فضہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فضہ نوبیہ بادشاہ حبشہ کی بیٹی تھی۔ اور جناب فضہ خاندان اہل بیت علیہ السلام کی گرانقدر کنیزوں میں سے تھیں۔۔۔ جس نے پنجتن پاک کی خدمت گزاری سے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ عبادت الہی کا پورا اہتمام تھا۔[1]

خاتون عصمت، بانوئے عفت، مخدومہ علم، فخر مریم، مریم کبری، سیدہ عالم، خاتون جنت، صدیقہ طاہرہ، عصمت کبری، فاضلہ الزکیہ، الراضیتہ المرضیہ، المحدث العلمیہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت گزاری کے لیے کمر بستہ رہتی تھیں۔ آپ سیرت مطاہرہ کی مالک تھیں اور نفسانی زمائم مکارم اخلاق میں بدل گئے تھے۔

سرکار ختمی مرتبت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت گرامی میں کچھ قیدی آئے۔ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام نے التماس کی اور حضرت خاتون عصمت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے بھی عرض حال کیا تو حضور اقدس نے تسبیح فاطمہ تلقین فرمائی۔ غزوہ خندق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کنیز فضہ نامی جناب فاطمہ زہرا علیہ السلام کو عطا فرمائی۔ سیدہ فاطمہ علیہ السلام فضہ کے ساتھ ایک کنیز کا سا نہیں بلکہ برابر سے ایک رفیق کا سا برتاؤ کرتی تھیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بحارالانوار جلد 9، صفحہ 575
  2. رہنمایان اسلام، تالیف سیدالعلما علی نقی رحمتہ اللہ علیہ