عبد الرزاق اچکزئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرزاق اچکزئی
Afghan Brig. Gen. Abdul Raziq addresses police NCOs during graduation at Kandahar Regional Training Center.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1979  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سپین بولدک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 اکتوبر 2018 (38–39 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قندھار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات بلاسٹک ٹروما  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
قاتل تحریک الاسلامی طالبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قاتل (P157) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سیاسی قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 13   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فوجی افسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ افغان سرحدی پولیس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
عہدہ لیفٹیننٹ جنرل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر

عبدالرزاق اچکزئی (پشتو: عبدالرازق اڅکزی؛ پیدائش: 1979ء، سپین بولدک، قندھار – وفات: 18 اکتوبر 2018ء، قندھار) افغانستان کا ایک فوجی کمانڈر اور صوبہ قندھار کی دفاعی افواج کا سربراہ تھا۔ جو افغانستان میں طالبان اور پاکستان کا شدید ترین مخالف شمار کیا جاتا تھا۔ اسے بارہا طالبان کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں اور بالآخر 18 اکتوبر 2018ء کو اسے صوبہ قندھار کے گورنر کے دفتر میں قتل کر دیا گیا۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

عبدالرازق افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولدک میں سال 1979ء کو پیدا ہوا۔ وہ قندھار پولیس کا سربراہ تھا۔ وہ پشتون قوم کے ایک قبیلے اچکزئی سے تعلق رکھتا تھا۔ طالبان کے دور میں وہ اپنے والد اور چچا کے ہمراہ طالبان کی گرفت میں آگیا تھا اور ان تینوں کو طالبان نے قید کر لیا تھا، خوش قسمتی سے عبدالرازق طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا لیکن اس کے چچا اور والد کو طالبان نے قتل کر دیا تھا۔

قتل[ترمیم]

عبدالرازق 18 اکتوبر 2018ء کو قندھار کے گورنر کے دفتر میں دیگر فوجی افسران کے ہمراہ موجود تھا کہ بعد از ظہر تقریباً 3:30 بجے وہاں موجود ایک خود کش بمبار نے حملہ کر دیا اور اس حملے میں عبدالرازق ہلاک ہوگیا۔ بعد ازاں طالبان نے اس حملے کہ زمہ داری قبول کر لی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]