علی اکبر معین فر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی اکبر معین فر
(فارسی میں: علی‌اکبر معین‌فر ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
وزير بدون وزارت   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
13 فروری 1979  – 29 ستمبر 1979 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
عزت‌ الله سحابی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر پیٹرولیم   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
29 ستمبر 1979  – 2 ستمبر 1980 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
محمد جواد تندگویان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن مجلس ایران   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
28 مئی 1980  – 28 مئی 1984 
حلقہ انتخاب تہران، رے، شمیرانات و اسلامشہر 
معلومات شخصیت
پیدائش 14 جنوری 1928  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 جنوری 2018 (90 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تہران  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت نهضت آزادی ایران  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ واسیدا
جامعہ تہران  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم زلزلیات، مدنی ہندسیات  ویکی ڈیٹا پر تخصیصِ اکادمی (P812) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

علی اکبر معین فر (فارسی: علی‌اکبر معین‌فر‎; 1928[1][2] – جنوری 2018) ایک ایرانی سیاست دان اور ایران کے پہلے وزیر پٹرولیم تھے، اس عہدے پر مختصر عرصے (1979ء سے 1980ء) تک خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں معین فر ایرانی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور 1980ء سے 1984ء تک رکن رہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

معین فر کی پیدائش تہران میں 14 جنوری 1928ء کو ہوئی۔[3] معروف صحافی مہدی معین فر ان کے بھائی ہیں۔[3] معین فر نے زلزلہ شناسی کی تعلیم جاپان سے حاصل کی۔[4][5] وہ اسلامی انجینئرز ایسوسی ایشن کے بانی ارکان میں سے تھے۔[6]

ابتدائی دور[ترمیم]

معینے فر نے محمد رضا شاہ پہلوی کے دور میں منصوبہ بندی اور میزانیہ (بجٹ) میں کام کیا۔[7] ان کے تحریک آزادی برائے ایران سے رابطے تھے، اس تحریک کی قیادت مہدی بازرگان کر رہے تھے۔[7] البتہ، یہ مستقل تعلق نہیں تھا اور نا ہی معین فر نے خود کو اس کا حصہ ظاہر کیا۔[8]

سیاسی دور[ترمیم]

بعد از انقلاب ایران، معین فر شورای انقلاب اسلامی ایران کا رکن بن گئے۔[4][9][10] انہوں نے شوری کے ترجمان کے طور پر بھی کام کیا۔[11] انہیں مرکزی وزیر مہدی بازگان کی سربراہی میں عبوری حکومت کی وزارت میزانیہ (بجٹ) اور منصوبہ بندی کا وزیر بنا گيا۔[12]

وزارت پٹرولیم[ترمیم]

ستمبر 1979ء میں معین فر کو ایران کا پہلا وزیر پٹرولیم بنایا گیا،[13][14] اس عہدے پر وہ 1980ء تک رہے۔[7][15]

پارلیمانی سال[ترمیم]

1984ء تک معین فر پارلیمانی رکن کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1983ء میں اس پارلیمان کے دس ارکان کو نکال دیا گیا تھا۔[16] 1996ء کے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی، لیکن شوریٰ نگہبان نے ان کو رد کر دیا۔[17]

ہجرت[ترمیم]

اس کے بعد معین فر نے ایران چھوڑ دیا۔[18] وہ یورپی ایسوسی ایشن برائے زلزلہ انجینئری کے ایک اعزازی رکن تھے۔[19]

وفیات[ترمیم]

معین فر نے 2 جنوری 2018ء کو تہران میں وفات پائی، 12 دن بعد ان کی نویں سالگرہ تھی۔[2][20]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "درگذشت معین فر؛ اولین وزیر نفت ایران - پیام سرای زندہ 110" (in فارسی)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-03۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. ^ ا ب "تاریخ ایرانی - درگذشت معین‌فر؛ اولین وزیر نفت ایران"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جنوری 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  3. ^ ا ب Hossein Shahidi۔ Journalism in Iran: From Mission to Profession۔ Routledge۔ صفحہ 143۔ ISBN 978-1-134-09391-5۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  4. ^ ا ب Takashi Oka۔ "Japan agonizes over joining West against Iran, USSR"۔ Tokyo۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  5. "Iranian oil officials threatened with purge"۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  6. Ali Ayoubi، مروری بر کارنامہ انجمن اسلامی مهندسین (in Persian) نادرست |=مردہ ربط (معاونت)CS1 maint: unrecognized language (link)
  7. ^ ا ب پ Shaul Bakhash۔ The Politics of Oil and Revolution in Iran: A Staff Paper۔ Brookings Institution Press۔ صفحہ 13۔ ISBN 978-0-8157-1776-8۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  8. Bahman Baktiari۔ Parliamentary Politics in Revolutionary Iran: The Institutionalization of Factional Politics۔ Gainesville, FL: University Press of Florida۔ صفحہ 69۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)  – via Questia (رکنیت درکار)
  9. Hossein Amirsadeghi۔ The Security of the Persian Gulf (RLE Iran A)۔ Routledge۔ صفحہ 264۔ ISBN 978-0-415-61050-6۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  10. Rubin، Barry۔ Paved with Good Intentions (PDF)۔ New York: Penguin Books۔ صفحہ 283۔ مورخہ 21 اکتوبر 2013 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ نامعلوم پیرامیٹر |deadurl= ignored (معاونت); نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  11. "Bani Sadr: US should admit Iran crimes"۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  12. "Iran leader fires national oil firm head"۔ London۔ AP۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اگست 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  13. Hossein Shahidi۔ Journalism in Iran: From Mission to Profession۔ Routledge۔ صفحہ 143۔ ISBN 978-1-134-09391-5۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  14. Hosseini، Mir M.۔ "5 فروری 1979 A.D.: Bazargan Becomes Prime Minister"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولائی 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  15. "Oil chief replaced"۔ Tehran۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  16. Reza Haghighat Nejad۔ ""Put That Gun In Your Pocket!" The 10 Most Embarrassing Moments in Iran's Parliament"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  17. "Human Rights and Parliamentary Elections in the Islamic Republic of Iran". Human Rights Watch 8 (1). مارچ 1996. https://www.hrw.org/reports/1996/Iran.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اگست 2013. 
  18. Annabelle Sreberny-Mohammadi; Ali Mohammadi (جنوری 1987). "Post-Revolutionary Iranian Exiles: A Study in Impotence". Third World Quarterly 9 (1): 108–129. doi:10.1080/01436598708419964. 
  19. "Letter to Giorgio Napolitano" (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 فروری 2013۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  20. "Iran's First Petroleum Minister Ali Akbar Moinfar Dies at 90"۔ Ilna۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جنوری 2018۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

بیرونی روابط[ترمیم]

ویکیمیڈیا العام پر علی اکبر معین فر سے متعلقہ وسیط