شاعری کی اقسام: غزل کے لغوی معنوی ایسا کلام جس میں عورتوں کے حسن و عشق کا بیان ہو۔ اصطلاح میں غزل کہتے ہیں جس میں عشق و محبت، حسن و جمال اور محبوب کا تذکرہ ہو۔ ہجر و فراق، انسو ، شبنم، خد و خال، وفا اور جفا، گل و بلبل، صبح و شام وغیرہ غزل کے چند اہم موضوعات ہیں۔ غزل کا ہر شعر دوسرے شعر سے معنی و موضوع کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے مطلع: غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے حسنِ مطلع: اگر غزل کا دوسرا شعر بھی ہم قافیہ ہو تو اسے ’حسنِ مطلع‘ یا ’مطلع ثانی‘ کہیں گے۔ تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے۔ مقطع: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے ’مقطع‘ کہلاتا ہے۔ اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا بیت الغزل: غزل کا سب سے اچھا شعر بیت الغزل یا شاہ بیت کہلاتا ہے۔ نعت: اس صنف میں مسلمانوں کے پیغمبرحضرت محمد کی تعریف کی جاتی ہے۔ حمد: لفظ حمد قران کریم کا سب سے پہلا لفظ ہے اور یہ لفظ اللہ کی تعریف کے لئے خاص ہے۔ اردو شاعری کی اس صنف میں اللہ کی تعریف کی جاتی ہے۔ منقبت: یہ صنف تصوف میں زیادہ مقبول ہے۔ اس میں حضرت علی کی تعریف میں اشعار کہے جاتے ہیں۔ مرثیہ: پچھلے زمانے کی بہت ہی مقبول صنف ہے۔ اس میں حسن بن علی کی شہادت کا قصہ بڑے رزمیہ ادناز میں بنیادی طور پر ایک روایتی مرثیہ اپنی ترکیب میں مندرجہ ذیل اجزاء کا حامل ہوتا ہے۔ ۔ 1۔ تمہید 2۔ چہرہ 3۔ سراپا 4۔ رخصت 5۔ آمد 6۔ رَجَز 7۔ جنگ 8۔ شہادت 9۔ دعابیان کیا جاتا ہے۔ مثنوی: اس صنف میں عشقیہ داستان کو دو شعری انداز میں پہش کیا جاتا ہے۔ گویا کہ یہ نثط کی مشہور صنف داستان کی شعری شکل ہے۔ داستان ہی طرح اس میں دوسری دنیا کی خیالی باتیں، جن اور پریوں کی کہانیاں، جادو اور جنگ کی باتی٘ ہوتی ہیں۔ اردو کی سب سے پہلی مثنوی کدم راو پدم راو ہے۔ میر تقی میر اور سودا نے کچھ اہم مثنویاں لکھی ہیں۔ میر حسن اور دیا شنکر نسیم کو مثنوی کا استاد مانا جاتا ہے۔ انکی مثنویاں بالترتیب سحرالبیان اور گلزارنسیم ہیں۔ نظم: یہ ایک بہت ہی وسیع اصطلاح ہے اور اسکی بے شمار اقسام ہیں۔ نظم میں غزل کے برعکس ایک ہی مضمون ہوتا ہے جسکا ایک مرکزی خیال بھی ہوتا ہے۔ ہر نظم کا ایک عنران ہوتا ہے جس کے تحت شاعر اپنی بات مکمل کرتا ہے۔ اسمیں غز کی طرح دو اشعار کی پابندی نہیں ہوتی ہے۔ نظم مثلث، رباعی، مخمس، مسدس، اور مثمن ہوسکتی ہے۔ مسدس حالی بہت مشہور ہے۔ مشہور نظم گو شعرا میں اقبال، فیض، ن م راشد، نظیر، اکبر، علی سردار جعفری، اخترالایمان، فراق، جوش اور کیفی اعظمی شامل ہیں۔ ن م راشد میں ازاد نظم کو ایک مقبول عام صنف بنایا ہے۔  

حوالہ جات[ترمیم]

[[زمرہ:بھارتی ادب]] [[زمرہ:پاکستانی ادب]] [[زمرہ:شاعری بلحاظ قوم اور زبان]] [[زمرہ:اردو شاعری]]