علی الحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امام علی الحق سیالکوٹی المعروف امام صاحب انہیں علی لاحق بھی کہا جاتا ہے ۔[1]

زمانہ[ترمیم]

تاریخ کے ایک بہت بڑے صوفی اور اولیاء تھے۔ آپ کا دور 13 صدی تھا۔ یہ دور شاہ فیروز تغلق کا تھا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں گزار دی۔ آپ کا اصل نام علی اصغر تھا۔

مرشد[ترمیم]

ویسے تو آپ نے کئی علما دین سے علم حاصل کیا۔ لیکن آپ نے اصل علم بابا فرید گنج شکر سے حاصل کیا۔ اپ بابا فرید کے 14 مرید اور خلیفہ بھی رہ چکے ہیں۔آپ خلفائے گنجِ شکر سے تھے، بہت بڑے صاحب تصرف اور صاحب باطن اور متقی تھے، بعد حصول خرقہ خلافت طرف سیالکوٹ کے رخصت ہوئے، وہاں پہنچ کر ہزاروں کو خدارسیدہ کیا، صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں کہ جب آپ بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت دو علی اور موجود تھے ایک شخص علی بہاری، دوسرے شیخ علاؤالدین علی احمد صابر، جب آپ پہنچے بابا صاحب نے فرمایا کہ یہ علی بھی انہیں دونوں علی میں لاحق ہوا، اس وجہ سے علی لاحق خطاب ہوا،

پیدائش[ترمیم]

آپ کی پیدائش کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہیں کہ آپ کس تاریخ کو پیدا ہوئے ۔

سیالکوٹ میں آمد[ترمیم]

ان دنوں سیالکوٹ میں ہندو بادشاہ سلوان کی حکومت تھی۔ اس نے دشمن سے حفاظت کے لیے اتنے محل کے باہر ایک دیوار بنوائی لیکن وہ دیوار کھڑی نہیں ہوتی تھی، اس نے ایک ہندو پندک سے مشورہ کیا پو اس نے کہا کے کسی مسلمان نوجوان کا خون لے کر اس دیوار پر ڈالے۔ یہ ان کی جاہلیت تھی۔ تاہم اس کے محل کے پاس ایک مسلم نوجوان مراد علی شاہ ایک جھیل کے پاس عبادت کر رہا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کو کہہ کر اس کو قتل کرا دیا اور اس کا خون اس دیوار پر ڈال دیا۔ یہ دیکھ کر اس لڑکے کی ماں جس کا نام مائی راستی تھا رونا شروع ہو گئی اور اللہ سے مدد طلب کرنے لگی۔ اسی وفت وہاں حضرت ملک شاہ ولی( رح) حاضر ہوئے اور اس سے تمام مسلۂ دریافت کیا اور اس سے کہا کہ وہ مدینہ چلی جائے وہاں اسے اس مسلئے کا حل ملے گا۔۔۔۔ مائی راستی رونے لگی اور کہنے لگی کہ اس کے پاس اتنے اخراجات نہیں کہ وہ مدینہ جاسکے اس پر حضرت ملک شاہ نے کہا انکھیں بند کرو۔

وفات[ترمیم]

آپ کی 686ھ میں ہوئی، مزار سیالکوٹ میں مرجع خلائق ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]