صولت مرزا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صولت مرزا
Saulat Mirza
صولت مرزا

معلومات شخصیت
پیدائش خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔ (عمر خطاء تعبیری: غیر تسلیم شدہ لفظ "mm"۔ سال)خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 مئی 2015 (43–44 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
زمرہ:پاکستان میں قید خانے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
رہائش شمالی ناظم آباد ٹاؤن
(سابقہ)
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
دیگر نام صولت مرزا
ہٹمین
نسل اردو متکلم پٹھان
مذہب اسلام
جماعت متحدہ قومی موومنٹ
تعداد اولاد 1   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی
بی کام
پیشہ سیاسی کارکن، قاتل

صولت مرزا (Saulat Mirza) پیدائشی نام صولت علی خان [1] ایک پاکستانی سزا یافتہ قاتل، ٹارگٹ کلر اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا ایک سابق سیاسی کارکن ہے۔[3]

1997 میں اسے تہرے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ اسے ایک بیوروکریٹ اور کے ای ایس سی (اب کے -الیکٹرک) کے انتظامی ڈائریکٹر شاہد حامد، ان کے ڈرائیور اشرف بروہی اور ان کے محافظ خان اکبر کے ساتھ قتل میں سزا سنائی گئی۔[4]

19 مارچ ویڈیو[ترمیم]

صولت مرزا ایک سزا یافتہ قاتل ہے پر 19 مارچ 2015 کو جیل سے صولت مرزا کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا جس نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی ہلچل مچادی۔ اپنے بیان میں صولت مرزا نے براہ راست کراچی بے امنی کا ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ الطاف حسین اور بابر غوری کے جانب سے مخالفین کے قتل کے احکامات دیے جا رہے تھے۔ مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ لوگوں کو استعمال کرکے پھر لاتعلقی کا اعلان کردیتے ہیں۔[5]اس ویڈیو کے بعد حکومت پاکستان نے فورا صولت مرزا کی پھانسی روک دی اور تحقیقات کا حکم دیا۔ اسی ویڈیو کے نتیجے میں پاکستان میں الطاف حسین کے کال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔[6]

متعلقہ بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Syed Shoaib Hassan (19 مارچ 2015)۔ "Trending in Pakistan: A Convicted Hit Man's Impending Hanging, and a Political Drama"۔ Washington Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2015۔
  2. News Desk (20 March 2015). "Govt decides to re-open murder case after Saulat Mirza’s statement". GEO News. GEO News. Retrieved 20 March 2015.
  3. News agencies (19 مارچ 2015)۔ "Confession from death row: Saulat Mirza says he killed KESC chief on Altaf's order"۔ Express Tribune۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2015۔
  4. Hassan, Syed Shoaib (19 March 2015). "Trending in Pakistan: A Convicted Hit Man’s Impending Hanging, and a Political Drama". Washington Times. Washington Times. Retrieved 20 March 2015.
  5. http://www.dailytimes.com.pk/national/19-Mar-2015/saulat-mirza-would-receive-target-killing-orders-from-altaf-hussain
  6. http://stayconnecting.com/altaf-hussain-telephonic-discussion-and-speeches-ban-in-pakistan/