قومی کمیشن برائے وقار نسواں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قومی کمیشن برائے وقار نسواں کا قیام جولائی 2000ء میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام کا محرک پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی معاہدوں اور اعلامیوں یعنی بیجنگ ڈکلریشن اینڈ پلان آف ایکشن اور نیشنل پلان آف ایکشن فاروومن کی توثیق تھی۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ حکومت کی طرف سے عورتوں کی ترقی اور صنفی مساوات کے لئے بنائی جانے والی پالیسیوں اور پروگراموں اور عورتوں پر براہ راست اثرانداز ہونے والے قوانین کا جائزہ لیا جائے۔ اور عورتوں کے حقوق، ان کے استحصال اور ان پر تشدد جیسے معاملات کے لیے کام کیا جائے۔ اس کمیشن میں ایک چیئرپرسن اور تمام صوبوں سے ایک رکن، اور 3 مزید ارکان سیکرٹری قانون، سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری داخلہ شامل ہیں۔

رکنیت[ترمیم]

خاور ممتاز

این سی ایس ڈبلیو صدر نشین پر مشتمل ہے اور تیرہ آزاد ارکان، ترجیحا خواتین، چاروں صوبوں سے دو دو پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا، اور قبائلی علاقہ جات، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد وفاقی دارالحکومت علاقہ سے ایک ایک اور ایک نمائندہ اقلیتون كے حقوق، نیز خواتین کی حیثیت سے متعلق ہر صوبائی کمیشن کے نمائندے، اور مختلف سرکاری وزرا کی نمائندگی کرنے والے پانچ سابقہ ارکان جن میں شامل ہیں; وزارت قانون و انصاف، وزارت خزانہ، وزارت امور خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت انسانی حقوق۔ صدر نشین اور رکن تین سال کی مدت کے لئے مقرر کیے جاتے ہیں۔[1]

صدر نشین[2]
نمبر نام از تا
1. ڈاکٹر۔ شاہین سردار علی 1 ستمبر 2000 22 جولائی 2001ء
2. ڈاکٹر۔ فقیر حسین (قائم مقام) 23 جولائی 2001ء 6 مارچ 2002ء
3. جسٹس (ریٹائرڈ۔) ماجدہ رضوی 7 مارچ 2002ء 7 مارچ 2005ء
4. ڈاکٹر۔ ارفع سیدہ زہرا 2 فروری 2006ء 1 جنوری 2009ء
5. انس ہارون 25 جنوری 2009 26 مارچ 2012ء
6. خاور ممتاز (پہلی مدت) 1 جنوری 2013ء 31 دسمبر 2015[3]
7. خاور ممتاز (دوسری مدت) 31 اکتوبر 2016ء 30 اکتوبر 2019ء
موجودہ ارکان (جون 2020-جون 2023)[4]
نمبر نام صوبہ/علاقہ/دیگر
1. صاحبزادی مدحیہ سلطان آزاد کشمیر
2. فاطمہ اقبال بلوچستان
3. ریحانہ بی بی خلجی بلوچستان
4. سوسان آزاد گلگت بلتستان
5. روبینہ ناز خیبر پختونخوا
6. عائشہ عظیم اسلام آباد (وقافی علاقہ)
7. ڈاکٹر کنول آفریدی خیبر پختونخوا
8. شائستہ بخاری پنجاب
9. روحی سید پنجاب
10. حبیبہ حسن سندھ
11. حیا ایمان زاہد سندھ
12. پروفیسر۔ (ڈاکٹر۔) سارہ صفدر خیبر پختونخوا / اقلیتی رکن

سابقہ ارکان[ترمیم]

2016 – اکتوبر 2019[5]
نمبر نام صوبہ/علاقہ/ديگر
1. فاطمہ اقبال آزاد کشمیر
2. قاریہ اقبال ترانہ صدر نشین، آزاد کشمیر (اے جے کے سی ایس ڈبلیو)
3. ثنا درانی بلوچستان
4. رخسانہ احمد علی بلوچستان
5. علی بیگم فاٹا
6. بی بی نابت علی گلگت بلتستان
7. ڈاکٹر ہما قریشی اسلام آباد
8. مسرت قدیم اسلام آباد
9. ڈاکٹر مریم بی بی خیبر پختونخوا
10. نیلم تورو صدر نشین، خیبر پختونخوا (کے پی سی ایس ڈبلیو)
11. سہیل اکبر وڑائچ پنجاب
12 فریدہ شہید پنجاب
13. فوزیہ وقار صدر نشین، پنجاب کمیشن برائے خواتین
14. کوثر ایس خان سندھ
15. ڈاکٹر مصباح قریشی سندھ
16. ڈاکٹر مصباح قریشی سندھ
17. کلپنا دیوی سندھ / اقلیتی رکن

سابقہ ارکان[6][ترمیم]

(2013–2016)[7]
نمبر نام صوبہ/خطہ/دیگر
1. نصرت شاہین آزاد کشمیر
2. کشور ناہید اسلام آباد (وقافی علاقہ)
3. زینب عصمت فاٹا
4. سعدیہ دانش گلگت بلتستان
5. جسٹس مہتا کیلاش ناتھ کوہلی بلوچستان
6. شیریں گل بلوچستان
7. زبیدہ نور خیبر پختونخوا
8. سعدیہ قاسم شاہ خیبر پختونخوا
9. عظمی نورانی سندھ
10. محمد جان اوڈہانو سندھ
11. سارہ افظل تارڑ پنجاب
12 تنویر جہاں پنجاب

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Chairpersons, NCSW NCSW official website. Retrieved 22 اکتوبر 2020
  2. Junaidi، Ikram (2016-10-06). "Khawar Mumtaz to head NCSW again". DAWN.COM (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 09 دسمبر 2020. 
  3. "Cabinet to amend laws to appoint heads of institutions". The Nation (بزبان انگریزی). 2020-05-13. اخذ شدہ بتاریخ 07 دسمبر 2020. 
  4. "Ministry of Human Rights". www.mohr.gov.pk. اخذ شدہ بتاریخ 03 دسمبر 2020. 
  5. "NCSW Annual Report, bionote of its members". NCSW. 
  6. "Annual report NCSW, bionote of members". NCSW.